کیا پاکستان میں حکومت تبدیل ہوئی ہے؟


نہیں۔ وزیراعظم کا نام تبدیل ہو گیا ہے۔ وزیروں کے نام بھی مختلف ہوں گے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت تبدیل ہو گئی ہے۔ ہمارے بنیادی مسائل جیسا کہ اداروں کے درمیان طاقت کا عدم توازن، اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کی ضرورت اور پاکستانی شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا سیکیورٹی کے ماتحت ہونا، سب کچھ تو ویسا ہی ہے جیسا عمران کے دور میں تھا۔ مینجمنٹ کچھ بہتر ہو جائے گی اور گالی گلوچ میں بہت کمی آ جائے گی کیونکہ عمران حکومت سے بدتر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن گورننس ویسی ہی رہے گی۔ اس کولیشن گورنمنٹ نے ترجیحات بدل کر حقیقی عوامی مسائل کے مطابق کرنے کی کوئی بات ہی نہیں کی۔

تعلیم صحت اور انسانی حقوق پہلے ترجیح تھے نہ اب ہیں۔ اس لیے ان اہم شعبوں کے لیے معاشی وسائل کی شدید کمی رہے گی۔ تمام بچوں کی تعلیم تک رسائی اور تعلیم کا معیار شاید ہی کبھی زیربحث بھی آئیں۔ مطالعہ پاکستان اور باقی تعلیمی نصاب کے ذریعے جہالت قائم رکھی جائے گی تاکہ دشمنی اور سازشی تھیوریاں بیچنے میں آسانی رہے۔ نوجوان بغیر سوچے سمجھے یا کوئی سوال کیے یونہی تشدد کے راستے سراب کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ ہسپتالوں کی حالت زار اور بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کی جانب کسی کا دھیان ہے نہ اس کے لیے وسائل مختص کیے جائیں گے۔ غرض کہ ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ہائبرڈ نظام میں جو بھی نیا وزیراعظم آتا ہے کچھ عرصہ اس میں اپنے ماتحتوں کی ماتحتی اور خوشامد کرنے کی توانائی ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے میری کیوں بگڑے کی فوج سے جب میں نے کسی بات پر انکار کرنا ہی نہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ خواری برداشت کرنے کی وہ توانائی باقی نہیں رہتی اور حقیقی معنوں میں وزیراعظم بننے کی کوشش کرتا ہے اور اس کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن اسی دن کا انتظار کر رہی ہوتی ہے کہ ”پیج پھٹے“ اور کوئی چانس نکلے۔ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ماتحت کام کرنے کی تین ناکام کوششیں کیں۔ بے نظیر نے بھی دو ناکام کوششیں کیں۔ پی پی پی کی تیسری حکومت نے مدت تو پوری کی لیکن صرف مدت ہی پوری کی۔ وزیراعظم قربان ہوتے رہے۔ اب شہباز شریف نے نواز شریف کو مجبور کیا کہ غلام وزیراعظم کی ایک اور ٹرائی کر لینے دیں۔

کسی وزیراعظم کو نوکری سے نکالا اس لیے نہیں جاتا کہ اس کی کارکردگی اچھی نہیں ہوتی یا وہ کرپٹ ہوتا ہے۔ بلکہ نافرمانی کی سزا دی جاتی ہے۔ یوسف رضا گیلانی سخت تنگ آئے ہوئے تھے اور اسمبلی کے فلور پر کہہ بیٹھے کہ ”کیا اسامہ کو ویزہ میں نے دیا تھا“ ۔ نواز شریف نے تو ترجیحات درست کرنے کی بہت عمدہ بات کی تھی؛ افغانستان، انڈیا اور گڈ طالبان کے ایشو کو چھیڑ بیٹھے تھے۔ عمران اگلے الیکشن میں دوبارہ ”سلیکٹ“ ہونا چاہتے تھے اور نافرمانی کر بیٹھے۔ تینوں کی نوکریاں نافرمانی پر گئیں۔

نواز شریف کو حکومت سے باہر کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے عمران کو استعمال کیا تھا۔ عمران بھی استعمال ہو کر بہت خوش تھا۔ اب عمران کی حکومت ختم کرنے کے لیے شہباز شریف اور کمپنی بہت خوشی سے استعمال ہو گئے۔ یہ سلسلہ جب تک جاری رہے گا تب تک پاکستان اور عوام کا یہی حال رہے گا۔ بلکہ ہر آنے والا سال پہلے سے زیادہ برا ہو گا، حکومت کے دفتروں میں سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو، غربت ویسی ہی رہے گی بلکہ بڑھے گی کیونکہ ہر اگلے سال قرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ دفاع کا بجٹ بڑھے گا (یہ زیادہ تر بڑے اور خراب قرضے بھی دفاع کی غلط پالیسی ہی کی خاطر ہیں اس لیے وہ بھی اصل میں دفاع کا بجٹ ہی سمجھنا چاہیے ) ۔

عمران کو اس کی نافرمانی کا سبق سکھا کر اسٹیبلشمنٹ اور بھی زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی وہی ترجیحات جاری رہیں گی۔ ہمسایوں سے دشمنی جاری رہے گی۔ ملک کے اندر سیاسی مسائل کے فوجی حل نکالنے کی کوشش میں انہیں مزید پیچیدہ بناتے رہیں گے۔ بنیادی انسانی حقوق کی صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ ویگو ڈالے آئین اور قانون کو یونہی روندتے رہیں گے۔ ووٹ کی توہین جاری رہے گی۔ الیکٹ ایبلز یعنی سیاسی بہروپیوں کے سیاسی پارٹیوں میں آنے پر لوگ تالیاں بجائیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ جو یہ تحفے بھیج رہا ہے وہ واپس بھی بلا سکتا ہے۔ بین الاقوامی صورت حال اور پاکستان کی معاشی صورت حال اس قابل نہیں کہ ٹی وی پر آ کر ”میرے عزیز ہم وطنو“ کو براہ راست کوئی خوش خبری دی جا سکے تو بالواسطہ طریقہ ہائبرڈ نظام کا نکالا گیا جو اچھا چل رہا ہے۔ حکومت بہرحال تبدیل نہیں ہوئی۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik