غداری کی منطق
یہ کہانی پاکستان کے قیام کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے جب صوبائی خودمختاری، چھوٹی قوموں کے حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو غدار قرار دیا گیا۔ جن میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے علمبردار صحافیوں شامل تھے۔ انسانی حقوق کے تحفظ، آمرانہ حکومتوں کی مخالفت، آئین پر یقین رکھنے اور امن کی بات کرنے والوں کو پاکستان مخالف قرار دیا گیا۔
پاکستان کے قیام کے بعد دو پشتون قوم پرست رہنماؤں خان عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان اچکزئی ریاست دشمنی کے آئینے میں دیکھا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے بار بار یقین دلایا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر نوزائیدہ ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ خان عبدالغفار خان نے دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں دو ٹوک انداز میں اپنی خدمات کو غیر مشروط طور پر پیش کیا۔ دوسری طرف عبدالصمد خان اچکزئی جو بغاوت کے الزام میں قید تھے پاکستان سے وفاداری کا یقین دلا رہے تھے۔ بدقسمتی سے یہی ریاستی پالیسی ابھی تک نہیں بدلی ان کی اولاد ولی خان اور محمود خان اچکزئی کو بھی بارہا غدار قرار دیا جا چکا ہے۔
کہانی یہیں نہیں رکتی۔ ون یونٹ کے قیام کے بعد وہ تمام لوگ جنہوں نے ون یونٹ اور ایوب خان کی آمریت کی مخالفت کی تھی انہیں غدار قرار دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح، اے کے فضل حق، غلام مرتضیٰ شاہ سید جو 1943 میں مسلم لیگ سندھ کے صدر رہے تھے، اکبر بگٹی، نواب مری، عطاء اللہ مینگل، مجیب الرحمان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو، میاں افتخار الدین، فیض احمد فیض اور دیگر کو بھی غداروں کے کلب میں شامل کیا گیا۔
پاکستان ٹوٹنے کے بعد بھی ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور سیاسی لیڈروں کو غدار قرار دیتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر افراسیاب خٹک تک، بے نظیر بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک اور حالیہ واقعہ جس میں عمران خان نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس کی حکومت گرانے کی سازش کر رہے ہیں، کو غدار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
تاریخی طور پر ہر وہ آواز جو ریاستی بیانیہ پر تنقید کرتی رہی اس پر غداری کا الزام لگایا گیا۔ جمہوری حکومت ہو یا آمریت، مخالفین پر غداری کا لیبل لگانے کا عمل من و عن چلتا رہا۔
ایک طرف اگر غیر جمہوری قوتوں نے غداری کے اس ڈرامے کو دوام بخشی تو دوسری طرف جمہوریت پسندوں نے بھی اس کو مزید ایندھن فراہم کیا۔ اگرچہ قوم پرست اور ترقی پسند قوتوں کو ایوب، ضیاء اور مشرف کے دور میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ تو دوسری طرف انہی لیڈروں کو مختلف جمہوری ادوار میں بھی غداری کے خطبات سے نوازتا جاتا رہا۔ چاہے وہ آزادی کے ابتدائی سالوں میں ہو یا بھٹو کی حیدرآباد سازش کیس ہو یا پی ٹی آئی کی موجودہ مبالغہ آرائی اور الزام تراشی۔ جمہوری پارٹیوں کا کردار مایوس کن رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ غدار کا فیصلہ کس نے کرنا ہے؟ کیا کسی قانونی طریقہ کار کے بغیر کسی کو غدار قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم نے اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھا ہے جس کا سامنا کہ ہم ریاست کی آزادی سے لے کر اب تک کرتے رہے ہیں؟ ایک ایسے وقت میں، جب ملک معاشی بدحالی، سیاسی بے یقینی، دہشت گردی اور خارجہ پالیسی کے ابتری کا شکار ہے۔ ملک قومی اتحاد کا تقاضا کرتا ہے۔ طاقت کی راہداریوں کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دینے کی یہ بلاوجہ منطق ملک کو مزید بے اتفاقی اور انتشار کی طرف دھکیل دے گا۔ عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کی بجائے اس پر مرہم رکھا جائے۔


