عمران خان کے نام اہم پیغام
جولائی 2018 کی بات ہے جب عمران خان کو اپنی بائیس سالہ جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کے بائیسویں پردھان منتری کا قلمدان سونپے چند دن ہی گزرے تھے، کہ بھارت سے عصر حاضر کے عظیم ریسرچ سکالر اور امن کے داعی مولانا وحیدالدین خان صاحب (مرحوم) نے ایک کالم میں عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے چند نصیحتیں فرمائیں۔ جن میں سے چند نصیحتیں چار سال گزر جانے کے باوجود آج تک موصوف کے دماغ میں ویسی کی ویسی نقش ہیں۔
مولانا کے اس کالم میں جس بات پر سب سے زیادہ سٹریس دیا گیا تھا وہ مبارکباد سے زیادہ ٹکراؤ اور بدلے کی سیاست سے اجتناب کرتے ہوئے قوم کو امن میں رہتے ہوئے تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔ بلاشبہ یہ نہایت دانشورانہ بات تھی۔ جس میں ٹکراؤ و لڑائی جھگڑوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملے ہوئے وقت کا صحیح استعمال کرنا مقصود تھا۔ خان صاحب اقتدار کا قلمدان سنبھالنے سے لے کر آخری روز تک پاکستان کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر گامزن کرنے کا نعرہ لگاتے دکھائی تو دیے۔
لیکن افسوس! کہ خان صاحب کے اندر تکبر و انتقامی سوچ نے ریاست مدینہ ماڈل کو دور تک بھی نہیں اپنایا۔ خان صاحب نے کیوں نہیں پڑھا، کہ ریاست مدینہ بنانے کے پیچھے نبی آخر الازمان ﷺ کا ٹکراؤ سے بچتے ہوئے مکہ کو چھوڑنا و صلح حدیبیہ جیسے مدبرانہ فیصلے کرتے ہوئے رہتی دنیا کے انسانوں کو ایک ایسا ماڈل دینا تھا جس کی بدولت ٹکراؤ و انتقام سے اجتناب کرتے ہوئے نامناسب حالات میں تعمیری عمل کرتے ہوئے ایسی قوم تشکیل دینا تھا جس کی بدولت امن میں رہتے ہوئے فتح مکہ جیسے عظیم انعامات نصیب ہوئے۔ عمران خان کا ریاست مدینہ ماڈل کا نعرہ جھنڈے کی سیاست سے بڑھ کر کچھ نہیں رہا۔ چار سال انتقام اور بدلوں کی آڑ میں ضائع کیے گئے۔ آخر کار اپنی ہی متکبرانہ اناؤں کے جال میں پھنسے ایک بار پھر ماضی کی طرح جلسے جلوسوں کی زینت ہو گئے ہیں۔ عمران خان کے پاس شعور بھی ہے اور کشف بھی، لیکن ان کی انتقامی نیچر ان کی تمام بڑی خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔
ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ خربوزے اور چھری کا کوئی مقابلہ نہیں ہوتا۔ خربوزہ جتنا مرضی غیرت و حمیت دکھائے، جتنی مرضی انتقامی اسٹریٹیجیز بنا لے۔ با الآخر اپنے نازک پن کی بدولت ہمیشہ چھری کے ہاتھوں کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل غیرت و حمیت سے بڑھ کر امن میں رہتے ہوئے صرف اور صرف اپنے حصے کا دیا جلانے کے سوا کچھ نہیں۔ سوائے اس بات کے، کہ خربوزہ چھری کی جگہ لے لے اور وہ چھری اس قدر مضبوط ہو کہ پہلے سے موجود تیز دھار کاٹنے والی چھری سے بدلہ لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو جس میں مخالف گروپ آپ کو اس قدر مضبوط سمجھے کہ ٹکراؤ کے برعکس امن کو ہی واحد حل سمجھے۔ ریاست مدینہ کی بنیاد فتح مکہ کے دن امن پر ہی رکھی گئی تھی۔
میں اسی منطق کو اگر سیاسیات کا طالب علم ہونے کے نظریے سے دیکھوں تو مجھے ورلڈ سسٹم تھیوری، التھوزر آئیڈیالوجیکل سٹیٹ آپریٹس، فرینکفرٹ سکول آف تھاٹ، گرامچی ہیجمنی اور کلاسیکل مارکسسٹ تھیوریز دماغ میں دوڑتی ہیں۔ جن کا حاصل وصول یہی نکلتا ہے کہ مقتدر حلقے کمزور حلقوں و قوموں کو ہمیشہ دباتے اور وکٹمائز کرتے رہے ہیں۔
کریٹیکل اپروچ میں یہ رزسٹنس اس وقت تک رہتی ہے، یہاں تک کہ تمام انفیریئر گروپس مل کر ایک مضبوط سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ جو بیس سے لے کر سپر اسٹرکچرز تک کے تمام مراحل میں خودمختار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مخالف فورس پر نیوٹن کی تھرڈ لاء آف فورس کا کام کرے۔ گایاتری سپائیوک کے مطابق سبلٹرن کلاسز ہمیشہ وکٹمائز ہوتی ہیں اور ان کلاسز کی آوازوں کے آواز بننے کی صرف ایک ہی صورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ تمام سبلٹرن کلاسز کسی خاص نقطہ پر اکٹھے ہوتے ہوئے انقلاب برپا کر دیں۔
خان صاحب کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ نعروں و جھنڈوں کی سیاست کو ایک طرف کرتے ہوئے امن میں رہتے ہوئے سمجھوتے کے آپشنز کو زیر غور لاتے ہوئے ہاتھ زیادہ چڑیوں کے لالچ میں ہاتھ میں پکڑی چڑیوں کو مت چھوڑیں۔ وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ مقتدر حلقوں کی مداخلت اس وقت تک ہوتی رہے گی جب تک ٹکراؤ و انتقامی سوچ سے ہٹ کر قوم کو کسی ایک ڈائریکشن پر اپنے پاؤں پر کھڑا نا کر دیا جائے۔ اس کام میں دہائیاں ہی نہیں بلکہ کبھی کبھار صدیاں ناکافی ہو جاتی ہیں۔ آپ کا کام عوام کے دیے ہوئے مینڈیٹ کو اپنی وزڈم بروئے کار لاتے ہوئے اپنے حصے کا دیا جلانا ہے۔ اس وقت تک کہ جب تک خربوزہ چھری کی جگہ نہ لے لے۔ ورنہ مقتدر حلقوں کی انٹرفیئرنس سے لے کر امریکہ کے مبینہ دھمکی آمیز پیغام جیسے واقعات ہونا ہمیشہ کے لیے اس قوم کا مقدر رہیں گے۔


