جناب عمران خان صاحب ، میں کو مار دیجئے ہم کو اپنا لیجئے

پوری دنیا کے کسی بھی کونے سے ترقی یافتہ ملک کو اٹھا لیجیے اور پھر ان کی کامیابی کی وجہ کو تلاش کریں۔ سب سے بڑی وجہ ان کا قانون پر چلنا ہو گا اور آئین ملک پر عمل کرنا ہو گا۔ کیونکہ آئین پر مسلسل چلتے رہنا ایک نظام تشکیل دیتا ہے اور وہ نظام آہستہ آہستہ پھل دینا شروع ہوجاتا ہے۔ ہماری ملک میں بہت مشکل سے ایک نظام چل رہا ہے جس کو بہتر ہونے میں مزید وقت لگے گا۔ لیکن اگر جمہوری منتخب حکومت بھی آئین پر نہیں چلے گی تو پھر یہ ملک کبھی ترقی نہیں کر پائے گا۔
یہ ہی سب کچھ، چند دن پہلے اسلام آباد میں ہوا کہ جب حکمران جماعت نے آئین پر نہ چلنے کے مختلف حیلے بہانے بنائیں۔ ایک جانب سپریم کورٹ کے فیصلے کو نشانہ بنایا گیا اور دوسری جانب اسمبلی کی کارروائی کو آئین کے تحت نہیں چلایا گیا اور کھلے عام آئین شکنی کی گئی۔ جس جس نے آئین شکنی کے خلاف بات کی اسے غدار بنا دیا گیا اور نہ صرف عوام بلکہ اداروں کے خلاف بھی انتہائی گھٹیا مہم چلائی گئی۔ اسی عدلیہ کے فیصلے کو نشانہ بنایا گیا جس نے نواز شریف اور گیلانی کے خلاف فیصلہ دیا تھا لیکن اس وقت قبول تھا اور آج قبول نہیں۔
جناب عمران خان صاحب، آپ کی پارٹی کا نام ہے تحریک انصاف یعنی انصاف کی تحریک۔ انصاف کیسے حاصل کیا جائے گا قانون پر چل کر اور قانون یعنی آئین، آئین جس پر عمل کر کے ملک کا نظام چلایا جاتا ہے۔ لیکن آپ سیاسی جماعت ہو کر آئین و قانون سے دور بھاگتے رہیں اور نہ طرح طرح کی افواہیں معاشرے میں پھیل چکی ہیں اور پہلے سے تباہ حال معاشرہ مزید پستی کی جانب چلا گیا ہے۔
آپ کی میں نے، آپ کی انا نے، آپ کے جذبات نے اس ملک کے آئینی نظام کو کتنا نقصان پہنچایا ہے شاید آپ کو اندازہ نہیں۔ ہر تقریر میں فقط میں میں میں۔ مانا آپ بہت اسمارٹ ہیں پوری دنیا کو آپ سب سے زیادہ جانتے ہیں لیکن کیا یہ اسمارٹنس ہی کافی ہے ملک کو چلانے کے لئے۔ کیا سیاستدانوں کو گالی دینے کے لئے ہی آپ نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ گویا جب بھی تقریر کی مخالفین پر تنقید واجب سمجھ کر کی۔
آپ نے کتنی بار اپنا موقف بدلا یعنی یوٹرن لیا اور پھر یو ٹرن لینے والوں کو لیڈر قرار دیا۔ نہیں جناب لیڈر تو سوچنے سے پہلے بولتا ہے اور بولنے کے بعد اس پر کھڑا رہتا ہے۔ آپ اور روایتی سیاستدانوں میں فرق کیا رہا۔ اصول اصول کی بات کرتے تھے لیکن اپنا کتنے ہی اصولوں کو سودا کیا۔
کوئی ادارہ آپ کے ساتھ چلے تو بہت اچھا اور اگر وہ نیوٹرل ہو جائے تو آپ کے لئے وہ برا ہوجاتا ہے۔ جب تک ایک پارٹی آپ کی اتحادی ہوتی ہے تو بہت اچھی اور جب آپ کے خلاف ہوتی ہے تو آپ کے لئے نفرت کا باعث بن جاتی ہے اور آپ ان کے جھنڈے جلانا شروع کر دیتے ہو۔ آپ جس کو چوکیدار نہیں بنانا چاہتے اسے وزیر داخلہ بنا دیتے ہو۔ جو آپ کے نزدیک سب سے بڑے چور ہوتے ہیں ان کو آپ وزیر اعلی کے لئے چن لیتے ہو۔
جب تک لوٹے جہانگیر ترین کے جہاز میں آتے رہے وہ صاحب عزت رہیں اور جب وہ کسی اور کشتی میں بیٹھ گئے تو بے ضمیر۔ ظلم تو آپ نے اپنے حقیقی پارٹی ورکر کے ساتھ کیا جو 20، 20 سال سے آپ کے ساتھ تھے مگر آپ نے مطلب اور مفاد کی خاطر ان کو پیچھے دھکیل دیا اور لوٹوں کو ساتھ ملایا۔
آپ کو لاکھوں، کروڑوں لوگوں نے ووٹ دیا، اعتماد کا ووٹ۔ انھی ووٹ کے بعد آپ ایم این اے بنے، اور پھر بہت سارے ایم این ایز نے آپ کو وزیر اعظم بنایا یعنی اس پورے سیاسی نظام کے تحت آپ اوپر آئے اور پھر جب یہ نظام آپ کو واپس پیچھے کر رہا ہے تو آپ میں نہ مانوں والی بات کر رہے ہیں۔ آپ اس نظام میں رہے اس نظام کے لئے اچھا ہو سکتا ہے مگر تربیت تو سیکھیں۔ ضدی سیاستدان نہ بنیں بلکہ حکمت کے ساتھ سیاست کریں۔
محترم و معزز عمران خان صاحب بس گزارش یہ ہے کہ اپنے ورکرز کو برداشت سکھائیں اور اس سے پہلے آپ بھی کھلاڑیوں والی اسپرٹ پیدا کریں۔ آپ کے پاس ابھی بھی عوامی طاقت موجود ہے اس طاقت کو انا کے ساتھ نہیں حکمت کے ساتھ استعمال کریں۔ اس نظام میں چلنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ نظام رہے گا تو آپ کو دوبارہ موقع مل سکتا ہے ورنہ آپ بھی دوبارہ نہ آ پائیں گے۔

