آئین کی حفاظت پارلیمنٹ کرے گی یا فوج؟
پاکستان میں یہ سوال ابھی تک شدید تنازعہ کا سبب اور موضوع بحث ہے کہ ہفتہ کے روز تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی کس حد تک کسی سازش کا نتیجہ ہے اور اس کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ اگرچہ پارلیمنٹ کی اکثریت نے عمران خان کے خلاف اعتماد کا ووٹ منظور کیا اور اتنی ہی تعداد نے شہباز شریف پر اعتماد کا اظہار کر کے انہیں ملک کا نیا وزیر اعظم چنا ہے۔ تاہم سابقہ حکومت کی طرف سے سازشی تھیوری اور نئی حکومت کو ’درآمد شدہ‘ قرار دینے کی مہم نے لوگوں میں تقسیم پیدا کی ہے اور ادارے بھی اس سے پیدا ہونے والی ناراضی کی زد میں آرہے ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف شہباز شریف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ انہوں نے موجودہ اسمبلی کی قانونی و اخلاقی حیثیت کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسی لئے تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس کے سب ارکان بیک وقت مستعفیٰ ہوجائیں گے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں اعلان کے علاوہ کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ بعض ارکان قومی اسمبلی نے اپنا استعفیٰ عمران خان کو بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے اس دستاویز کی نقول ٹویٹر پر ضرور شائع کی ہیں لیکن قانون کے مطابق رکن اسمبلی کو استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھیجنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہر رکن کو ذاتی حیثیت میں اسمبلی آ کر اسپیکر کے سامنے اس کی تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ تاہم سابق اسپیکر اسد قیصر کے استعفیٰ کی وجہ سے اس وقت قومی اسمبلی کا کوئی اسپیکر نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کا آئندہ اجلاس 16 اپریل تک ملتوی کیا گیا ہے۔ اس روز نئے اسپیکر کا انتخاب ہو گا اور تحریک انصاف کے استعفوں کی صورت حال بھی واضح ہو سکے گی۔
اس دوران قومی اسمبلی کے رکن اور سابق اسپیکر ایاز صادق نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان تحریک انصاف کے ارکان کو زبردستی استعفے دینے پر مجبور کر رہے ہیں اور ان کی قانونی حیثیت بھی مشکوک ہے۔ ایاز صادق کا کہنا ہے کہ ہر رکن کو استعفیٰ اپنے ہاتھ سے لکھ کر اسپیکر کو جمع کروانا پڑتا ہے۔ اسے کسی پہلے سے چھپے ہوئے کاغذ پر نام لکھ کر روانہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ جب تک ہر رکن خود استعفے کی تصدیق نہ کرے، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ البتہ تحریک انصاف کی طرف سے بیک وقت استعفے دینے اور موجودہ قومی اسمبلی کی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کے بارے میں پارٹی کی پوزیشن غیر واضح ہے۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد تند و تیز بیانات ضرور جاری کیے گئے ہیں اور عمران خان موجود حکومت کو امریکہ کی ’پلانٹڈ‘ حکومت قرار دے کر نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ سابقہ اپوزیشن پارٹیاں جو باہمی اشتراک سے اس وقت اقتدار پر قابض ہیں، تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے خود بھی مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
عمران خان نے بطور وزیر اعظم اس مطالبہ کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ البتہ جب یہ واضح ہو گیا کہ انہیں قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے تو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے ذریعے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا فیصلہ کرواتے ہی انہوں نے نئے انتخابات کا اعلان کر دیا تھا۔ البتہ سپریم کورٹ نے اس رولنگ اور اس کے نتیجہ میں کیے گئے فیصلوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسی رائے دہی کے نتیجہ میں عمران خان کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ عمران خان اور ان کے ساتھی عدم اعتماد کو غیرملکی سازش قرار دے کر اب نئے انتخابات کے لئے مہم جوئی کر رہے ہیں۔ اتوار کی رات عمران خان کی اپیل پر پاکستان کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں احتجاج کیا گیا تھا۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ عوام میں ان کی ذاتی مقبولیت اس وقت بہت زیادہ ہے اور اگر وہ اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا نعرہ زیادہ شدت سے سامنے لائیں تو وہ کسی بھی انتخاب میں بہت بڑی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔ اسمبلیوں سے استعفے دینے کی حکمت عملی بھی اسی سوچ کے تحت اختیار کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ امکان بھی ہے کہ اس وجہ سے تحریک انصاف میں مزید دراڑیں پڑیں اور بعض ارکان ہم خیال گروپ بنا کر استعفے دینے سے انکار کر دیں۔ اس کا انحصار البتہ اس بات پر ہو گا کہ تحریک انصاف کی قیادت استعفوں کے سوال پر کتنی سنجیدہ ہے۔
پاکستانی سیاست میں کسی لیڈر کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد احتجاج کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عمران خان سے بھی اس سے برعکس رویہ کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ البتہ عمران خان کی اپیل پر ہونے والے مظاہروں میں نئی حکومت اور مخالف پارٹیوں کے خلاف نازیبا نعرے لگانے کے علاوہ پاک فوج اور سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں بھی بدکلامی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے شدید مہم جوئی دیکھنے میں آئی ہے۔ تحریک انصاف چند ہفتے پہلے تک پاک فوج اور عدالتوں کو اپنا دست و بازو سمجھتے ہوئے، ان کے کسی رویہ یا فیصلہ کے بارے میں کسی بھی قسم کی اختلافی رائے کو ناجائز اور قوم و ملک سے غداری کے مترادف قرار دے رہی تھی۔ سابقہ حکومت نے اداروں پر تنقید روکنے کے لئے قانون سازی بھی کی تھی اور ایف آئی اے کو سائبر کرائم کے نام پر مزید اختیارات دیے گئے تھے جن کے تحت مخالف آوازوں کو دبانے کا کام مقصود تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اب یہی قوانین تحریک انصاف کے سوشل میڈیا مہم جوؤں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے دوران یہ عرض کیا جاتا رہا تھا کہ سیاست میں فوج کو بطور ادارہ ملوث کرنے سے کسی سیاسی حکومت کی ساکھ بہتر نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ کسی اختلاف کی صورت میں جب یہی ادارہ سیاسی قیادت سے منہ موڑتا ہے تو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امور سیاست میں اسٹبلشمنٹ یا فوجی قیادت کی مداخلت ملکی آئین کے خلاف ہے۔ پاکستان میں سیاسی نظام کو حقیقی جمہوری شکل دینے کے لئے پارلیمنٹ کو طاقت ور اور فوجی اثر و رسوخ کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ کام تمام سیاسی قوتوں کے باہمی تعاون سے ہی انجام پا سکتا ہے۔ اگر ملک کی بڑی سیاسی پارٹیاں اقتدار کے لئے غیر جمہوری طریقے اختیار کرتی رہیں گی اور فوج کی حمایت کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے کو معیوب نہیں سمجھا جائے گا تو ملکی سیاست میں مایوسی کا شکار ہونے والے عمران خان آخری وزیر اعظم ثابت نہیں ہوں گے۔ اور نہ ہی تحریک انصاف آخری پارٹی ہوگی جسے یہ شکوہ ہو گا کہ فوج نے ان کی حکومت بچانے میں کردار ادا نہیں کیا۔ گزشتہ چند ہفتے کے دوران ملکی سیاسی منظر نامہ میں تبدیلی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاک فوج نے ماورائے آئین حکومت یا کسی سیاسی پارٹی کا ساتھ دینے سے گریز کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں فوج کی خوشنودی کے لئے عمران خان کی حکومت کو سہارا دینے والے عناصر ان کے خلاف ہو گئے۔
تحریک انصاف کو اس صورت حال سے سیاسی حکمت عملی کے ذریعے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ فوج پر الزام تراشی سے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ فوج مخالف نعرے اس لحاظ سے بھی بے بنیاد ہیں کہ ان میں فوج کی سیاسی غیرجانبداری کو حرف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے حامیوں کو شکوہ ہے کہ ماضی کی طرح فوج نے اس بحران میں بھی کیوں عمران خان کی سرپرستی نہیں کی۔ یہ مطالبہ کسی قانونی یا آئینی اصول کی بنیاد پر استوار نہیں ہے۔ البتہ ملک کے متعدد تبصرہ نگار یہ امید ضرور کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت اب یہ جان پائے گی کہ سیاسی سرخروئی کے لئے ’ایک پیج‘ کی حکمت عملی کی بجائے جمہوری عمل کو موثر بنانے کا طریقہ ہی کارآمد ہو سکتا ہے۔
اس دوران پاک فوج کی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے بعض حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی پروپیگنڈا مہم کا سختی سے نوٹس لیا اور ایسی مہم کو ادارے اور سوسائٹی کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی افواج ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہیں اور وہ کسی سمجھوتے کے بغیر ایسا کرتی رہیں گی۔ بیان کے مطابق آرمی چیف نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے قیادت کی طرف سے ہر قیمت پر آئین و قانون کی بالادستی کے لئے اختیار کیے گئے سوچے سمجھے موقف پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں آئین و قانون کی بالادستی کے لئے کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے اور فوجی قیادت کے موجودہ رویہ کی تائید کی گئی ہے۔ یہ بات بیان کی حد تک تو درست ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوجی قیادت کو ایک اصول کے تحت سیاسی معاملات سے علیحدہ رہنے اور کسی بھی طرح کسی بھی سیاسی فیصلہ میں مداخلت سے گریز کا دو ٹوک اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بیان اس لحاظ سے بھی ابہام کا شکار ہے کہ فوجی قیادت ہر صورت میں کن ریاستی اداروں کا ساتھ دینے کا اعلان کر رہی ہے۔ بادی النظر میں تو یہ ادارے پارلیمنٹ، حکومت اور سپریم کورٹ ہی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ادارے خود اپنی حفاظت کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ فوجی لیڈروں کو ہمیشہ ان کا ساتھ دینے اور ان کی حفاظت کا اعلان کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ ملکی آئین کے تحت حکومت کسی مشکل سے نمٹنے کے لئے فوج سے مدد طلب کر سکتی ہے اور فوج ایسی مدد فراہم کرنے کی آئینی طور سے پابند ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ بھی کسی غیر معمولی صورت حال میں فوج کو بعض احکامات کی پیروی کا حکم دے سکتی ہے۔
پارلیمنٹ ملک کا سپریم ادارہ ہے لیکن سیاسی جوڑ توڑ میں اسی ادارے کو کمزور کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی آئین کی وضاحت کے لئے سپریم کورٹ کو قومی اسمبلی میں رونما ہونے والے واقعات کا نوٹس لینا پڑا اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کا حکم دینا پڑا۔ اور اب فوج یہ اعلان کر رہی ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ یہ صورت حال سیاسی پارٹیوں کی باہمی لڑائی اور ذاتی اقتدار کے لئے فوج کو ملوث کرنے کے رویہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ بصورت دیگر آئین کی حفاظت اور تمام ریاستی اداروں کی خود مختاری و آزادی کی ضمانت تو پارلیمنٹ کو فراہم کرنی چاہیے۔ فوج تو آئینی و قانونی تناظر میں ایک ادارہ بھی نہیں ہے بلکہ حکومت کی ایک وزارت کے تحت کام کرنے والا ایک ’محکمہ‘ ہے۔ اسے خود سے بالادست حکومت یا پارلیمنٹ کی حفاظت کا عزم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔
ملک کی تمام سیاسی قوتیں جب تک اس بنیادی جمہوری و قانونی نکتہ کو سمجھ کر حکمت عملی اختیار نہیں کریں گی، جمہوریت کا سفر شخصیت پرستی، نعروں اور غیر منتخب اداروں کی بالادستی سے مغلوب رہے گا۔ اور عوام کو بیرونی سازش یا اداروں کی ملی بھگت کا چورن بیچ کر دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔


