دو بیلوں کی لڑائی میں مینڈک کا قتل


دو بیل تالاب پر پانی پینے آئے، سکون سے پانی پی رہے تھے کہ ایک نے ایسے چھیڑ خوانی شروع کردی، کچھ دیر تو دوسرا خاموشی سے ٹھہرا رہا لیکن تھوڑی دیر بعد اس کے بھی تیور بدلنے لگے۔ یہی تماشا وہاں مینڈکوں کا ایک خاندان دیکھ رہا تھا، خاندان کے بزرگ نے تمام نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ یہاں سے چلو، ایسا نہ ہو ان کا عتاب ہم پر نازل ہو اور ہم کچلے جائیں۔ خاندان کے ایک جذباتی مینڈک نے گرج کر کہا کہ ہم یہ تماشا دیکھیں گے اور ضرور دیکھیں گے اور بھلا ہمیں بیلوں کی لڑائی سے کیا نقصان ہو سکتا ۔

تمام خاندان وہاں سے چل نکلا لیکن وہ نوجوان مگن ہو کر لڑائی دیکھنے لگا۔ بیل لڑتے لڑتے ادھر ادھر گرنے اٹھنے لگے تو ایک بیل کا پاؤں اس تماش بین مینڈک پر بھی پڑا اور اس کا اپنا تماشا بن گیا۔ یہی حال ہمارے ہاں سیاست میں رونما ہونے والے کچھ واقعات کا بھی ہے۔ نو اپریل کو سیاست دانوں کی لڑائی میں کچھ اداروں نے گھس کر اپنے لئے مشکلات پیدا کیں تو وہیں پر کچھ نامحسوس طور پر غیر مقبول سیاسی جماعتیں بھی اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف رہیں۔

کچھ جماعتوں نے اپنے گنے چنے ووٹوں کے لیے منہ مانگے دام لینے کی کوشش کی، کچھ نے اعلیٰ وزارت مانگی اور کچھ نے بہت سی وزارتیں مانگیں۔ کسی جماعت نے تو تین چار ووٹوں کے عوض حکمران پارٹی کو بھی دن میں تارے دکھائے۔ اس دوران عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر ہوئی اور معاملہ سپریم کورٹ کے بارہ بجے کھلنے تک جا پہنچا، عدالت اور پاک فوج میں ہونے والی ہلچل کے باعث الیکشن کرائے گئے اور عنقریب وزیراعظم کے عہدے پر شہباز شریف براجمان ہو گئے۔

اس دوران مسلم لیگ (ق) کا رویہ چمگادڑ کی مثل رہا اور کبھی وہ متحدہ اپوزیشن کے عشائیے میں پائے گئے اور کبھی حکومتی اراکین سے معاملات طے کرتے ہوئے پائے گئے۔ عمران خان جن کے بارے مشہور ہے کہ وہ کسی سے بلیک میل نہیں ہوتے، انہوں نے مسلم لیگ (ق ) کے مطالبات مانتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے استعفیٰ لے لیا اور مسلم لیگ ( ق ) کی وزارت اعلیٰ کی شرط مان لی۔ اس دوران عمران خان نے ان کو عثمان بزدار کے استعفیٰ میں الجھائے رکھا اور یہ کوشش کی کہ عدم اعتماد کی ووٹنگ ہو جائے اور بعد میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے۔ عمران خان کو یہ معلوم نہ تھا کہ چودھری برادران بھی ان سے ڈبل گیم کھیل رہے ہیں اور راجہ ریاض الحق کے علاوہ ایک اور ممبر قومی اسمبلی کو بھی متحدہ اپوزیشن کی طرف بھیج کر ان سے رشتے استوار رکھ رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے استعفے پیش کرنے کے بعد کسی حد تک پی ٹی آئی کی دلچسپی بھی کم ہو گئی اور دوسرا پرویز الٰہی کو بھی پیپلز پارٹی سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ آصف علی زرداری جیسے مدبر سیاست دان سے یہ توقع تو کی ہی جا سکتی ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے بعد کم از کم وزارت اعلیٰ کا قلم دان مسلم لیگ ( ن ) کے ہاتھ میں نہ جانے دیں۔ اس وجہ سے ان کے لیے مناسب آپشن یہ ہو گا کہ وہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بننے میں مدد فراہم کریں۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج مورخہ سولہ نومبر کو جب پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر پی ٹی آئی کے اراکین کی طرف سے لوٹے پھینکے گئے اور پھر انہیں زدو کوب بھی کیا گیا، ان کے بال نوچے گئے اور انہیں مکے وغیرہ بھی مارے گئے جس کی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ دوست محمد مزاری کے گارڈز اور پولیس افسران انہیں بحفاظت باہر لے جانے میں کامیاب تو ہو پائے لیکن باہر میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے دوست محمد مزاری نے کہا کہ وہ آئینی کاروائی کو مکمل کریں گے اور پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق آج ہی وزارت اعلیٰ کے لیے ووٹنگ کروائیں گے۔

تھوڑی دیر بعد چوہدری پرویز الٰہی کی ویڈیوز آنا شروع ہو گئی اور وہ زخمی حالت میں موجود تھے اور ان کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے مونس الٰہی نے مسلم لیگ (ن) کے اسلم بیگ پر الزام لگایا کہ انہوں نے ان کے والد پر تشدد کیا ہے جبکہ پرویز الٰہی کی طرف سے کسی خاص رکن کا نام لینے کی بجائے تمام نون لیگی اراکین پر الزام لگایا گیا۔ دوست محمد مزاری نے ڈپٹی اسپیکر کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھائی اور پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کے ارکان کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود بھی ووٹنگ کرائی اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کر لیا گیا۔

یہاں افسوس ناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئینی عمل میں رکاوٹ ہی ڈالی ہے، اگرچہ بعد میں ان کا ہر فیصلہ غلط ثابت ہوا اور جس مقصد کے لیے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی وہی مقصد بھی پورا نہ ہوسکا لیکن آج کے دن میری ساری ہمدردیاں پرویز الٰہی صاحب کے لیے ہیں جن کی ساری امیدیں دفن ہو چکی ہیں اور سیاسی مستقبل نادیدہ راہوں پر چل پڑا ہے۔ اب نہ تو انہیں پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز کی طرف سے حمایت اور ہمدردی ملے گی اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن جو کہ اب حکومت میں ہیں کی طرف سے ملے گی، نہ ہی وہ وزارت اعلیٰ حاصل کرسکے۔

اگر وہ ووٹنگ کا عمل درست طریقے سے مکمل ہونے دیتے اور فساد کی راہیں نہ کھولتے اور ڈپٹی اسپیکر پر تشدد کرنے اراکین کو انگوٹھے کے نشان کے ذریعے تھپکی نہ دے رہے ہوتے تو ہو سکتا ہے بیچ میں کھیل پلٹ جاتا اور آصف زرداری کا پتا کام کر جاتا۔ پرویز الٰہی نے اپنی سیاست کا تو بیڑا غرق کر ہی دیا لیکن ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف سے اپنی وزارت کے لالچ میں ایسے کام کرائے ہیں جس کا خمیازہ پی ٹی آئی کو تادیر بھگتنا پڑے گا اور وہ اپنی حمایت عوام کی نظر میں کھونے لگیں گے۔

Facebook Comments HS