عمران خان کی آخری بال اور شہباز شریف کے چھکے

پورا پاکستان شہباز شریف کو جانتا ہی نہیں بلکہ بچہ بچہ چھوٹے میاں صاحب کے کام کرنے کے اسٹائل سے واقف ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کو یہ بھی پتہ ہے کہ کون سی بال روکنی ہے اور کون سی بال پر چھکا مارنا ہے وہ اچھے بیٹسمین ہیں، سابق وزیراعظم جیسا کہ آخری گیند تک کھیلتے رہے ادھر شہباز شریف نے ٹاس جیت کر اوپنر آ گئے۔ اوپنر آنے کے بعد سب سے پہلے فیلڈنگ سلیکٹ کر رہے ہیں کہ کون سا کھلاڑی کہاں درست فیلڈنگ کرے گا۔ بیوروکریٹس، دفاتر کے ٹائم شیڈول، میں ردو بدل کر کے پوزیشن سنبھالنے کے لیے حکم دیے۔ سابق وزیراعظم عمران خان خود کپتان تو ہیں لیکن ان کے پاس فیلڈ کرنے والے کھلاڑی نہیں، ہاں ان کے پاس کمنٹری کرنے والے کھلاڑی ہیں جو کہ فیلڈ میں کچھ نہی کر سکتے، نہ تو وہ اچھے باولر ہیں اور نہ ہی کوئی کیچ کر سکتے ہیں۔ بیٹنگ میں بھی صفر سکور بناتے نظر آتے ہیں۔
ٹورنامنٹ شروع ہوا تو ان کے کتنے کھلاڑی ٹیم سے باہر نکل گئے، دوسری ٹیم کے ساتھ مل گئے اس لیے کھلاڑیوں کا پختہ ہونا اور اپنے اپنے شعبے میں ماہر ہونا اہمیت کا حامل ہے۔
شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہی فیلڈز پر نظر ہے سیکرٹریز کو بھی چینج کر دیا وزارتوں کے قلمدان بھی اچھا کھیلنے والوں کو سونپ دیے گئے۔ یعنی وہ آل راونڈر ہیں، یعنی سیاست کے ہر پہلو پر مخلص اور پارٹی پالیسی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، یعنی ٹیم ہار بھی رہی ہو تو فیلڈ پر ڈٹے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے تنخواہیں بڑھانے کا اعلان، پی ٹی اے موبائل ٹیکس ختم کرنے جیسے اعلانات کیے، بے شک ابھی کوئی عمل نہیں ہوا۔ فی الحال تماشائیوں کو جوش دلانے کے مترادف ضرور ہے۔ تنخواہ بڑھانے کا اعلان اور بعد میں نون لیگی بیٹسمین نے آہستہ سے یہ کہہ دیا کہ بجٹ پر دیکھیں گے۔ یعنی کھلاڑیوں کی کوریج کپتان کے لیے حوصلہ بڑھاتے ہیں۔
وزیراعظم کے کچھ اعلانات سے تماشائی خوش اور کچھ ناراض بھی ہیں جیسا کہ ہفتہ میں چھ دن کام شروع کرنے کا اعلان۔ یعنی جو لوگ دو چھٹیاں کرتے تھے وہ روتے ہوں گے ۔ اور پٹرول کی قیمت میں ردو بدل اور چینی کی قیمت بڑھانے پر عوام پریشان۔
وزیراعظم اگر اپنے اعلانات کے مطابق پی ٹی اے یعنی موبائل پر ٹیکس ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو واقعی یہ اوورسیز کیمونٹی کے لیے ایک تحفہ ہو گا جو کہ سابق وزیراعظم نے اوورسیز کیمونٹی کے گلے میں خوامخواہ پھندا ڈالا تھا۔ متعدد بار سابق حکومتی حکمرانوں کو میں نے خود کہا تھا کہ یہ ٹیکس اوورسیز کیمونٹی پر جگا ٹیکس ہے ختم کیا جائے لیکن وہ ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے۔ بلکہ ان کے پاس دلیلیں موجود تھیں۔ اس لیے اوورسیز کو ریلیف دینے میں ناکام رہے۔ آج سوشل میڈیا پر موبائل ٹیکس ختم کرنے پر جنتا خوش نظر دکھائی دے رہی تھی۔ اوورسیز کیمونٹی کے لیے یہ ٹیکس ختم کر کے مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہباز شریف کے اس قدم کو بہترین کھلاڑی سمجھیں گے۔ آج سارا دن لوگ ایک دوسرے کو کہتے رہے موبائل پر ٹیکس ختم ہو گیا۔
اسی طرح تنخواہ والے بھی ایک دوسرے کو فون کر کے بتاتے رہے دوسری طرف لوگوں نے تنقید بھی کی کہ یہ جھوٹ بولا جا رہا ہے، اب بیٹسمین پر ہے کہ بال ضائع کرتا ہے، چھکا مارتا ہے، یا سنگل بنائے۔
دوسرا اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو جو کوئی بھی گورنمنٹ میں آیا، حل کرنے کے دعوے کرتا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ آپ کے پاس ایک سنہری موقع ہے، اوورسیز کیمونٹی کو، فوری شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اور دوسرے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اعلانات نہیں عملاً کام کیے جائیں تو اوورسیز پاکستانی کمیونٹی شہباز شریف کو بہترین کپتان مان سکتی ہے۔
ائرپورٹ پر اوورسیز کیمونٹی کو تنگ کیے جانے والے مسائل پر توجہ دی جائے تو شاید ان کی منفی سوچ کو مثبت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اچھے تماشائیوں کی تعداد میں اچھا خاصا اضافہ ہو سکتا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے نائکوپ کارڈ رکھنے والوں کو پاکستان کے تمام دفاتر یعنی بنکوں، پراپرٹیز، مختلف سرکاری دفاتر میں اوورسیز پاکستانی تسلیم کرتے ہوئے حاضری کے لیے نہ کہا جائے۔ سینکڑوں کی تعداد میں شکایات لوگ ہائی کمیشن کی کھلی کچہری میں رجسٹرڈ کرواتے ہیں لیکن کھلی کچہری ایک خانہ پری کر کے اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔
میاں صاحب جب آپ جب لندن آئیں تو اوورسیز کیمونٹی آپ کے لیے ہار لے کر استقبال کرے، ان کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے۔ آپ کے کاموں کی وجہ سے مثبت ہو سکتے ہیں، آپ کے اس دور میں ایک آ چھا موقع ہے۔ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
میں زیادہ تو نہیں کہتا کم از کم آپ تماشائیوں کے دل جیت سکتے ہیں۔ پھر اگر آپ چھ کی چھ بال ضائع بھی کر دیں گے تب بھی یہ قوم آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ ہاں اگر آپ نو کال پہ نو کال کریں گے اور مفت کا سکور دیتے رہیں گے تو جنتا پریشان ہو جائے گی اور یقین اٹھ جائے گا۔ لہٰذا جو بھی اعلان فرمائیں اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ آپ کا کوئی کھلاڑی بعد میں اس سٹیٹمنٹ کی نفی نہ کر سکے جیسا کہ آج تنخواہ والے بیان پر یو ٹرن لیا ہے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ میں زیر بحث آئے گا۔ لہٰذا وکٹ پر درست سمت کھیلنا ہی پورے اوور کھیل سکیں گے۔
باقی آپ ہمارے ملک کے وزیراعظم ہیں، آپ کو یہ عہدہ مبارک ہو۔ یہ عہدے اللہ تعالی ہی دیتا ہے، انسان کسی کو نہی دے سکتا۔ تو آپ یوں سمجھئیے کہ ایک بار پھر اللہ نے آپ کو منتخب کر لیا ہے۔ اور پاکستانیوں کو چاہیے کہ تہہ دل سے ویلکم کریں تاکہ ہمارا ملک ترقی کی طرف گامزن ہو سکے۔ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی میں حکمت ہے اور وہی خدا ہے جو حکمت والا ہے۔ جس کو چاہے بادشاہی دیتا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو امین

