تحریک انصاف کے اراکین کے استعفوں سے متعلق صورتحال کیا ہے؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صدر آصف زرداری نے جیو ٹی وی کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ کوشش کریں گے تحریک انصاف کے ارکان اپنے استعفے واپس لے لیں۔
بدھ کو سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف والوں کے استعفے منظور ہو گئے تو پھر وہ بھی اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے اور وہ بھی مستعفی ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا مگر ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان اراکین کے استعفوں سے متعلق بات کہاں پہنچی ہے۔
کیا یہ استعفے قبول کر لیے گئے ہیں اور یہ کہ تحریک انصاف کے کل کتنے ارکان قومی اسمبلی نے اب تک اپنے استعفے دیے ہیں؟
تحریک انصاف میں استعفوں سے متعلق اختلافات کی خبروں کے بعد عمران خان نے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ سنایا تو اراکین کی بڑی تعداد نے اپنے استعفے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر کو جمع کرا دیے جنھوں نے مزید کارروائی کے لیے انھیں پارٹی کے جنرل سیکریرٹری کے حوالے کر دیا۔
تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضابطے کے تحت انھیں استعفے جمع کرائے گئے تھے جس کے بعد انھوں نے یہ استعفے ایوان کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو جمع کرا دیے تھے جنھیں ان کے مطابق ڈپٹی سپیکر نے منظور کر لیا ہے۔
اس سے پہلے تحریک انصاف کے سینئیر رہنما فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی ایم این ایز کے استعفے ڈپٹی سپیکر منظور کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی کی سیٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اب تک اس عہدے سے مستعفی نہیں ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن
عامر کیانی کے مطابق اب یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارروائی کو آگے بڑھائے۔
ادھر الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ابھی تک کمیشن کو سپیکر آفس سے کسی کے استعفے کی تصدیق موصول نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کسی بھی رکن کو صرف اس صورت میں ہی ڈی نوٹیفائی کر سکتا ہے جب سپیکر کی طرف سے اس حوالے سے معلومات شئیر کی جاتی ہیں۔
استعفے دینے والوں کی تعداد
واضح رہے کہ حال ہی میں حکومت کھونے والی پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق اُن کی کل نشستوں کی تعداد 155 ہے جن میں جنرل نشستوں پر کامیاب ہو کر آنے والوں کی تعداد 122 ہے۔
یہ بھی پڑھیے
قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟
نوے دن میں انتخابات کروانے کا الیکشن کمیشن کے پاس کیا راستہ ہو سکتا ہے؟
کیا عمران خان کا اپنے خلاف سازش سے متعلق بیانیہ عوام کو سڑکوں پر لا رہا ہے؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض ارکان کون ہیں اور یہ پی ٹی آئی میں کب شامل ہوئے؟
عامر کیانی کے مطابق اگر منحرف ہونے والے 22 اراکین کو شامل نہ کریں تو اب تک تحریک انصاف کے 128 ارکان نے اپنے استعفے بھیجے ہیں اور مزید تین اراکین ایسے ہیں جنھوں نے ابھی استعفے جمع نہیں کرائے مگر ان سے بات چیت ہو رہی ہے، ’وہ بھی جلد پہلی فرصت میں اپنے استعفے بھجوا دیں گے‘۔
اس سے پہلے تحریک انصاف کے سینئیر رہنما فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت کے 135 اراکین کے استعفے جمع ہو چکے ہیں۔
’سپیکر پر لازم ہے کہ وہ تصدیق کے بعد انھیں منظور یا رد کرے‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر سردار ایاز صادق کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے متعدد اراکین نے انھیں بتایا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہونا چاہتے تھے مگر زبردستی ان سے دستخط کروا لیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی کی مرضی کے اس سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا۔
سردار ایاز صادق اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ استعفے اس طرح منظور ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سپیکر پر لازم ہے کہ وہ ان استعفوں کی تصدیق کے بعد انھیں منظور یا رد کرے۔
ان کے مطابق جس وقت کوئی رکن سپیکر کو آ کر کسی سیکریٹری یا ڈپٹی سیکریٹری کی موجودگی میں گواہی نہ دے کہ اس نے اپنے مرضی سے استعفیٰ دیا ہے تو اس وقت تک استعفیٰ منظور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اس وقت اپنے عہدے پر موجود ہیں اور انھیں تصدیق کا یہ عمل شروع کرنا چاہیے۔
ایاز صادق نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زبردستی استعفے لے کر قاسم سوری کے پاس جمع کرائے، ’اس طرح استعفے نہیں ہوتے یہ استعفیٰ نہ دینے والی بات ہے‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی سیکرٹیریٹ کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ بغیر کسی نوٹنگ اور شرائط پوری کیے استعفے لیے جائیں۔
سردار ایاز صادق نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے عملے کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کریں۔ ان کے مطابق انھوں نے پارلیمانی عملے کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائیں جس کے باعث پھر انھیں اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پیش ہونا پڑے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان اور نواز شریف: دونوں کی وہ مماثلت جو مٹ نہیں سکتی!
’وزیرِاعظم ہاﺅس میں نہیں رہوں گا‘ سے ’امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں‘ تک
عمران خان کے حامی ماضی میں فوج سے خوش لیکن اب ناراض
تحریکِ انصاف کا کپتان پہلی اننگز میں ہٹ وکٹ
عامر کیانی نے ان دعووں کی تردید کی اور کہا کہ وہ کسی کو مجبور نہیں کر رہے ہیں اور جو قانونی عمل ہے اس کے مطابق اپنے استعفے اپنے ڈپٹی سپیکر کو جمع کرائے تھے، جنھوں نے آگے اس پر عمل کر دیا ہے۔
عامر کیانی کے مطابق اس کا کوئی بھی طویل اور تھکا دینے والا طریقہ نہیں ہے۔ ان کے خیال میں جب کوئی رکن استعفیٰ دیتا ہے تو قانون میں یہ لکھا ہے کہ سپیکر اس کو قبول کرے گا، کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ انکار بھی کر سکتا ہے۔
اسمبلی قواعد کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے چیف وہپ ممبران کے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کرواتے ہیں جو ان کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ انھیں منظور کرنا ہے یا نہیں۔
سپیکر کی طرف سے استعفے منظور ہونے کے بعد ہی پی ٹی آئی کے اراکین کو مستعفی تصور کیا جائے گا۔
ایاز صادق اور پی ٹی آئی کے 2014 میں استعفوں کا معاملہ
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا یہ پہلا معاملہ نہیں۔ اس سے پہلے سنہ 2014 میں بھی تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفے دیے تھے۔ اس وقت کے سپیکر ایاز صادق نے ان استعفوں کو منظور نہیں کیا تھا اور مستعفی ہونے والے اراکین اسمبلی کو تاکید کی تھی کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنے اپنے استعفے کی تصدیق کریں۔
سپیکر کی جانب سے بتائے گئے طریقہ کار پر عمل نہیں ہوا اور آخرکار مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود تحریک انصاف پارلیمان کا حصہ رہی اور سنہ 2018 کے عام انتخابات تک اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی۔
اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟
قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان سے اگر کم و بیش 155 اراکین مستعفی ہو جاتے ہیں تو اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا رہ جائے گی؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم پلڈیٹ کے سربراہ اور پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اسمبلی بالکل قانونی طور پر کام کرتی رہے گی۔ اس کی حیثیت بالکل قانونی ہو گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اگر مستعفی ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد سے لے کر ضمنی انتخابات ہونے تک قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف نہیں ہو گی اور ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہو گا۔
احمد بلال محبوب کے مطابق ’اس سے قبل بلوچستان کی ایک اسمبلی ایسی بھی رہی ہے جس میں ایک کو چھوڑ کر تمام اراکین کابینہ کے ممبر تھے۔ اور وہ اسمبلی چلتی رہی تھی۔ اس میں نہ تو کوئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھی اور نہ ہی دیگر کوئی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔‘


