یہ منجن اب نہیں بکے گا، نئے نعرے ایجاد کرو


ڈیئر پروفیسر، سلام

پچھلے ہفتے آپ کو پہ در پہ کئی خطوط لکھے۔ یقین مانئیے کہ داستان درد رقم کرنا آساں نہیں۔ عالم وحشت میں دل خون کے آنسو روتا ہے مگر کسی پل کسی کروٹ قرار نہیں آتا۔ دل کے جانے کی کیا کہیں کہ بقول میر

عشق برے ہی خیال پڑا ہے، چین گیا آرام گیا
دل کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا شام گیا

دل کے جانے کی داستانیں دیوار و در پہ رقم تھیں مگر دیوار کے لکھے کو کون پڑھتا ہے؟ طویل رات کی فتنہ انگیزی کے بعد ایک خاموش دن آیا تو احباب پوچھنے لگے کہ اتنا سناٹا کیوں ہے؟ ہم بھلا اس کے سوا کیا کہتے کہ اک طوفان گزرا ہے اور یہ اس کے بعد کا سناٹا ہے! اور اب؟ عقل کہتی ہے کہ اس سناٹے کو ہلکا مت لینا، خاموشیاں اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ اب یہ طوفان چائے کی پیالی میں اٹھتا ہے یا کہیں اور یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

یہ کمبخت وقت بھی بڑا استاد ہے اچھے اچھوں کی رعونت پہ خاک ڈال دیتا ہے۔ بقول افتخار عارف
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

کسی کو بھی اس بھرے میں نہیں رہنا چاہیے کہ اسے دوام ہے۔ دوام صرف ایک ہی ہستی کو ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے قبرستان ان لوگوں کی قبروں سے پٹے پڑے ہیں جو سمجھتے تھے زمانہ ان سے ہے اور وہ وقت پہ حکمرانی کرتے ہیں۔ فرعون اور نمرود بھی خدائی کا دعویٰ رکھتے تھے پر خدا نے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ انسان بھول جاتا ہے کہ وہ پانی کا بلبلہ ہے، ابھی ہے تو اگلے پل نہیں ہو گا۔ اونچے اونچے بت ایک ہی ہلے میں گر کر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ کلام خداوندی بار بار کہتا ہے اس میں تمہارے لیے اشارے ہیں مگر کیا مجال جو ہم اس پہ دھیان دیں۔ خلقت کو پاگل بنانے اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے چند رٹی رٹائی باتیں دھرانا احکام خداوندی کی بجا آوری کے زمرے میں نہیں آتا۔

شطرنج کے کھیل میں بازی کس کے ہاتھ رہتی ہے کون جانے فی الوقت تو پیادہ پٹ گیا ہے اور گھوڑا ڈھائی گھر چل چکا ہے۔ جن کے پیر زمین پہ ہوتے ہیں انہیں گرانا آسان نہیں ہوتا وہ گر کے بھی سنبھل جاتے ہیں پر یہاں پیر جس قالین پر تھے وہ کھسک کر کسی اور کے قدموں تلے چلا گیا۔ سیاست کا اسپ اڑیل اچھے اچھوں کو گرا دیتا ہے اس کے آگے کسی نو آموز کی کیا حیثیت؟ گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دینے والے میں زیادہ تر اپنے ہی ہوتے ہیں۔ بقول مصطفیٰ زیدی

اس راہ شوق میں مرے نا تجربہ شناس
غیروں سے ڈر نہ ڈر مگر اپنوں سے احتیاط

یہ سبق بھی تاریخ کے پنوں پہ درج ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں انہیں پڑھنا در خو اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ بات سوچنے کی تھی مگر جہاں سوچنے کا رواج نہ ہو وہاں کون خواہ مخواہ دماغ کے مسلز کو تھکائے۔

پھر کیا تھا رات پھر سے جاگی اور خواب خرگوش میں بدمست اونٹ انگڑائی لے کر اٹھا، سڑکیں نعروں کی چنگھاڑ سے گونجنے لگیں۔ کچھ جنگ ٹویٹر پہ تھی کچھ فیس بک پر اور بقیۂ سڑکوں اور ٹی وی کی سکرین پر۔ اس مرد مجاہد کا یہی میدان جنگ ہے پر اس بار کنٹینر نہیں تھے۔

قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ ناراض سجنا نے کئی دنوں سے دل نوازی سے کنارا کشی کر لی تھی۔ وہ اس کہانی کو بقول ساحر ایک خوبصورت موڑ دینا چاہتے تھے۔ کئی قاصد یہ سندیسہ لائے کہ

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا بہتر

پر ایسی باریکیوں کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات کہاں کہ کہانی ایک ایسا موڑ مڑ چکی ہے کہ جس سے آگے جدائی ہے۔ موڑ تو آیا پر خوبصورتی سے نہیں۔

پروفیسر ڈیر، احوال دیگر یہ ہے کہ ابھی تو گھوڑوں کے سموں سے چنگاریاں اڑ رہی ہیں۔ ہوش تو اس گرما گرمی کے گزرنے کے بعد ہی ٹھکانے لگے تو لگے ورنہ۔ اسی ورنہ سے ڈر لگتا ہے۔ یہ ورنہ کہیں بساط ہی نہ لپیٹ دے۔ صورتحال کافی خطرناک ہے سوشل ڈیوائیڈ بڑھ رہا ہے۔ یہ گالم گلوچ اور تو تکار گلی کوچوں تک پھیل گئی تو بھائیوں کو باہم دست و گریباں ہونے میں دیر نہ لگے گی۔ ان ہی حالات میں سانحات جنم لیتے ہیں۔ جو کل تک لندن کی سڑکوں پہ ہوتا تھا اب یہاں بھی ہو گا۔

یاران نکتہ رواں سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی کی سطح تک نہیں جانا چاہیے مگر آج کے نوجوان کی تربیت اس کے برعکس ہوئی ہے۔ تبدیلی ہر کوئی چاہتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ یہ ایک رات کی کہانی نہیں برسوں کا سفر ہے۔ چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں آتی۔ حقیقی تبدیلی جمہوری رویوں کے تسلسل کا نام ہے۔ ہمارا رونا تو سدا سے یہی رہا ہے کہ بار بار کی مداخلت نے جمہوری رویے کو پنپنے نہیں دیا۔ اللہ بخشے ہمارے استاد محترم کہتے تھے کہ کنواں پاک کرنے کے لیے پہلے کتے کی تعفن زدہ لاش نکالو پھر پانی نکالنا ورنہ کنواں پاک نہ ہو گا اور پانی سے بدستور سڑاند اٹھتی رہے گی۔ مگر ہم پانی نکالتے رہے کتے کو نہیں نکالا اور نتیجہ سامنے ہے۔ اس گلے سڑے نظام میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

عقیدتوں کے ماروں کو بیوقوف بنانا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ قبائلی معاشرت میں مذہب کارڈ سب سے خطرناک ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کا استعمال جاری ہے۔ عام انسان مذہب سے لگاؤ رکھتا ہے اس کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر مذہب کی تجارت کی جاتی ہے۔ یہ تجارت ایک سود مند کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہر آمر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے اقتدار کو دوام دیتا رہا۔ یورپ میں بھی یہی کچھ ہوتا تھا۔ اس کی آڑ میں بنیادی انسانی حقوق پامال کرنا آسان ہوتا ہے۔ عقیدت کی پٹی آنکھوں پہ چڑھی ہو تو تعلیم یافتہ افراد بھی جھوٹ اور سچ میں تمیز نہیں کر پاتے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس افیون کی مختلف برانڈ کی بوتلوں میں ہمیشہ سے فروخت ہوتی آئی ہے اور آج بھی ہو رہی ہے۔ کبھی ہارڈ کور اور کبھی تصوف کا سافٹ ورژن۔ ابھی اسی سوچ میں غلطاں و پیچاں تھے کہ بنت زہرا کا فون آ گیا۔ طیش کے عالم میں یوں گویا ہوئی کہ یہ نظارہ بھی ان گناہگار آنکھوں نے دیکھنا تھا کہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والے کربلا کی مظلومیت بیچ رہے ہیں۔ فاشسٹ ذہنیت یہ کیسے بھول گئی کہ جو ہاتھ شہدا کے خون سے رنگے ہوں وہ مظلومیت فروخت نہیں کر سکتے۔ جو کل تک شب خون مارنے والوں کے کاندھوں کی سواری کرتا رہا ہو اسے دنیا مظلوم نہیں مانتی۔ حسینیت اور یزیدیت دو مختلف مکاتب فکر ہیں یہ ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔ آج اپنے پیر جلنے لگے تو شام غریباں کے جھلستے ہوئے ریگزاروں کی یاد ستائی۔

وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتی رہی اور ہم نے چپ میں ہی عافیت جانی۔ مزید بولی کہ حسین کے نام کی دہائی دینے والے اتنی جلدی کیسے بھول گئے کہ وقت کے مورخ نے ان کے نامہ اعمال میں یہ لکھ رکھا ہے کہ کوئٹہ کی یخ بستہ سڑکوں پر جب اس قوم کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے پیاروں کے جنازے لیے دنوں انصاف کی دہائیاں دیتی رہیں تو وہ ان کی فریاد سننے کے بجائے کانوں پہ ہیڈ فون چڑھائے تبدیلی کے نت نئے ترانے سن رہے تھے۔ مرنے والے اس ملک کے شہری تھے اور وہ حکمران مگر ان کی اکڑی ہوئی گردن نے تشفی تو درکنار لمحہ بھر بات کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ ایسا کرنے سے شاید ان کے آقا ناراض ہو جاتے۔ تف ہے۔ یہ زبان خلق خدا ہے، دکھا ہوا دل ایسی ہی گفتگو کرتا ہے۔

پرو فیسر بنت زہرا نے یہ بھی کہا کہ ہم چودہ سو سال پہلے ہونے والے ظلم کو نہیں بھولے تو گزری کل ہونے والے ظلم کو کیسے بھول جائیں؟ ہماری یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں جتنا سمجھ لیا گیا۔ حسین مظلومیت کا استعارہ ہے اسے اپنے مضموم مقاصد کی جنگ میں لوگوں کے جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ رسم شبیری ادا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اس میں گردن کٹانی پڑتی ہے۔ یہ مگر مچھ کے آنسو کہیں اور بہاؤ، حسین کو رونے والی آنکھوں کی کمی نہیں ہے۔ پہلے ہمارے شہدا کے خون کا حساب دو، یہ منجن اب نہیں بکنے والا۔

جس کے زخموں کا منہ کھلا ہو اسے ہم کیا جواب دیتے ہر کسی کو اپنی رائے کا حق ہے سو چپ رہے۔ اس آدھ گھنٹے کی گفتگو نے ہم پہ کچھ ایسا اثر ڈالا کہ نظم ہو گئی۔ آپ نظم پڑھیے اور ہمیں اجازت مرحمت فرمائیے

نئے نعرے ایجاد کرو
۔ ۔
جو حسینیت کی ابجد سے بھی واقف نہیں
وہ ہمیں حسینیت کیا سکھائیں گے
وقت کے بے رحم آئینے نے دکھلایا
ظلم کا ساتھ دینے والے ہاتھوں سے رسم شبیری ادا نہیں ہوتی
تم شب خون مارنے والوں کے ساتھ چلے
ہم چپ رہے
ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے رہے
ہم پھر بھی چپ رہے
ہمارے پیاروں کی میتیں یخ بستہ سڑکوں پہ رلتی رہیں
ہم نے صبر کیا
اب تم اپنے ننگے سر ڈھانپنے کو پرچم حسین مانگتے ہو
ہم کیسے چپ رہیں؟
جن ہاتھوں پہ ہمارے شہدا کا خوں لگا ہو
انہیں پرچم دے دیں!
حسینیت اور یزیدیت ساتھ ساتھ چلیں!
حسین کے نام لیوا جانتے ہیں
کہ یہ کبھی ہوا نہیں اور نہ ہو گا
اسی لیے تو نام حسین آج بھی گلو یزیدی میں مانند خار اٹکتا ہے
اس کربلا میں کوئی حسین نہیں، حسین کا پاسنگ نہیں
وہ نابغہ روزگار ہے، یکتا و اعلٰی
ہر جنگ ہارنے والا حسین نہیں
الٹے قدموں پہ چلنے والو
تم اپنے بینروں کے لیے نئے نعرے ایجاد کرو

Facebook Comments HS

One thought on “یہ منجن اب نہیں بکے گا، نئے نعرے ایجاد کرو

  • 15/04/2022 at 4:24 صبح
    Permalink

    بہت بہترین لکھا آپ نے لیکن کیا کریں کہ منجن بیچنے والے عوام کی ذہنیت کو سمجھتے ہیں کہ کیسے اور کسے کتنا منجن بیچنا ہے۔ کاش کہ خریدنے والوں کو عقل آ جائے۔ کاش

Comments are closed.