پنجاب اسمبلی میں ہوا کیا: آنکھوں دیکھا حال


وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دن پنجاب اسمبلی کے اطراف اور اندر خلاف توقع معمول سے زیادہ سیکیورٹی تھی۔ پنجاب اسمبلی کے اطراف پانچ سو گز کا پورا ایریا بند تھا جہاں دفعہ 144 نافذ تھی۔ پولیس، رینجرز کے علاوہ دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر تعینات تھی۔ میں اور وائس آف امریکہ کے رپورٹر ضیاء الرحمن ہفتے کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے۔ اسمبلی گیٹ پر بھی داخلہ انتہائی مشکل انداز میں ہوا۔

جب ہم اسمبلی پہنچے تو کچھ ہی دیر بعد وزیراعلیٰ کے امیدوار پرویز الہی بھی پہنچ گئے۔ پرویز الٰہی جیسے ہی اسمبلی کے اندر پہنچے تو تقریباً پندرہ منٹ بعد اطلاع موصول ہوئی کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور ووٹنگ نہ ہونے دینے کا پلان بنالیا ہے۔ خیر حکومتی ارکان اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ کچھ ہی دیر بعد متحدہ اپوزیشن کے ارکان پانچ بڑی بسوں میں سوار ہو کر پنجاب اسمبلی پہنچے۔

حمزہ شہباز اور علیم خان بھی دیگر اپوزیشن ارکان کے ساتھ بسوں میں ہی سوار ہو کر اسمبلی پہنچے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان اپنی لابی میں چلے گئے اور متحدہ اپوزیشن کے ارکان اپنی لابی میں چلے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی پہنچے۔ ڈپٹی سپیکر نے اسمبلی کے اندر جانے کی بجائے پہلے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرنے کو ترجیح دی۔

ڈپٹی سپیکر نے کہا ایوان کو آئین اور رولز کے مطابق چلایا جائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ووٹنگ کا عمل شفاف ہو گا اور آج ہی ووٹنگ بھی ہوگی۔ کچھ دیر بعد تحریک انصاف کی خواتین ارکان اسمبلی ایک کوسٹر میں اسمبلی پہنچیں تو انہوں نے کوسٹر سے نکلتے ہیں ”امریکہ کے خلاف نعرے بازی“ شروع کردی۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہتی رہی کہ ”ہم لے کر رہیں گے آزادی“ اجلاس کا وقت ساڑھے گیارہ بجے تھا لیکن ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے اجلاس شروع ہوا۔ ڈپٹی سپیکر دوست مزاری ابھی ایوان میں آ کر اپنی چیئر پر بیٹھے ہی تھے۔

تلاوت قرآن پاک کرنے کے لئے مولوی صاحب نے مائیک سنبھالا تو اچانک تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کی طرف لوٹے پھینکنے شروع کر دیے۔ حکومتی بینچوں سے پہلے سات سے آٹھ لوٹے ڈپٹی سپیکر کی طرف آئے پھر اچانک تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عمر تنویر، واثق قیوم عباسی، تیمور مسعود، عمار یاسر، ندیم بارا اور دیگر ارکان ڈپٹی سپیکر کے چیئر کے قریب آ گئے اور انہوں نے ڈپٹی سپیکر کو تھپڑ اور مکے مارنے شروع کر دیے۔

ڈپٹی سپیکر کے دو سیکیورٹی اہلکار نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے پھر اسمبلی کا دیگر سٹاف بھی ڈپٹی سپیکر کے گرد جمع ہو گیا انہوں نے ڈپٹی سپیکر کو ایوان سے نکالنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اسمبلی سٹاف نے جیسے ہی ڈپٹی سپیکر کو باہر نکالنے کی کوشش تو تحریک انصاف کے ارکان نے ڈپٹی سپیکر کو پیچھے سے ککس مارنی شروع کردی اور ان کے بال نوچنے لگے۔ اس دوران پرویز الٰہی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان کو انگوٹھے کے اشارے سے شاباش دیتے رہے۔

خیر کچھ دیر بعد اسمبلی سٹاف دوست مزاری کو ایوان سے باہر لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر ڈپٹی سپیکر نے اپنے چیمبر میں آئی جی پنجاب راؤ سردار اور چیف سیکرٹری پنجاب کامران فیصل کے ساتھ تقریباً آدھا گھنٹہ میٹنگ کی۔ اسی میٹنگ میں ڈپٹی سپیکر نے آرمز ایکٹ کے تحت ایوان میں سپیشل فورس تعینات کرنے کا حکم جاری کیا۔ کچھ ہی دیر بعد جیسے ہی سپیشل فورس کے ارکان ایوان کے اندر پہنچے تو انہوں نے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کرنے والے تحریک انصاف کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا اسی دوران حکومتی مرد و خواتین ارکان اسمبلی نے سپیشل فورس کے اہلکاروں پر شدید قسم کا تشدد شروع کر دیا شکر ہے ان اہلکاروں نے بیلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔

تحریک انصاف کے رکن فیاض چوہان، عمار یاسر اور خواتین ارکان نے باقاعدہ سپیشل فورس کے اہلکاروں پر تشدد کیا۔ تھوڑی دیر بعد پرویز الٰہی نے گجرات منڈی اور بہا الدین کے ابھی حال ہی میں بھرتی کیے پنجاب اسمبلی کے سیکیورٹی اہلکاروں کو ایوان کے اندر بلا لیا جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان پر تشدد شروع کر دیا۔ اسی دوران پرویز الٰہی کو بھی کسی رکن نے پہلے تھپڑ مارا پھر ان کو دھکا دے دیا اور وہ نیچے گر گئے۔ فوراً اسمبلی کی مزید سیکیورٹی اور سٹاف ایوان میں پہنچ گئی اور وہ پرویز الٰہی کو ایوان سے باہر لے گئے۔

پرویز الٰہی کو ریسکیو اہلکاروں نے ابتدائی طبی امداد دی۔ پرویز الٰہی نے اسمبلی کے نئی بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی بلڈنگ کے دونوں اطراف کے دروازے بند کرا دیے جو تقریباً ووٹنگ کے عمل کے بعد بھی دو گھنٹے تک بند رہے۔ پھر کچھ دیر بعد ڈپٹی سپیکر دوست مزاری آفیشل گیلری میں گئے اور وہاں سے اجلاس کا آغاز کیا۔ کیونکہ سپیکر چیئر اور ٹیبل پر تحریک انصاف کی خواتین نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ جیسے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ شروع کرنے کا اعلان کیا کچھ ہی منٹوں بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان ایوان سے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کا اعلان کر کے باہر چلے گئے۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان کے باہر جاتے ہی ایوان میں ماحول پرسکون ہو گیا۔ تقریباً پینتالیس منٹ میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔ گنتی کے بعد ڈپٹی سپیکر نے اعلان کیا حمزہ شہباز کو 197 ووٹ ملے ہیں اور پرویز الٰہی کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔ جیسے ہی حمزہ شہباز کی کامیابی کا اعلان ہوا لیگی ارکان نے ”شیر اک واری فیئر“ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری میں صحافی صبح نو بجے کے تقریباً بیٹھے تھے ہماری افطاری بھی پریس گیلری میں ہی ہوئی۔ پریس گیلری میں موجود تمام صحافیوں نے صرف پانی کے ساتھ ہی روزہ افطار کیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments