عمران خان خطرناک بن رہا ہے


عمران خان کے پہلے جلسوں میں تقریر شاندار ہوا کرتی تھی۔ نواز سے لے کر زرداری تک لوگوں کو لتاڑتے تھے۔ گالیوں سے لے کر جھوٹے الزامات تک لفظوں کے وار کرتا تھا۔ قوم یوتھ سن کر تالیاں بجاتی تھی۔ گویا، ان کو محسوس ہوتا تھا کہ خان انتہائی سمجھ دار ہے، اس کو چیزوں کا پتہ ہے اور آتے ہی ملک میں شہد کی نہریں جاری کر دے گا۔ خان کہتا تھا، جب ایک روپیہ گرتا ہے تو ملک کو یومیہ ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس سمیت پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سمجھ لو حکمران کرپٹ ہے، ڈالر بڑھتا ہے تو اتنا اتنا نقصان ہوتا ہے، زرداری نے ملک کو اتنا اتنا کھرب لوٹا ہے، شہباز کے 200 ارب کی جائیدادیں باہر پڑی ہے۔ نواز کی 3 سو ارب کی جائیدادیں باہر پڑی ہے، منی لانڈرنگ کے ذریعے اتنی رقم باہر بھجوائی گئی ہے، یہ سب ملکی اداروں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، میں آؤں گا تو ایک کروڑ نوکریاں دوں گا، 50 لاکھ گھر بناؤں گا، 90 دنوں میں کرپشن کا مکمل خاتمہ کروں گا، وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی میں تبدیل کروں گا، گورنر ہاؤس کو گرا گر پارک بناؤں گا، قائد اعظم نے قرض نہیں لیا تو میں بھی نہیں لوں گا۔

مراد سعید نے کہا تھا خان آئے گا تو سویٹزرلینڈ میں پڑے 200 ارب ڈالر لے کے آئے گا۔ 100 ارب آپ کے منہ پر اور 100 ارب آئی ایم ایف کے منہ پر دے مارے گا، انتظامی اصلاحات اور کیا کچھ نہیں بتایا جاتا تھا۔ قوم یوتھ تالیاں بجاتی تھی۔ خان آیا، 90 دن گزرے، وعدے ادھورے رہ گئے۔ خان دیکھتا رہ گیا۔ سب کو جیلوں میں ڈالا۔ ایک روپیہ برآمد نہیں ہوا۔ بالآخر، براڈ شیٹ نے معافی مانگ لی اور خان دیکھتا گیا، مہنگائی تین گنا کی حد تک جا پہنچی۔ انتظامی اصلاحات ادھوری ہو کر رہ گئیں۔

مختصراً، اپوزیشن جماعتوں نے ملک کی معاشی و سیاسی بدحالی پر خان کو حکومت سے ہٹا دیا۔ خان کے پاس بیانیہ کچھ نہ رہا۔ اب وہ سوچ رہا تھا، مچھلی دریا کے بغیر کیسے رہے گی، میں اقتدار کے بغیر کیسا رہوں گا۔ انتہائی نرگسیت کا شکار خان صاب نے سوچا، چلیں امریکی سازش کا ڈھونگ رچایا جائے۔ رچایا گیا، میڈیا نے چال ناکام بنایا۔ اب محض ایک بات رہ گئی ہے امریکی غلامی اور بندوں کی خرید و فروخت کا ڈرامہ ہونا چاہیے۔

وہ پشاور اور کراچی کے جلسوں میں آ رہا ہے۔ سوچیئے، خان کے پاس کیا منصوبہ ہے۔ وہ عوام کو کیا بتائے گا کہ میں نے 4 سال میں کیا کیا؟ کچھ ہیں تو نہیں، نہ الزام رہا نا وعدہ رہا۔ عوام نے سب دیکھ لیا۔ فقط ایک منصوبہ، حکومت امپورٹڈ ہے اور سازش ہوئی ہے، اپوزیشن غدار ہے۔ تو آپ سوچیں گے کہ پھر تو اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو کیوں نا عدالت جائیں اور ثابت کرے جس طرح منی لانڈرنگ اور بیرون جائیدادوں کے خلاف گئے۔ لیکن نہیں جاتے، کیوں؟ پتہ ہے ان کے پاس ثبوت نہیں۔ الزامات کے عادی ہیں۔ تو کیا کریں؟

عوام کو بھڑکاؤ، اشتعال دلاؤ، ملک اداروں کو بدنام کرو، اور فساد برپا کر کے اپوزیشن سے واپس حکومت لو۔ لیکن یہ طریقہ درست نہیں۔ جو کام عدالتوں میں کرنا ہے وہ سڑکوں پہ کرنا ماسوائے فساد برپا کرنا اور کچھ نہیں۔ سوچیئے، یہ کتنا خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس کی اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو ان کی مدد کرنے اقتدار دلانے کے معاون ہیں۔ یہ جس حد تک خطرناک ہو رہا ہے، نتیجہ گالم گلوچ، دھنگ فساد اور لڑائی کے علاوہ کچھ نہیں

Facebook Comments HS