سیاسی اختلاف کے باعث مسجد پر حملہ اور سیاسی فاشزم

خبر ہے کہ رانی ضلع دیر لوئر میں پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کے درمیان سوشل میڈیا کی لڑائی نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے، جس میں گولیاں بھی چلی ہیں اور زخمیوں کو پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ آج ہی عین افطاری کے وقت میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے ورکر نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نور عالم خان، ندیم افضل چن وغیرہ پر آوازیں کسیں، جس سے طرفین میں ہاتھا پائی اور باقاعدہ مار کٹائی بھی ہوئی۔
کل پرسوں تیمر گرہ ضلع دیر لوئر میں تحریک انصاف کے کارکنان نے جلسہ کے بعد مسجد اور مدرسہ میں گھس کر طلباء اور اساتذہ پر تشدد کیا اور مسجد کے تقدس کو پامال کیا۔ اسی دن واڑی ضلع دیر بالا میں تحریک انصاف کے کارکنان نے عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے جھنڈوں کو اتار کے پھاڑ دیا اور اس کی بے حرمتی کی۔
ملک کے باقی حصوں سے بھی اس طرح کے ناخوش گوار واقعات کی اطلاعات ہیں۔ فوج، آرمی چیف، اور عدلیہ کے خلاف براہ راست نعرے لگانا اور گالیاں تک دینے کی ویڈیوز بھی زیر گردش ہیں۔
یہ انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک صورت حال ہے۔ سیاست میں رواداری اور برداشت بالکل ختم ہوتی جا رہی ہے اور الزامات لگانا، جھوٹ باندھنا، پروپیگنڈے کرنا اور علانیہ گالیاں دینا باقاعدہ ایک کلچر بنتا جا رہا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی کلچر اوپر ہی سے نیچے منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ لیڈرشپ کے رویے، طرز عمل اور اخلاق کو کارکنان فالو کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں انتہاپسندی کا عنصر شامل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی کی ٹاپ لیڈر شپ کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے جس کا اثر براہ راست ان کے فالورز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہم مودبانہ گزارش کریں گے کہ خدارا، پاکستانی معاشرے کو مزید تقسیم در تقسیم کرنے سے بچا لیجیے اور اپنے سیاسی مقاصد کے لئے نئی نسل کو نفرتوں اور تعصب کی بھٹیوں میں جھونکنے سے احتراز کیجئے۔
یاد رکھئے مکافات عمل کو بھی دیکھنا قانون قدرت ہے اور عمل کا ردعمل بھی ایک فطری عمل ہے۔ جو فصل بوئی جاتی ہے اس کا پھل سب کو ہی مل جایا کرتا ہے۔ اگر پوری سیاسی فضا مکدر ہو جاتی ہے تو سانس لینا سب کے لئے مشکل تر ہوتا جائے گا۔
خدارا،
نئی نسل اور دوسروں کے بچوں پہ رحم کیجئے۔
نوجوانوں سے یہی گزارش ہے کہ خدا کے لیے مفادات کی جنگ میں اپنے اپ کو جھونکنے کی حماقت مت کیجئے۔ خدا کی قسم یہ سب مفادات کا جھگڑا ہے اور بڑے پیمانے پر جھوٹ اور پروپیگنڈے کی طاقت پر اذہان و قلوب کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب ایک ہی سیاسی کلب کے ممبران ہیں اور ایک ہی گھاٹ سے پینے پر متفق اور خوش ہیں۔ سیاسی وابستگی ضرور رکھیے لیکن انتہاپسندی سے دور رہئیے۔ جذبات کی بجائے عقل و شعور سے کام لیجیے۔ باہمی احترام، عزت، رواداری، صبر، برداشت، تہذیب اور شائستگی بہترین اخلاقی اوصاف ہیں اس سے اپنے اپ کو مزین کیجئے گا۔ اخلاق حسنہ اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، اسے پانے کی جستجو، محنت اور دعائیں کیجئے گا۔

