گزری شب کا سبق
پاکستان کی قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی ہے اور اب وہ وزیراعظم پاکستان نہیں رہے۔ اگرچہ یہ سلسلہ بڑے ڈرامائی انداز میں چلتا رہا لیکن اس کا اختتام ملک میں جمہوریت کے لئے اچھا شگن نہیں۔ اس اختتام سے ایسا لگتا ہے ملک پر کچھ خاندان بلکہ کچھ افراد ہی ہمیشہ حکومت کرتے رہیں گے۔ اس تحریک کے حق میں 174 ارکان نے ووٹ دیے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔ کئی پاکستانی اسے جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب عمران خان کے حامی جہاں انتہائی افسردہ اور مایوس ہیں وہیں وہ دوبارہ ان کے اقتدار میں آنے کے لیے پر امید بھی نظر آئے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عمران خان کے حق میں مظاہروں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔
عمران خان سے ان کے اقتدار میں بھی اور اقتدار میں آنے سے قبل بھی کئی غلطیاں ہوئیں جس کے باعث شاید انہیں مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔ ان کی سب بڑی غلطی کنٹینر پر کھڑے ہو کر وہ باتیں کرنا تھیں جن کی تکمیل آسان نہ تھی۔ عمران خان کی ان باتوں کی وجہ سے عوام کو ایسا لگا کہ شاید عمران کان انتہائی نا اہل شخص ہیں یا وہ اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں۔ انہیں اپوزیشن کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے کپتان کی مردہ سیاست میں جان ڈال دی۔
عمران خان کی دوسری غلطی نوجوانوں کے بجائے الیکٹیبلز جنہیں حرف عام میں کیا کہتے ہیں سب جانتے ہیں پر اعتماد کرنا تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ عمران خان نظریاتی ایجنڈے پر چلتے رہتے اور نئے اور بے داغ ماضی والے چہروں کو سامنے لاتے۔ عمران خان سے تیسری غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے مبینہ طور پر جماعت اسلامی سے ہونے والے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی انہیں ساتھ لے کر نہیں چلے اور ایک اچھے اتحادی سے ہاتھ دھو کر ایم کیو ایم اور ق لیگ جیسی برساتی جماعتوں کو اپنا اتحادی بنا لیا۔
یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ عمران خان نے اپنے دور میں کچھ نہیں کیا۔ لیکن ستر سال کا بگاڑ ایک نیا بندہ اتنی جلدی ختم نہیں کر سکتا وہ بھی ایسی ٹیم کے ساتھ جو اس بگاڑ کا حصہ رہی ہو۔ بہرحال بین الاقوامی قرضہ واپس کرنا، روس سے بہتر تعلقات قائم کرنا، امریکا کو آنکھیں دکھانا، ڈرون حملوں پر سمجھوتا نہ کرنا، اپنے لوگوں کو دوسرے ممالک کے حوالے نہ کرنا، انصاف صحت کارڈ کا اجرا کرنا، احساس پروگرام کو شروع کرنا، وزیراعظم ہاؤسنگ پروجیکٹ، کورونا کی وبائی صورتحال میں ملک کا دیوالیہ نہ ہونے دینے، بلین ٹری سونامی، عالمی سطح پر حضور ﷺ کی ناموس کی بات کرنا، اسلامو فوبیا کی جانب دنیا کی توجہ دلانا، مسلم ممالک کو پاکستان میں اکٹھا کرنا اور اس جیسے کئی اور ایسے کام ہیں جو عمران خان کو باقیوں سے ممتاز کرتے ہیں لیکن ان کی غلط پالیسی، دوستوں میں چھپے دشمن انہیں ان سب کے باوجود لے ڈوبے۔
عمران خان اب ایک بار پھر اپوزیشن کا آغاز ادا کر رہے ہیں۔ واضح رہے عمران خان کو حکومت کا تجربہ نہیں لیکن اپوزیشن کا انہیں خاصہ تجربہ ہے۔ انہیں اس تجربے کو بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہو گا۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ علی محمد خان، قاسم سوری اور اسد قیصر جیسے دوست سیکڑوں الیکٹیبلز سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اب کی بار انہیں خوشامد کرنے والوں اور ماضی کے گندے انڈوں سے دور رہنا ہو گا۔ انہیں مکمل طور پر اپنے نظریاتی کارکنان اور نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ انہیں ہی میدان میں لانا ہو گا اور انہیں پر تکیہ کرنا ہو گا۔ عمران خان کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ وہ کس کس کے ہاتھوں کہاں کہاں استعمال ہوئے۔ اب کی بار انہیں استعمال ہونے سے بھی بچنا ہو گا۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں کوئی بھی جماعت خودمختار اور تنہا حکومت نہیں بنا سکتی۔ شہباز شریف جس حکومت کو قومی حکومت کا نام دے رہے ہیں دیکھنا یہ ہے وہ قوم کے لئے کتنے دن ایک رہتے ہیں؟ اور کس حد تک وہ مہنگائی کا خاتمہ کر پاتی۔ اصل کھیل تو تب شروع ہو گا جب مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہو گا اور انہیں نہ ہی صدارت ملے گی اور نہ ہی کے پی میں حکومت۔ عمران خان کو بھی اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ انہیں بھی ایک بار پھر ایوان میں اپنی طاقت دکھانے کے لئے کسی نہ کسی سے پھر اتحاد کرنا ہو گا لیکن اب کی بار اتحاد مفاد پرستوں سے نہ کیا جائے۔
یہ اتحاد الیکشن کے بعد بھی نہ ہو اور نہ ہی اس بار کسی کے جہاز یا مبینہ اے ٹیم ایم کا سہارا لیا جائے۔ بار بار کہنے کے بعد ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ عمران خان کو ان لوگوں سے ہاتھ ملانا ہو گا جن کا ماضی بے داغ یا کم داغدار ہے۔ عمران خان کو الیکشن سے قبل ہی جماعت اسلامی، پی ایس پی اور فاروق ستار سے رابطہ کرنا ہو گا۔ مولانا سمیع الحق کے فرزند بھی عمران خان کے کام آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افراد جو زیادہ سیاسی اہمیت تو نہیں رکھتے لیکن کہیں نہ کہیں ان کے پاس کچھ نہ کچھ ووٹرز ہیں جن میں جواد احمد، شہیر سیالوی وغیرہ شامل ہیں کو بھی ساتھ بٹھانا ہو گا اس سے بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ہو ہی جائے گا۔ جماعت اسلامی کے علاوہ باقیوں سے ایک یا دو سیٹوں پر ہی ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگی اور وہ مان جائیں گے۔ جماعت اسلامی جیسے اہم اتحادی کو منانا عمران خان کے لئے اہم ہے۔ جماعت کے پاس اسٹریٹ پاور بھی ہے اور دیگر جماعتوں کا سامنا کرنے کی اہلیت بھی۔
اپنے نظریاتی کا رکنا اور مخلص اتحادیوں کو ساتھ ملا کر عمران خان ایک بار پھر سڑکوں پر اور انتخابات میں سب کر سرپرائز دے سکتے ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں اور گزری شب سے اگر عمران خان نے سبق حاصل نہ کیا تو ان کی سیاست یہیں ختم ہو جائے گی۔ اگر وہ اپنی سیاست اور بقول ان کے پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ماضی سے سیکھنا ہو گا اور اگر انہوں یہ اس سبق کو توجہ سے پڑھ لیا اور سمجھ لیا تو اب کی بار کا سرپرائز بہت بڑا ہو گا۔


