خان اور ڈرون ائر بیسز کی کہانی


میں یہاں عمران خان کی کمزور معاشی پالیسیوں کا دفاع نہیں کر رہا۔ میں صرف عمران خان کی بین الاقوامی طاقت، عزت اور پہچان کی وضاحت کر رہا ہوں۔ یہ بحث کرنا بیکار ہے کہ کیا امریکہ کو فضائی اڈوں کی ضرورت تھی۔

میں آپ کو گارنٹی دے سکتا ہوں کہ امریکہ افغانستان سے بلوچستان میں قریبی ائر بیس کے لیے بے چین تھا اور اب بھی ہے۔ یہ ناقابل فہم ہے کہ امریکہ کو رسد کے لیے پاکستان میں فضائی اڈوں کی ضرورت نہیں تھی

کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے پاکستانی فضائی اڈوں تک رسائی کے لیے خصوصی طور پر پاکستان کا دورہ کیا، خان نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا، اس کے بجائے انہوں نے جنرل باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ امریکہ کو ڈرون فضائی اڈوں کی شدید تلاش تھی خاص طور پر جب وہ افغانستان سے انخلاء کر رہے تھے تو وہ امریکہ مخالف داعش قسم کے گروہوں کے دوبارہ سر اٹھانے سے کافی پریشان تھے۔

لاجسٹک حرکیات کی وجہ سے، اور افغانستان اور بحیرہ عرب سے قربت کی وجہ سے بلوچستان میں شمسی ائر بیس امریکیوں کے لیے بہترین آپشن تھا۔ اگلا آپشن تاجکستان یا ازبکستان تھا۔ لیکن ولادیمیر پوٹن نے اس کی اجازت نہیں دی۔

اگر کسی ڈرون کے ہدف کو نشانہ بنایا گیا ہو تو ڈرون/ حملہ کرنے والے طیاروں کو مشرق وسطیٰ کے اڈوں یا Arabian sea ائر کرافٹ کیریئر سے اڑنا پڑتا ہے، اس طرح طویل فاصلے تک پرواز کرنے کے لیے وقت ضائع ہوتا ہے اور ممکنہ اہداف کو کھونا پڑتا ہے۔

یقینی طور پر، یہ عمران خان کی وجہ سے تھا کہ امریکہ نے اس سلسلے میں مزید کچھ (do more ) کرنے کے لیے ہم پر دباؤ نہیں ڈالا۔ ورنہ ہماری اسٹبلشمنٹ امریکی مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہوتی۔ ڈرون حملے بھی عمران خان کی وجہ سے روکے گئے، آپ اسے جتنا بھی بدنام کریں، لیکن مغرب میں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ کیونکہ اگر عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے امریکہ کو اس drones کے لیے تنقید کا نشانہ بناتے تو یہ بین الاقوامی فورمز پر امریکا کے لیے انتہائی شرمناک صورتحال ہوتی۔

مغرب اور امریکہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں اور اسٹبلشمنٹ کو اپنی کمزوری کی وجہ سے کس طرح زیر کرنا ہے۔

لیکن یقین ہے کہ وہ عمران خان کو بلیک میل نہیں کر سکتے۔ مجھ پر بھروسا کریں میں مغرب میں رہا ہوں، مغرب آپ کا زیادہ احترام کرے گا، اگر آپ ان کے ساتھ براہ راست اور ایماندار ہیں اور اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہیں۔ اگر آپ ان کے جوتے پالش کریں گے اور منافق ہیں تو وہ آپ کی مزید بے عزتی کریں گے۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ مغربی میڈیا دوسرے پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور فوجی جرنیلوں کے انٹرویوز کے دوران کس طرح طعنے اور تحقیر کرتا ہے۔ لیکن وہی میڈیا عمران خان کی بات غور سے سنتا ہے۔

خان خواہ وہ کھردرا ہو لیکن پھر بھی مغرب اس کی عزت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی قوم سے مخلص ہے، منافق نہیں ہے، وہ صرف مغربی سامعین کو خوش کرنا نہیں چاہتا

میں آپ کو گارنٹی دے سکتا ہوں کہ کسی اور پاکستانی لیڈر یا آرمی جنرل نے امریکی ڈرون حملے روکنے اور احتجاج کرنے کی جرات نہیں کی

کچھ نام نہاد لبرل اور بزدل سیاست دان کہتے ہیں کہ خان پاگل اور غیر معقول تھا کیونکہ وہ امریکیوں کی نفی کرتا تھا، امریکہ سپر پاور ہے، امریکہ پاکستان کو معاشی طور پر اپاہج کر دے گا۔ اس کا بین الاقوامی سیاسی بصیرت سے کوئی لینا دینا نہیں کہ آپ اپنی ہی سرزمین پر ڈرون حملوں پر خاموش اور بزدل ہو جائیں۔

یہ صرف عمران خان تھا جس نے غیر قانونی مجرمانہ ڈرون حملوں کے لیے دنیا کی سپر پاور کے خلاف احتجاج کرنے کی جرات کی، جب پاکستانی سیاسی رہنما اور اسٹبلشمنٹ اس جرم میں امریکہ کے ساتھی تھے۔

Facebook Comments HS