وزیراعظم پاکستان


اگر دیکھا جائے تو اس وقت شہباز شریف صاحب کی وزیراعظم بنے اور بیٹے کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنوانے کی خواہش تو پوری ہو گئی ہے۔ لیکن یہ خواہش انتہائی برے وقت میں پوری ہوئی ہے۔ جن حالات کا سامنا موجودہ وزیراعظم کو کرنا پڑا سکتا ہے۔ شاید پاکستان کی تاریخ میں ایسے حالات کا کسی وزیر اعظم نے سامنا نہیں کیا ہو گا۔ ابھی تک وزیراعظم صاحب کو اس بات کا ادراک نہیں ہوا ہو گا کہ انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے کمزور وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔

ایوان میں ان کی اپنی پارٹی کی اکثریت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان گروپ کو ملا کر انہوں نے جو حکومت بنائی ہے۔ اس میں ہر پارٹی اپنا حصہ مانگنے کو تیار بیٹھی ہے۔ زرداری صاحب کوئی بھی وزارت لینے سے انکاری ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی بدنامی، کالک ان کے حصے میں نہ آئے۔ البتہ انتظامی عہدے جیسے صدر، چیئرمین سینیٹ حاصل کرنے کے شدید خواہش مند ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی پہلے ہی راجہ پرویز اشرف کو بنوا چکے ہیں۔

جب کہ وزیراعظم کے حقیقی بھائی سابقہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی بھی اندرون خانہ ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اوپر سے خزانہ خالی ہے، اشیاء خورد و نوش تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، مہنگائی عروج پر ہے۔ ڈالر پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، پٹرول کی قیمت بے قابو ہے۔ مزید اضافے کی سمری وزارت پٹرولیم کی جانب سے بھجوائی گئی جو کہ وزیراعظم صاحب نے منظور نہیں فرمائی! لہٰذا چند دنوں بعد دوبارہ بھجوائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔

سب سے مشکل مرحلہ ان کے لیے عمران خان کا بطور اپوزیشن لیڈر سامنا کر ہو گا۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت بیرونی سازش کے ذریعے گرائی گئی ہے۔ عوام کی نوجوان اکثریت ان کے ساتھ ہے اور وہ سڑکوں پر موجود ہیں۔ خان صاحب پشاور، کراچی میں کامیاب جلسے کر چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم باقی تمام پارٹیوں کی نسبت مضبوط ہے۔ وہ پراپیگنڈہ، فیک ٹیوٹ، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔

عمران خان وہ شخص ہے جس نے نواز شریف کی مضبوط ترین حکومت ہونے کے باوجود ایک سو چھبیس دن کے دھرنے دے کر اقامہ نا اہلی بذریعہ عدالت وزارت عظمی سے چلتا کیا تھا۔ جب کہ اب تو موجود حکومت لولی لنگڑی حکومت ہے۔ مزید اگر عمران خان پارلیمنٹ سے استعفے منظور کروانے میں کامیاب ہو گے تو یہ ایک نیا بحران ہو گا۔ جس سے نکلنا موجودہ وزیراعظم کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ میری ذاتی رائے ہے کہ زرداری، شہباز شریف نے جن مقاصد کے لئے یہ حکومت حاصل کی ہے وہ اہداف اتنی آسانی سے حاصل ہونے والے نہیں ہیں۔

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں حکومت بنا کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین، اوورسیز پاکستانی، الیکشن ریفارمز، چیف آف آرمی سٹاف سے متعلق فیصلہ، تمام صوبوں کے گورنرز، اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جرنلز سے لے کر سلامتی کونسل، عمران خان اور حکومت کے درمیان مراسلے کا مسئلہ، خود کو روس اور امریکہ کے درمیان غیر جانبدار ثابت کرنے جیسے مشکل مسائل پر قابو پا لیں گے تو یہ ان کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ مزید ان کے اپنے اور بیٹے کے مقدمات عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔ جہاں سے وہ ضمانت پر ہیں۔

اگرچہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں پہلی تقریر نہایت متوازن تقریر تھی۔ لیکن ملازمین کی دس فیصد تنخواہ پر یوٹرن لینا اور بلاوجہ ہفتے کی چھٹی ختم کرنا جیسے غلط اقدامات مستقبل میں ان کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کو اس وقت عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ تاکہ جو عوام پی ٹی آئی کی طرف سے سڑکوں پر ہے اس میں کچھ کمی واقع ہو۔ سستی روٹی، لیپ ٹاپ نہایت اچھی سکیمیں ہیں۔ تعلیم پر کچھ نہ کچھ خرچ کرنا ہو گا۔

ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے جو کہ اس وقت انتہائی دگرگوں ہے۔ اپنی سابقہ روش تھانہ کچہری کی سیاست کو چھوڑنا ہو گا۔ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ لیکن اگر انہوں نے عمران خان کی طرح پارلیمنٹ میں آمرانہ رویہ اپنانے کی کوشش کی تو عمران خان کی اتنی مضبوط حکومت اسی رویہ کی بنیاد پر نا کامی سے دو چار ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کو تو اسٹیبلشمنٹ اور سرمایہ دار طبقے کے ذریعے فارغ کرنا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS