مختصر ڈرامہ: "ایک تھا سہیل

منظر 1
مقام۔ گھر کا صحن۔
وقت۔ ڈھلتی شام
کردار۔ سہیل ( 25۔ 30 ) سال کا نوجوان
ڈھلتی شام کا وقت ہے، آسمان پر شفق پھیلی ہے۔ پرندے اڑ رہے ہیں۔
لوئر مڈل گھر کا صحن۔ بیرونی دروازہ کھلتا ہے سہیل بائیک ہاتھ سے دھکیلتا داخل ہوتا ہے۔ بائیک دیوار کے ساتھ کھڑی کرتا ہے۔ بائیک نئی نویلی ہے۔ سہیل ایک خوش شکل اور خوش لباس آدمی ہے۔
سہیل۔ سلام اماں
اماں کی آواز۔ وعلیکم سلام میرا بچہ، منہ دھو لے کھانا لگاتی ہوں۔
صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھ کر جوتے اتارتا ہے۔
اوورلیپ، کچن سے بگھار کی آواز
صحن میں لگے واش بیسن کی جانب بڑھتا ہے۔ ہاتھ منہ دھو کر برابر لٹکے تولیہ سے منہ پوچھتا ہے۔
سہیل: کھانا لگاؤ اماں میں کپڑے بدل کر آیا۔
۔ کٹ۔ ۔
منظر 2
مقام۔ گھر کا صحن۔
وقت۔ رات
کردار۔ سہیل ( 25۔ 30 ) سال نوجوان
سہیل گھر کے کپڑوں میں چارپائی پر آ کر بیٹھتا ہے۔
دسترخوان پر دال اور روٹی کی چنگیری ہے
اوورلیپ
ماں کی آواز۔ شروع کر بیٹا۔ میں گرما گرم روٹی لا رہی ہوں۔
سہیل کھانا شروع کرتا ہے۔
نسوانی ہاتھ چمٹے میں روٹی لاکر چنگیری میں رکھتا ہے
ماں کی آواز۔ سیٹھ صاحب سے بات کی تو نے۔ آواز دور جاتی ہوئی۔
کچن سے ماں کی آواز۔ صفیہ کی سسرال والے تاریخ مانگ رہے ہیں۔ تو جلدی سے پیسوں کا انتظام کر لے
نسوانی ہاتھ ایک اور روٹی لاکر چنگیری میں رکھتا ہے
کرلوں گا ماں، کر لوں گا تو بے فکر رہ۔
اوورلیپ
لڑکی کی آواز۔ ماں کھا نا بن گیا۔ آج بھی دال ہی بنائی ہوگی۔
دوسری لڑکی کی آواز۔ نہیں شہنشاہی مرغ بنایا ہے تیرے لیے۔ ہنسی کی آواز۔
پہلی آواز۔ ہونہہ
ماں کی آواز۔ سینے پر دھری یہ سلیں ہٹیں تو بہو بھی لاؤں۔ بس تیری سرکاری نوکری لگ جائے، چاند جیسی بہو لاؤں گی۔
سہیل مسکرا کر کھانا ختم کرتا ہے۔
۔ کٹ۔ ۔
منظر 3
مقام۔ گھر کا صحن۔
وقت۔ ڈھلتی شام
کردار۔ سہیل، ماں
بیرونی دروازہ کھلتا ہے۔ سہیل بائیک ہاتھ سے دھکیلتا داخل ہوتا ہے۔ بائیک دیوار کے ساتھ کھڑی کرتا ہے۔
صحن کی حالت تھوڑی بہتر ہے۔ سہیل کی عمر میں چار پانچ سال کا اضافہ نمایاں ہے۔
سہیل۔ سلام اماں
اماں کی آواز۔ منہ دھو لے کھانا لگاتی ہوں۔
چارپائی کی جگہ ایک چھوٹی میز اور چار کرسیوں نے لے لی ہے۔ صحن کی حالت بھی بہتر ہے
اوورلیپ، کچن سے برتنوں کی آواز
صحن میں لگے واش بیسن کی جانب بڑھتا ہے۔ منہ دھو کر تولیہ سے پونچھتا ہے
سہیل۔ کھانا لگاؤ اماں میں کپڑے بدل کر آیا۔
سہیل گھر کے کپڑوں میں ٹیبل پر آ کر بیٹھتا ہے۔
ٹیبل پر مرغی کا سالن اور روٹی رکھی ہے
ماں آ کر کرسی پر بیٹھتی ہے۔
ماں : (مسکرا کر) کہتی تھی نہ چاند جیسی بہو لاؤں گی، دیکھنا چاند سورج کی جوڑی لگے گی۔
سہیل مسکراتا ہے۔
ماں۔ بس بیٹا تو جلدی سے پیسوں کا انتظام کر لے۔ اور ہاں بہنوں کو سونے کی بالیاں دینی ہیں بھول نہ جانا۔
سہیل (نوالہ منہ میں لے جاتے جاتے روک لیتا ہے۔ حیرت اور پریشانی سے ) سونے کی بالیاں، وہ کیوں ماں
ماں۔ ارے اکلوتے بھائی کی شادی ہے، نیگ نہیں دے گا کیا۔
سہیل۔ (ہلکی آواز میں ) اچھا (چہرے پر فکر کے آثار ہیں ) ۔
۔ کٹ۔ ۔
منظر 4
مقام۔ گھر کا صحن۔
وقت۔ ڈھلتی شام
کردار۔ سہیل، بیوی
بیرونی دروازہ کھلتا ہے۔ سہیل بائیک ہاتھ سے دھکیلتا داخل ہوتا ہے۔ بائیک کھڑی کرتا ہے۔
سہیل کے کپڑے، جوتے اور بائیک سب کی حالت پہلے سے خراب ہے۔
گھر کی حالت کافی بہتر ہے۔ صحن اب لاؤنج اور جدید کچن میں بدل گیا ہے
کچن سے بیوی ہاتھ پونچھتے ہوئے نکلتی ہے، حلیے سے ظاہر ہے کہ جلد ماں بننے والی ہے
بیوی۔ آ گئے آپ، منہ دھو لیں، کھانا لگاتی ہوں
سہیل پھل فروٹ میز پر رکھتا ہے۔
کمرے کی جانب بڑھ جاتا ہے۔
گھر کے کپڑوں میں ٹیبل پر آ کر بیٹھتا ہے۔
ٹیبل پر کھانا لگا ہے
بیوی آ کر کرسی پر بیٹھتی ہے۔
بیوی۔ تاریخ قریب آ گئی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے بڑا آپریشن ہو گا، پیسوں کا انتظام کر لیں
سہیل۔ ہاں ہاں کرلوں گا
منظر
مقام۔ گھر کا صحن۔
وقت۔ ڈھلتی شام
کردار۔ سہیل، تین بچے، دو لڑکیاں، ایک لڑکا
بیرونی دروازہ کھلتا ہے۔ سہیل اندر آ کر بائیک دیوار کے ساتھ کھڑی کرتا ہے۔
بائیک، کپڑے اور جوتے مزید خراب ہو گئے ہیں۔
ہاتھ میں بچوں کے لیے چیزیں ہیں۔
چھ سے چار سال۔ تک کے بچے بھاگتے ہوئے آتے ہیں۔
ملی جلی آوازیں۔ ابو میری چیز، ابو میری، ابو پیسے دیں آئس کریم لینی ہے۔ بچے باہر بھاگ جاتے ہیں۔
سہیل۔ ارے رکو تو جا کہاں رہے ہو۔
۔ کٹ۔ ۔
منظر 5
مقام۔ بیڈروم۔
وقت۔ دن
کردار۔ سہیل، بیوی بیٹا ( 17۔ 18 سال)
سہیل آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا ہے، بیوی ٹی وی دیکھ رہی ہے۔
بیٹا کمرے میں داخل۔ ہوتا ہے۔ غصے میں دکھتا ہے
بیٹا۔ ابو آپ مجھے بائیک کب دلائیں گے، کب سے کہہ رہا ہوں میں۔
سہیل۔ تمہیں بائیک کی کیا ضرورت ہے، کوئی کام ہو تو میری لے جایا کرو،
بیٹا۔ ( مذاق اڑانے والے انداز میں ) وہ کھٹا را، بس رہنے دیں آپ تو۔
ماں۔ دلا دیں نا، اتنی کنجوسی کرتے ہیں آپ بھی۔
سہیل ( آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر) اچھا کرتا ہوں کچھ
۔ کٹ۔ ۔
منظر 6
مقام۔ بیڈ روم
وقت۔ رات
کردار۔ سہیل، بیوی۔
سہیل دوائیں کھا رہا ہے۔
بیوی۔ میں نے کہہ دیا ہے گھر کی پہلی شادی ہے، کوئی کنجوسی نہیں کرنے دوں گی۔ پیسوں کا انتظام کر لیں۔
سہیل۔ پہلے کبھی کوئی کمی کی ہے جو اب کروں گا۔
۔ کٹ۔ ۔
منظر 7
مقام۔ بیڈ روم
وقت۔ رات
کردار۔ سہیل، بیوی
دونوں کافی بوڑھے ہو گئے ہیں۔ سہیل بہت کھانس رہا ہے۔
بیوی۔ شکر ہے ساری ذمہ داریاں پوری ہو گئیں۔ میں تو کہتی ہوں، ریٹائرمنٹ پر جو پیسے ملیں گے ان سے اوپر بھی کمرے ڈلوا دیں۔ بیٹوں کے لیے بھی چھت ہو جائے گی
سہیل ( کھانستے ہوئے ) ہاں ہاں ٹھیک ہے۔
بیوی۔ افوہ یہ کھانسنا تو بند کریں
۔ کٹ۔ ۔
منظر 8
مقام۔ بیڈ روم
وقت۔ رات
کردار۔ سہیل، بیوی
دونوں سو رہے ہیں۔ سہیل بہت کھانس رہا ہے۔ بیوی بیزار ہے
بیوی۔ افوہ ایک تو اس کھانسی نے نیند حرام کر کے رکھ دی ہے۔
اوور لیپ۔
بیٹے کی آواز۔ ابا کی دواؤں پر بہت خرچہ ہو رہا ہے، اوپر سے پینشن بھی ساری اماں رکھ لیتی ہیں۔
منظر 9
مقام۔ لاؤنج۔
وقت۔ شام
کردار۔ بیوی، بیٹا، بیٹیاں رشتے دار
سہیل کی کفن زدہ لاش رکھی ہے، بیوی، بیٹیاں رو رہی ہیں۔
بیوی۔ ( رو رو کر) ہائے میرے سر کا تاج، ہائے میں کیا کروں گی میں کیسے جیوں گی ان کے بغیر۔ ہائے ے ے ے۔
بیٹیاں۔ ہائے میرے ابو، ہائے ابو،
جنازہ اٹھتا ہے
اوورلیپ رونے دھونے کا شور
منظر 10
مقام۔ گھر کا کمرہ۔
وقت۔ ڈھلتی شام
کردار۔ بیوی، بیٹیاں، بیٹا، رشتے دار
فاتحہ خوانی جاری ہے۔
ایک کونے میں ماں سفید چادر اوڑھے خاموش بیٹھی ہے، ہاتھ میں تسبیح ہے۔ بیٹیاں ایک طرف کھڑی سرگوشیوں میں باتیں کر رہی ہی۔
ایک بیٹی: یہ گھر کے کاغذات کہاں رکھے ہیں، ایسا نہ ہو سب پر ہمارے بھائی ہی قبضہ کر لیں
دوسری بیٹی: ایسے کیسے قبضہ کر لیں گے، بس یہ سوئم ختم ہو تو بات کرتے ہیں۔
بیٹا باہر سے بڑبڑاتا ہوا آتا ہے، پیسے گن رہا ہے
بیٹا: پیدا ہونے سے زیادہ خرچہ تو مرنے پر ہے آج کل۔ حد ہو گئی۔ پیسے جیب میں رکھتا ہے۔
ماں آواز دیتی ہے
ماں : (دھیمی آواز میں ) ، بیٹا یہ سب ختم ہو تو اپنے باپ کے دفتر جاکر ان کی پنشن میرے نام پر کروا دے۔ میرا ہے کیا اب اس کے سوا
بیٹا کچھ لمحے ماں کو دیکھتا رہتا ہے۔
بیٹا: اچھا کروا دوں گا۔
بیوی دیوار سے ٹیک۔ لگا کر آنکھیں بند کر لیتی ہے
رشتے دار چنے پڑھ رہے ہیں۔
ختم شد

