تالاب میں سبھی ننگے ہیں
پنجاب اسمبلی میں شرمناک ہنگامہ آرائی یہ تاثر دے رہی ہے کہ پاکستانی قوم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ اگر اعلیٰ درجے کے ایوانوں میں اس قدر بھیانک، بیہودہ اور متشددانہ رویہ دکھایا جائے گا تو سڑکوں، سکولوں کالجوں اور کاروباری مراکز کے لیے اخلاقی اقدار کے معیار کا تعین کیا ہو گا۔ اس قابل شرم ہنگامہ آرائی کے بعد ہر وہ صاحب فہم انسان جو پاکستان کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے وہ پارلیمان کا حصہ بنے ہوئے تمام سیاست دانوں اور نمائندوں کے نام سے بھی سہم جایا کرے گا۔
احتجاج کا جمہوری حق استعمال کرنے کا یہ طریقہ عرصہ دراز تک دانش وروں، فنکاروں اور معاشرے کے تمام حساس افراد کے لیے باعث حزن رہے گا۔ ممکن ہے ان کے محب وطن ہونے کے جذبے کو بحال ہوتے ہوئے طویل مدت لگ جائے یہ بھی ممکن ہے کے شاید ایسا کبھی نہ ہو۔ ایوان کے تقدس کی تباہی کے اس پورے واقعہ کی منظر کشی کا جائزہ لینے کے بعد اس نا پائیدار جمہوری نظام پر اعتماد کرنا ایک بہت بڑا رسک ہے۔ مظلوم اور غیر تعلیم یافتہ عوام شدید غم و غصے کی حالت میں اس سے بھی بد تر برتاؤ کر سکتی ہے۔
ماہ رواں میں ہونے والا یہ دوسرا واقعہ ہے جو انفرادی نوعیت کا ہے اور تاریخی پس منظر کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی رونما نہیں ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کا وزارت عظمیٰ سے محروم ہو جانا اور پھر صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بد تہذیبی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ جانا بھی حیرت انگیز ہے۔ اس واقعہ کے بعد یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کے ملک گیر انتخابات کروانے کی جو ایک جذباتی لہر ہے وہ بہت زور سے اداروں سے ٹکرانے کا ارادہ کیے ہوئے ہے۔
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کے فوری انتخابات کا یہ نعرہ سیاسی نظام کی بڑی حصہ دار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بلند کیا ہے۔ پاکستان کی سیاست، اس سے منسلک تمام کاروبار اور اس سے اپنی قسمت بدلنے کی امید لگائے بیٹھی عوام کے لیے اس وقت سیاسی نظام کی بڑی حصہ دار جماعت کا اپنے قائد کی تضحیک پر ردعمل قابل فہم ہے۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کے اب وہ پارلیمان سے اگلے عام انتخابات تک کی مدت کا انتظار کرنے اور آنے والے گرمی کے موسم میں ممکنہ طور پر انتخابی مہم جوئی کے لیے کی جانے والی دوہری محنت سے شدید نالاں ہیں۔
اپنی ناراضگی کا اظہار تو وہ پہلے ہی کر چکے ہیں جس کا نتیجہ سیکورٹی اداروں کی لاچاری اور بیچارگی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ کسی بھی کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے والے سیکورٹی اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسے گروہی تصادم سے بچانا ہو سکتا ہے۔ ”موبوکریسی“ ڈیموکریسی کی مسخ شدہ قسم ہوتی ہے ”اس سے بغاوتیں جنم لیتی ہیں۔ معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو دیتا ہے۔ اور گروہی مفاد پرستی کے سبب معاشرہ کو خانہ جنگی کا مسلسل خطرہ لاحق رہتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سماج دشمن عناصر اور تخریب کاروں کو ناکام کرنا ممکن نہیں رہتا، اور ناکامی سے ان کی مجموعی کارکردگی مایوس کن ہو جاتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں فوری انتخابات کے مطالبے کی اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کے اگر یہ زور پکڑتی ہے تو اس کے متوازی سیاست سے ملحقہ نظام کے دوسرے اجزاء بھی مثبت یا منفی طور پر متحرک ہوں گے ۔ سب سے اہم طبقہ طاقتور میڈیا ہاؤسز اور ان کے نمائندے جنھیں اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے سرانجام دینے کا موقع ملے گا۔ عوامی رائے ریکارڈ کرنے والے سٹریٹ ٹاک شوز کے ناظرین، سٹوڈیو ٹاک شوز کے ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین کی سمجھ بوجھ میں بہت فرق ہے۔
سروے شوز میں بازار میں موجود ریڑھی بان سے بھی ان کے پسندیدہ وزیر اعظم کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں اور کسی کاروباری مرکز کے مالک سے بھی۔ تعلم کے لیے وہ نمائندے جو عوامی رائے جانچتے ماہر ہو چکے ہیں انھیں دیگر حکومتی معاملات کو مزید بہتر طریقے سے سمجھنے اور نظام میں آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنے کی ترکیبوں کے بارے میں جاننے کا بھی موقع میسر آئے گا۔ مجھے لگتا ہے آنے والے دنوں میں دیگر عوامل کے ہمراہ اس اہم معاشرتی عمل کو جاری رکھنا ضروری ہو گا کہ افراد میں غور و فکر کا مادہ اور معاشرتی ذمہ داریوں میں تہذیب، رواداری اور اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
سادہ نظریات کو زیادہ تکنیکی نکتہ نظر سے نہ پیش کیا جائے۔ عوام کا اعتماد اداروں اور ذمہ دار ارکان پر بحال کرنے کے لیے باشعور طبقے کے لیے یہ حالات کسی امتحان سے کم نہیں ہوں گے ۔ اور شاید سوشل میڈیا پر زیادہ ناظرین اور زیادہ صارفین کے حامل ویلاگرز کو اپنی ویڈیوز میں اپنے فالوورز کو کسی بھی غیر یقینی صورت حال میں بہترین رویہ اپنانے کی تلقین اپنی سماجی ذمہ داری کے طور پر کرنی پڑے۔


