عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے ڈائری کیوں لے گئے؟


سیکورٹی تین قسم کی ہوتی ہے، بلڈنگ کی، شخصیت کی اور دستاویز کی۔ پھر سیکیورٹی کے اپنے اپنے مدارج ہوتے ہیں۔ جو وقت کے ساتھ گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔ علی محمد خان نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ بنی گالا جاتے ہوئے لگا کہ عمران کی سیکورٹی کم کردی گئی ہے۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ عمران خان اب سابقہ وزیراعظم ہے۔ اسے سٹیٹ لیول یا زی سیکورٹی نہیں دی جا سکتی۔

اقسام اور مدارج کی طرح سیکورٹی کلیئرنس بھی ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ جو عہدیدار جتنے حساس فرائض انجام دیتا ہے اس کی سیکورٹی کلیئرنس اتنی اعلیٰ درجے کی اور کم عرصہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ کم عرصہ سیکورٹی کی وجہ سے اسے بار بار سیکورٹی کلیئرنس سے گزارہ جاتا ہے۔ امریکہ میں کوئی ذاتی یا سرکاری حیثیت میں صدر سے ملنے آ رہا ہو تو جب تک سیکرٹ سروس اسے اوکے نہ کردے اسے کسی نہ کسی بہانے ٹالا جاتا ہے۔ یہی سیکورٹی کلیئرنس کا عمومی پروسیجر ہے۔

عمران خان کو جب سیاست کا بارہواں کھلاڑی چنا گیا کیونکہ اس نے نواز شریف اور زرداری کے متبادل کے طور پر کام کرنا تھا، تو سلیکشن کمیٹی کو ایک مسئلہ عمران خان کی سیکورٹی کلیئرنس کا بھی تھا۔ عمران خان کا رنگین ماضی سٹیٹ لیول کے عہدہ دار بنانے میں اس کے مزاحم تھا۔ دوسرا بیرون ملک مقیم اس کے طاقتور رشتہ دار اس کے سیاسی راستے کی دیوار ثابت ہو رہے تھے۔ ممکن ہے اس نے اپنی سیکورٹی مدارج کو بہتر بنانے کی خاطر اپنے خاندان سے علیحدگی اختیار کی ہو۔ پھر اس کے بچے جو بلا روک ٹوک اس کی سٹڈی، میٹنگ روم اور دوسرے سرکاری فرائض کے درمیان اس کے پاس آ جا سکتے تھے وہ ایک اور بڑا گمبھیر مسئلہ تھا۔

سینکڑوں دنوں پر محیط اور لاحاصل دھرنے نے عمران خان کو مایوس کیا تھا یا شاید اسے ایک خاتون کی خاتون اول کے طور پر ضرورت تھی اس لیے اس نے ریحام خان کے ساتھ اپنا تعلق بڑھایا، جو بعد میں مختصر شادی پر منتج ہوا۔

ریحام خان کے ساتھ شادی نے عمران خان کو ایک آئیڈیل سیاسی اور سماجی جیون ساتھی مہیا کیا، جو میڈیا میں جتنا عمران خان کا امیج بلند کرتا رہا اتنا اس کی سیاسی اور فلاحی کاموں میں مدد گار بھی ثابت ہوتا رہا۔ لیکن یہ خانگی مداخلت اس کے سیاسی گوروں یعنی حمید گل اور کمپنی کو ایک آنکھ نہیں بھائی۔ سہولت کاروں کے علاوہ سرمایہ لگانے والوں کو بھی ریحام خان سے شدید خطرات لاحق تھے۔ کیونکہ ریحام سے عمران خان صاحب کو ڈو اینڈ ڈونٹ کے مشورے ملنے شروع ہو گئے تھے۔

پہلے مردانہ محفلوں میں ترنگ میں آ کر وہ فائنانسرز کو کوئی بھی فیور دے سکتے تھے لیکن اب فیصلے کل پر ٹالے جانے لگے۔ اس لئے ریحام خان کے خلاف کرپشن اور ایم آئی سکس کی ایجنٹ کے الزامات پھیلائے گئے۔ جبکہ عمران خان کو ایم آئی سکس کے ساتھ ملوث کرنے یا بچانے کے لئے گولڈ سمتھ فیملی کافی تھی ریحام خان کی ان کے سامنے کیا حیثیت تھی؟ یا ایم آئی سکس اتنی باؤلی ہے کہ اتنے طاقتور اتحادیوں کی موجودگی میں وہ ایک ویدر گرل کو اپنا اثاثہ بنا کر عمران خان کی زندگی میں داخل کرے۔ پاکستان کوئی نارتھ کوریا جیسا بند ملک ہے اور نہ عمران خان کم جانگ ان، کہ جہاں تک ایم آئی سکس کی پہنچ نہیں تھی۔ پاکستانی ایجنسیوں سے پہلے شاید ایم آئی سکس نے عمران خان کا پروفائل بنایا ہو، بہرحال وہ ایک مشہور پاکستانی کرکٹر تھا جس کا زیادہ تر وقت برطانیہ میں گزر رہا تھا۔

آج عمران خان جس قسم کے مسائل سے دوچار ہے، فائنانسرز اور سہولت کاروں نے انہیں مدنظر رکھ کر ریحام خان کا کانٹا نکالنا ضروری سمجھا ہو گا۔ کل عمران خان کو کسی بھی کیس میں نا اہلی یا جیل کی سزا ہو جائے تو ہر کوئی جانتا ہے کہ عمران خان سیاسی طور پر لاوارث ہے۔ پارٹی شاہ محمود قریشی اسد عمر یا پرویز خٹک کے پاس چلی جائے تو عمران خان کے پاس واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ سلمان اور قاسم کی زندگی رجحانات تعلقات اور پوشیدہ گوشوں کے بارے میں ہماری ایجنسیاں ہم سب سے زیادہ جانتی ہوں گی اس لیے ان کا پاکستان آ کر پارٹی سنبھالنا یا والد کے لئے تحریک چلانا ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے خان صاحب کے ساتھ کہیں پر ان کے پارٹی معاملات سے دستبرداری کی کوئی انڈرسٹینڈنگ بھی طے پا چکی ہو۔

عمران خان جب مجموعی استعفوں کا کہہ کر کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں کر سکتا تو اس کے پیچھے بھی اس کا یہی خوف ہے، کہ اگر وہ جیل چلا گیا اور پارٹی اسمبلی میں رہی تو اس کی غیر موجودگی میں اسے کوئی طالع آزما ہائی جیک کردے گا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ زیادہ تر ممبران اسمبلی خواہ وہ قومی ہوں یا صوبائی اسمبلیوں کے استعفیٰ دینا نہیں چاہتے۔ جس کا بہترین مثال خیبرپختونخوا اسمبلی ہے۔ جہاں پہلے حزب اختلاف نے پہلے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی اور بعد میں واپس لی۔

راقم نے عدم اعتماد داخل کرنے والے ایک ممبر پارلیمنٹ سے تحریک واپس لینے کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ وزیر اعلیٰ کو عمران خان کی طرف سے اسمبلی تحلیل کرنے کا ڈر تھا جس کی وجہ سے اس نے خود حزب اختلاف کو تحریک عدم اعتماد لانے کا مشورہ دیا اب مرکز میں حکومت ختم ہونے کے بعد وہ ڈر بھی ختم ہو گیا اس لئے عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی گئی۔

دوسری طرف عمران خان زیادہ سے زیادہ جلسے اور زیادہ سے زیادہ لوگ سڑکوں پر نکال کر دو قسم کے مفاد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ عوامی طاقت کے ذریعے ایک طرف حکومت کو دباؤ میں لاکر جلد انتخابات کا راستہ نکال رہا ہے تاکہ وہ جیل جانے سے بچ جائے اور ممکن ہو تو دوبارہ اچھی اکثریت کے ساتھ حکومت میں واپسی کر لے اور دوسری طرف وہ اپنے ان ممبران اسمبلی پر پریشر بڑھانا چاہتا ہے جو اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے حق میں نہیں ہیں تاکہ ان کو قائل کرسکے کہ عوام اب بھی عمران خان کے ساتھ ہیں تبھی تو وہ کہتا رہتا ہے کہ اس دفعہ پارٹی ٹکٹ وہ اپنی مرضی کے امیدواروں کو دے گا اور ساتھ قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے والے قاسم سوری کو جلسوں میں ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ باقی ممبران کو اس جیسا رویہ اختیار کرنے کی ترغیب ملے۔ اگرچہ اسمبلی سے استعفیٰ دے کر عمران خان اپنی رہی سہی قانونی ڈھال اور مراعات سے بھی ہاتھ دھو لے گا لیکن اسے پتہ ہے کہ یہ اس کا آخری جوا ہے جو اگر وہ جیت نہیں سکا، تو پھر اس کی بڑھتی ہوئی عمر اور طویل پاکستانی عدالتی پراسس اسے دوبارہ راج سنگھاسن پر بٹھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔

سیاسی طور پر لاوارث عمران خان کو اس وقت ریحام خان کی افادیت کا اندازہ ہوجاتا، جو پارٹی معاملات مقدمات اور پارلیمنٹ کے اندر اس کا بے بدل اثاثہ ہوتی، جبکہ عمران خان کو اپنا آخری جوا کھیلنے کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔

عمران خان نے گزشتہ سال کئی بار کسی نامعلوم ذریعے کو اپنی تقاریر میں اپنی لا چارگی کا اظہار کرتے ہوئے بتانے کی کوشش کی کہ ’آئی ایس آئی میرے فون سنتی ہے‘ اسے پتہ ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں۔ اس بیان میں اہم حصہ کاماز کے درمیانی حصہ ہے اس کی شدت کو کم کرنے کے لئے اپنی ایمانداری کا ٹکڑا لگانا اس کی مجبوری لگتی ہے۔

ممکن ہے عمران خان کے قریبی رشتہ داروں کی لو لیول سیکورٹی کلیئرنس کی وجہ سے خان صاحب کو وزیراعظم ہاؤس منتقل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہاں پر صرف وزیراعظم کا گھر نہیں پورا سیکرٹریٹ موجود ہے۔ اس لیے وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا شوشہ چھوڑا گیا تاکہ اصل مسئلہ عوام سے سامنے چھپا رہے۔ یوں خان صاحب کو ایک کتے سمیت ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمدورفت کی سہولت دی گئی تاکہ ان کے رابطے کم سے کم ہو جائیں۔ بعد میں کابینہ میں آدھے درجن سے زیادہ غیر ملکیوں کی موجودگی نے سیکورٹی ایجنسیوں کے حفظ ماتقدم پر مبنی خدشات کو بالکل سچ بھی ثابت کر دیا۔

اس لیے جب خان صاحب اقتدار کی آخری رات وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالا کے لئے نکلا جس کا اس کے چاہنے والے بڑے فخر سے سوشل میڈیا پر کرتے ہیں کہ اس نے وہاں سے فقط ایک ڈائری لی اور بنی گالا کے لئے روانہ ہوا تو وہ جانتے نہیں کہ خان صاحب وزیراعظم ہاؤس میں نہیں بنی گالا میں رہتے تھے، جہاں پر سرکاری کام کرنے کے بعد وہ اپنے ساتھ کسی فائل کی بجائے صرف اپنی ذاتی ڈائری لے جا سکتے تھے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani