پاکستانی سیاست کی سمت


پاکستان میں گزشتہ مہینہ سیاسی طور پر تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں بہت سے کام تاریخ میں پہلی بار ہوئے ہیں۔ ان میں سر فہرست ایک وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹانا ہے اور ایک سویلین وزیر اعظم اور ان کے وزرا کے خلاف آئین اقدامات ہیں۔ اب وہ صحیح ہیں یا غلط، وہ ایک الگ اور لمبی بحث ہے۔

میری اس تحریر کا مقصد صحیح یا غلط کی بحث چھیڑنا نہیں بلکہ سیاست میں بدلتے رویوں اور گزشتہ رویوں میں شدت پر روشنی ڈالنا ہے۔ پاکستانی سیاست ایک دفعہ پھر غداری کے الزامات سے بھر چکی ہے۔ جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے معاملہ حب الوطنی اور غداری کا بنا دیا ہے۔ یہ معاملہ وہاں سے ہوتا ہوا قوم کی غیرت کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ منظرنامہ حق اور باطل کی لڑائی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کو کربلا کی جنگ سے تشبیہ اور اپنے رویے کو حضرت حسین کی سنت کہا جانے لگا۔

بلا شبہ چیئرمین تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ ان کے جلسے ہمیشہ سے ریکارڈ توڑ رہے ہیں اور گزشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت بھی تحریک انصاف ہی ہے۔ اب وہ ووٹ کیسے تھے، یہ بھی ابھی کی بحث نہیں۔

جب آپ کے پیچھے عوام کی اتنی بڑی تعداد موجود ہو اور وہ آپ کی ایک آواز پر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو تو آپ پر بہت عظیم ذمہ داری ہوتی ہے۔ کیونکہ عوام کا یہ ہجوم کس سمت جائے گا، اس کا تعین آپ کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ کرتا ہے۔ آپ کا ایک ایک فعل ان کے رویوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایسے میں آپ کا ایک غیر ذمہ دار جملہ اس تمام عوام کو غلط سمت میں لے جاتا ہے۔

ایسے میں آپ کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، آپ کو سننے والی عوام چاہے کم ہی کیوں نہ ہو، آپ اس عوام کے رویوں کے مکمل ذمہ دار ہوتے ہیں۔

اور آج جب پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ باقی تمام جماعتوں کو غدار کہے تو یہ ایک خطرناک عمل ہے۔ اور بات صرف یہاں ہی نہ رکے، جلسوں میں کھڑے ہو کر سرعام انہیں بے غیرت کہا جائے تو وہ عوام جو آپ کے پیچھے کھڑی ہے، وہ بھی بلا شبہ یہی طرز اپنائے گی۔ آپ عوام میں تشدد کو فروغ دیں تو یہ ہجوم کیسی قوم کی صورت اختیار کرے گا؟ اس قوم کا دنیا میں کیا مقام ہو گا؟ وہ قوم کس سمت جائے گی؟ کوئی بھی باشعور شخص اس کا اندازہ بخوبی لگا سکتا ہے۔

ویسے تو جناب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے بہت سے بیانات یہاں پر دہرائے جا سکتے ہیں مگر گزشتہ مہینے کے چند بیانات اور ان کے اثرات دہرانا چاہوں گا۔

جناب عمران خان نے کہا کہ آپ جہاں بھی جائیں گے، لوگ آپ کو لوٹا کہیں گے۔ قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ آپ اپنے حلقوں میں نہیں جا سکے گی۔ فلاں شخص نے فلاں ملک سے مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی۔ تحریک عدم اعتماد میں حصہ لینے والے تمام لوگ اس سازش کا حصہ ہیں اور غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ قوم ان کا گھیراؤ کرے، عوام پارلیمنٹ کے باہر آئے، وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا ایک منتخب وزیر اعظم کو ”کرائم منسٹر“ جیسے القابات دینا۔

پشاور کے سٹیج پہ کھڑے ہو کر تین کروڑ سے زائد ووٹ لینے والوں کی مشترکہ حکومت کو بے غیرتوں کی حکومت کہنا، ہر سنجیدہ سوال کے جواب میں آپ کے وزیروں مشیروں کی بھانڈ بازی اور پر تشدد رویے، وزیروں کے خانہ جنگی کی پینشن گولیاں اور آپ کی پارٹی کے ایک رہنما کا نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر یہ کہنا کہ اگر ان مباحثوں میں کسی کی جان چلی جاتی ہے تو کوئی بات نہیں۔ ان سب کا قوم پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ قوم بگڑے گی، بدتمیزی اور عدم برداشت بڑھے گی، حق و باطل اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جائیں گے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔

گزشتہ دنوں میں ایسے واقعات جگہ جگہ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ائر پورٹ، پارکوں اور ہوٹلوں میں نفرت انگیز رویے سب کے سامنے ہیں۔ اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے، اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پر اس کے اسباب بھی پہچاننے ہوں گے ۔ میریٹ میں کوئی جاہل گوار شخص تو نہیں ہو گا نا، تو اگر ملک کے پڑھے لکھے یا اوپرے درجے کے یہ حالات اور زبان ہو تو باقیوں سے کیا توقع؟ جی، آپ صحیح سوچ رہے ہیں، باقی تو مرنے مارنے پر اتر آئیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا، گزشتہ چند دنوں میں ایسے واقعات پر فائرنگ، لوگوں کے زخمی ہونے اور ایک شخص کے جان سے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اداروں بارے لوگوں کے نفرت انگیز پیغامات عروج پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے، وہ اس سے الگ ہے۔

اس کے رویے کے طور پر مخالف پارٹی کے لوگ بھی انتشار پر اتر آئے ہیں، عطا تارڑ کا بیان بھی قابل مذمت ہے اور دوسری جماعتوں کے کارکنوں سے بھی کچھ اچھے کی امید نہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ ملک میں سیاست انتشار، نفرت اور عدم برداشت کا رخ اختیار کر چکی ہے اور غداری کے الزامات کی سیاست پھر سے زور پکڑ چکی ہے۔ نہ جانے اب یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا اور نہ جانے رکے گی بھی یا نہیں۔

عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی معرکہ حق و باطل نہیں اور نا ہی میدان کربلا ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ سب اپنے اپنے مفاد کے پیچھے ہیں۔ یہ بس اقتدار کا گندا کھیل ہے جس میں ہماری قوم بھی رگڑی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل بدتمیز اور بدتہذیب ہوتی جا رہی ہے۔ خدارا اس فتنے سے بچیے، اپنی اور دوسروں کی دنیا اور آخرت کا خیال رکھیں۔ سیاسی رائے رکھنا اور اس کا اظہار کرنا سب کا حق ہے پر وہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر کریں، ایک مہذب قوم ہونے کا ثبوت دیں۔ ورنہ یہ کھیل پھر بہت دور تلک جائے گا۔

آپ سوچئے، اپنی سوچ کے مطابق ووٹ کا استعمال کریں اور دعا کریں کہ کوئی آئے جو آپ کے ووٹ کی قدر کرے اور آپ کا سوچے۔ وگرنہ کل کو آنے والی نسلیں بھی اسی فاشسٹ سوچ کی اور نفرت انگیز رویوں کا شکار ہو گی۔ آخر میں یہ کہ:

تم جو آپس میں لڑو گے تو بکھر جاؤ گے
ملک ہی جب نہ رہے گا تو کدھر جاؤ گے

آئیے اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں

Facebook Comments HS