کامیڈین پروفیسر شہباز گل کا دبنگ مطیع اللہ جان سے مکالمہ


بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو جنگل کی خیر نہیں ہوتی، اسی طرح اگر سوشل میڈیا ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جائے جو انتہا کے جذباتی اور توہم پرستانہ قسم کی روایات کے امین ہوں تو وہ دنوں میں جذبات کی آگ کو بڑھاوا دے کر معاشروں کو تاریکی میں دھکیل دیتے ہیں۔ جذباتی قسم کے گھوسٹ دانشور اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی خاطر نظریاتی کنفیوژن پیدا کرنے کی خاطر ”آکسیمورون یا صنعت تضاد“ کا سہارا لے کر ایسا پراسرار قسم کا سسٹم آف تھاٹ تخلیق کرنے کی سعی کرتے ہیں جن کی بھول بھلیوں میں معصوم عوام الجھے رہتے ہیں اور ایسا کرنے کے پیچھے ان کا مقصد عوام کی نظر بندی کرنا اور سوچ کے زاویوں کو محدود بنانا ہوتا ہے، اور جب تک عوام کو سمجھ لگتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور معاشرتی مداری اپنا حصہ وصول کرچکے ہوتے ہیں۔

ہم جیسوں کو ”شاہین یا سپر مین“ جیسے تصورات سے بہلا کر آخرت کا تو پتہ نہیں مگر دنیا میں انٹرنیشنل اسٹیٹس حاصل کر کے کسی بھی یورپی ملک میں اپنے حصے کی جنت حاصل کر کے بڑے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ مگر ہم جذباتی بونوں کا کیا؟ جو ہر وقت مفاد پرست مسیحا کے ہاتھوں یرغمال بننے کو تیار رہتے ہیں اور ان کی خاطر اپنی روکھی سوکھی لٹا کر خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ عجیب رسم چل نکلی ہے وطن عزیز میں کہ ہمیں وہ لوگ امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگانے پر اکسا رہے ہیں جن کا مستقبل ہی امریکہ سے جڑا ہوا ہے اور بچے بھی امریکہ میں تعلیم پا رہے ہیں۔

کمال حیرت ہے کہ ریلیوں اور جلسوں میں عوام کے منہ سے یہ کہلوایا جا رہا ہے کہ ”جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے“ مگر خود؟ مطیع اللہ جان شہباز گل سے یہ درخواست کرتا ہے کہ اگر آپ اس موقف پر قائم ہیں کہ امریکہ نے آپ کے مسیحا کے خلاف سازش کی ہے تو پھر کیمرے کے سامنے آ کر امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا دیں۔ اس مطالبے کو پورا کرنے کی بجائے پروفیسر صاحب نے کامیڈی شروع کر دی اور نعرہ لگانے سے باز رہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ موصوف نے اب امریکہ لوٹ کر اپنی روزی روٹی جو ایک یونیورسٹی سے منسلک ہے کا بندوبست کرنا ہے۔

یہ ملک تو ایک طرح سے ان کا پلے گراؤنڈ ہے جہاں کچھ عرصہ تفریح کر کے پھر سے لوٹ جاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو  لے لیں، کیا آپ نے کبھی ان کے منہ سے امریکہ مردہ باد کا نعرہ سنا ہے؟ ایک صحافی نے ان سے کہا کہ شاہ صاحب آپ کے بقول آپ کی حکومت کے خلاف امریکی سازش ہوئی ہے تو کیا آپ امریکہ مردہ باد کا نعرہ بلند کر سکتے ہیں؟ شاہ جی کا فرمانا تھا کہ میں ایک ذمہ دار پوسٹ پر براجمان ہوں اور مجھے اپنے منصب کے مطابق لفظوں کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔

تو جناب یہ ہے ہماری اشرافیہ کا حقیقی چہرہ، جو اپنے موقف میں ہزاروں ”قومے اور فل سٹاپ“ کا سہارا  لے کر پورے معاملے کو ہی کیمو فلاج کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہتے ہیں۔ یہ وہ چلاک قسم کے دماغ ہیں جو بڑے اچھے سے جانتے ہیں کہ سازش ہمیشہ انیس بیس کے فرق کے درمیان ہوتی ہے نا کہ زیرو اور ہنڈریڈ کے درمیان۔ ہاتھی کو کیا پڑی چڑیا کے خلاف سازش کرنے کی؟ ہاتھی ہمیشہ اپنے مدمقابل سے ہی مقابلہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ازل سے یہی طاقت کا اصول ہے۔

جب یہ چالاک دماغ اقتدار میں ہوتے ہیں تو خوب اسٹوری ٹیلنگ کرتے ہیں مگر جیسے ہی اقتدار سے آؤٹ ہوتے ہیں تو تلخ سوال کے جواب میں ”نو کمنٹس“ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ شہزاد اکبر سے جب مطیع اللہ جان نے ہائی کورٹ اسلام آباد کے احاطے میں راز و نیاز کرنے کی کوشش کی تو موصوف نو کمنٹس کا سہارا لے کر چلتے بنے۔ دراصل نو کمنٹس وہ ”نو گو ایریا“ ہوتا ہے جہاں عوام کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ موجودہ وقت میں خان صاحب کے جانے کے بعد ایک خوفناک قسم کا رجحان فروغ پانے لگا ہے، جس میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا بریگیڈ عمران خان کو ”ڈیوائن رائٹ آف کنگ“ کے مرتبے پر فائز کرنے میں مصروف عمل ہے اور سیاست میں ”فرقہ عمرانیہ“ کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو اس فرقہ پر ایمان لائے گا وہ وفادار اور جو نہیں لائے گا وہ غدار اور نمک حرام تصور ہو گا۔ خدانخواستہ یہ رسم چل نکلی تو ہمیں تاریک دور میں جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ سازش کا یہ جال واقعی امریکہ نے ہمارے خلاف بنا ہے یا تحریک انصاف نے اپنی حکومت کی کارکردگی کو چھپانے اور اس پر لگے ہوئے لاتعداد دھبوں کو دھونے کے لئے امریکہ اور مذہب کا سہارا لیا ہے تاکہ عوام کی نظریں اپنی محرومیوں پر پڑنے کی بجائے اپنے مسیحا کے تحفظ میں لگ جائیں؟

کیونکہ ماؤنٹ ایورسٹ قسم کے بلند و بانگ دعوے جوان ساڑھے تین سالوں میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں ان کا توڑ کرنے کے لئے کچھ بڑا کرنے کی ضرورت تھی؟ ممکن ہے اسی لیے یہ سارا چکر چلایا گیا ہو؟

Facebook Comments HS

One thought on “کامیڈین پروفیسر شہباز گل کا دبنگ مطیع اللہ جان سے مکالمہ

  • 15/04/2022 at 10:31 صبح
    Permalink

    بہت اعلی ترین تجزیہ۔ بہت شکریہ

Comments are closed.