پنجاب اسمبلی: آج جمہوریت شرمندہ ہے
متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وفاق نیشنل اسمبلی میں عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی عدم اعتماد اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم شہباز شریف کے صاحب زادے حمزہ شہباز پنجاب کے 21 ویں وزیر اعلی منتخب ہوئے ہیں۔
میاں شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد ، پھر ان کے صاحب زادے حمزہ شہباز کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا وزیراعلی بننے پر سب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک ہو۔ جب سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں، اور غور کرتا ہوں تو شرمندگی سر نہیں اٹھانے دیتی کہ ہم نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔
باپ وزیراعظم، بیٹا وزیراعلی۔ ان سب حالات کو دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا ہے، کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس ہاؤس آف شریف اور زرداری اینڈ کمپنی کی مرہون منت ہی رہے گی، اور انہی کے ہاتھوں خجل خوار ہوتی رہیں گی۔ ظاہر ہے ہم بھی دہائیوں سے کیسے کیسے بے حسوں، دھوکے بازوں، فراڈیوں، ملک دشمن، عوام دشمن اور ہوس اقتدار رکھنے والوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں۔ ان سب نے ہی عوام کو فٹ بال سمجھا ہوا ہے۔ جدھر ٹھوکر لگاؤ اور لے جاؤ، ویسے ہم بھی کیسے سیانے ہیں کہ ہر بار ان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ خود پر کبھی کبھار بلکہ ہر بار شرمندگی ہوتی ہے۔ کہ ہم بھی کیسے ڈھیٹ ہے کہ ان ہی کے پیچھے دوڑتے اور ان ہی کے ناموں کے نعرے لگاتے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان نے اسمبلیوں سے استعفی دینے کے بعد سڑکوں پر جو نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور جو بیانیہ لے کر وہ نکلے ہیں، شاید متحدہ اپوزیشن پر اس کا بہت گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے پشاور میں بہت بڑا پاور شو کیا گیا، کراچی میں بھی ایک بڑا عوام کا سمندر دیکھنے کو ملا ہے اور تحریک انصاف اپنا اگلا عوامی پاور شو لاہور میں کرنے جا رہی ہے۔ لیکن اب یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا، کہ عمران خان کی یہ مقبولیت متحدہ اپوزیشن کو کتنا ٹف ٹائم دے گی۔ اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ عمران خان نے پہلے جو سیاسی غلطیاں کی تھی ان کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔
ویسے ایک بات ہے جس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے کہ پاکستان میں ہاؤس آف شریف اور زرداری اینڈ کمپنی کے خلاف جو میدان میں آن کھڑا ہوا ہے۔ اس کا سہرا صرف خان کو ہی جاتا ہے۔
گزشتہ دن جو کچھ پنجاب اسمبلی میں ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ جس طرح اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی، ایک دوسرے کو تھپڑوں، مکوں، لوٹوں، لوٹوں کے نعروں اور گالیوں سے نوازا گیا، چوہدری پرویز الہی اور ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سمیت کچھ سیاستدان زخمی بھی ہوئے۔ یہ سب کچھ انتہائی قابل افسوس اور شرمندگی کا باعث ہے۔
اس سارے منظر کو دیکھ کے پنجاب اسمبلی، جمہوریت اور پاکستانی عوام بھی شرمندہ ہوئی ہے۔ کہ انھوں نے کیا اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کیا ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی جا کے اس طرح کی ہنگامہ آرائی کرے۔ یہ وہی لوگ ہے جنھوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو ریپریزنٹ کرنا ہوتا ہے۔
عدالت عظمی اور ججز صاحبان کا احترام اپنی جگہ، لیکن ان حالات کو دیکھ کے کچھ سوال بھی جنم لیتے ہیں کہ آج منحرف ارکان جو پارٹی چھوڑ کر اپوزیشن بینچوں پر جا بیٹھے، اور سیاستدانوں کے بقول جو ہارس ٹریڈنگ ہوئی، اس کے متعلق عدالت عظمی کا فیصلہ بروقت آ جاتا، تو شاید ملک کو ایسے حالات کا سامنا نا کرنا پڑتا۔ لیکن ہونے کو کون روک سکتا ہے۔
نیشنل اسمبلی کے بعد پنجاب اسمبلی (ن) لیگ کی نظر میں تھی کہ یہاں پر بھی عدم اعتماد لا کے پی ٹی آئی کو پنجاب میں بھی سیاسی طور پر کمزور کیا جائے۔
تاکہ ہر طرف کھلا میدان ہو۔ ”سنجیاں ہون گلیاں، تے وچ مرزا یار پھرے“ والا فارمولا یہ ہاؤس آف شریف تو شروع سے ہی چاہتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں عمران خان کی سراسر اپنی غلطی تھی نا جانے انھیں اس وقت کیا سوجھی، کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں عثمان بزدار کو لا بٹھایا۔ اب نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اگر اس وقت کسی مضبوط بندے کو وزیراعلی بنایا ہوتا، تو عمران خان کو آج یہ حالات نا دیکھنے پڑتے، وفاق کی طرح پنجاب میں بھی اتحادی چھوڑ گئے، ترین گروپ، علیم خان گروپ نے عمران خان کو کنارے پر چھوڑ دیا، ظاہر ہے اس میں عمران خان کی بھی کچھ غلطیاں ضرور ہوں گی ، جو ایک ایک کر کے سب چھوڑتے گئے۔
اس وقت وفاق اور پنجاب میں ایک بار تو عمران خان کو ایک ایسا سیاسی جھٹکا لگا ہے، کہ شاید جس کا کوئی ازالہ نہیں۔ اتحادیوں اور منحرف ارکان کو بھی اچانک تحریک انصاف اور عمران خان برا لگنے لگا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آخر کہیں سے تو یہ سازش اور مداخلت ہوئی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت جن درپیش مسائل کا سامنا ہے اس کا واحد حل عام انتخابات ہے، عام انتخابات سے نہ صرف سیاسی حل چل میں کمی ہوگی، بلکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔


