ایک فین کلب کا شہزادہ جو عوام کے ایوان میں رسوا ہوا


پاکستانی سیاست کے انوکھے ہی رنگ ہیں، الگ ہی نظارے اور وکھرے ٹائپ کی اصطلاح بیانیاں ہیں جن کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر آج سیاست کے باوا آدم جن کے تصورات کی وجہ سے دنیا جمہوریت جیسے نظام حکومت سے متعارف ہوئی ہے وہ اگر زندہ ہوتے تو ہمارے طرز جمہوریت کو دیکھ کر سر پٹخنے لگتے اور شاید جمہوریت کا یہ روح پرور نظارہ دیکھ کر جمہوریت سے ہی تائب ہو جاتے۔ ویسے تو اس قوم کے حصے میں جمہوریت کی بہاریں آٹے میں نمک کے برابر آئی ہیں مگر جو آئی ہیں وہ بھی ملاوٹ زدہ تھیں، یعنی طاقت کا مرکز 22 کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک سہولت کار کہلاتا تھا جسے کہیں اور سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔

جمہوریت کوئی کلک بٹن سسٹم نہیں ہوتا جسے آن کرتے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جائیں بلکہ اس کی خوبصورتی بغیر کسی اندرونی و بیرونی مداخلت کے مسلسل چلتے رہنے میں پنہاں ہوتی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں ایسا ہوا ہے ہم اس کی بہاریں بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ زیادہ دور نہ جائیں بھارت کو لے لیں جہاں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا پورا موقع میسر آیا اور اسی ثمرات کی جیلسی کا مظاہرہ خان صاحب کے قوم سے خطاب میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے پھپھے کٹنے والی مائیوں کی طرح امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”تم انڈیا اور پاکستان کو ایک نظر سے کیوں نہیں دیکھتے ہو“ ؟

نو اپریل یعنی عدم اعتماد پر ووٹنگ کی رات قومی اسمبلی میں جو ہوا وہ میرے جیسے تاریخ و سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ہزاروں طالبعلموں کے لیے چشم کشا اور ہسٹری میکنگ تھا اور ایسے تاریخی لمحات بہت کم لوگوں کی زندگیوں میں آتے ہیں کہ جب ایک ایسی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہوتی ہے جو آنے والے وقت کی راہیں متعین کر جاتی ہے۔ خان صاحب کا ساڑھے تین سال کا دور حکومت اور تحریک عدم اعتماد کی اس سنسنی خیز رات تک کچھ ایسی اصطلاحات کا خزانہ ہم جیسے طالب علموں کو عطا کر گیا جس سے شاید ہم اور ہماری آنے والی نسلیں نجانے کب تک بے خبر رہتی مگر تھینکس ٹو عمران خان جن کے صدقے بہت سوں کا بھلا ہوا۔

خان صاحب کے رخصت ہو جانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے نہیں تھے بلکہ وہ ایک فین کلب کے شہزادے تھے جن کی خوبصورتی سے فائدہ اٹھانے کے لئے عارضی بندوبست کے طور پر مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے منتخب کروایا گیا تھا مگر ان کو مسیحا ہونے کا گمان ہونے لگا اور ان کا یہ خواب بڑی بے دردی سے ختم ہو گیا اور اب اس صدمے کی بازگشت مختلف جلسوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ فین کلب کے شہزادے کے خلاف امریکہ نے جیلسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے سیاستدانوں کو خرید کر انہیں ڈی تھرون کروا ڈالا۔

یہ جو کانسپریسی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ اسی واردات کا شاخسانہ ہے مگر وسعت اللہ خان کے مطابق ”یہ کانسپریسی نہیں ہے بلکہ خانسپریسی ہے“ ۔ ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی توشہ خانہ بھی ہوتا ہے جس میں سربراہان مملکت دوسرے ممالک کے سربراہان کے درمیان کچھ تحفہ تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں جنہیں توشہ خانہ یا ملکی خزانہ کے سرمائے میں اضافہ کرنے کے لئے جمع کروا دیا جاتا ہے اور اس توشہ خانے سے چیزیں نکال کر بیچنا انتہائی گھٹیا عمل تصور کیا جاتا ہے مگر چوہدری فواد کا فرمانا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ بھی پتہ چلا کہ پارٹی میں اے ٹی ایم بھی ہوتے ہیں جو وقت پڑنے پر جہاز کا استعمال کر کے پارٹی کی لائف لائن کو چلانے کے لیے بندوں کا بندوبست بھی کرتے ہیں اور جب اے ٹی ایم والے چھوڑ جاتے ہیں تو کیا حشر برپا ہوتا ہے وہ ہم نے تحریک عدم اعتماد کی رات مشاہدہ کر لیا ہے۔ ہم اس تاریخی لمحے کے بھی گواہ بنے جب کوئی بڑے عہدے پر براجمان ریاست سے بغاوت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیسے ریاستی ادارے ریاستی احکامات پر عملدرآمد کی خاطر حرکت میں آتے ہیں، رات 12 بجے عدالتوں کا ایکٹو ہونا اور پریزن وین کا نمودار ہونا، یہ سب ریاستی طاقت کی چند لمحے کی پکچر تھی جس کا ہم نے مشاہدہ کیا۔

ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ قانون توڑنے والے اور یس مین ٹائپ بندوں کی فین کلب کے شہزادے کی نظروں میں کیا اہمیت بنی جس کا اظہار انہوں نے پشاور کے جلسے میں کچھ یوں کیا ”اس پورے سیاسی منظر نامے نے مجھے دو ایسے بندوں سے نوازا ہے جنہیں میں ہیروز کہتا ہوں ایک قاسم سوری اور دوسرے علی محمد خان ہیں“ ۔ ہم جیسے طالب علموں کو یہ بھی پتہ چلا کہ نیوٹرل اور اے پولیٹیکل کسے کہتے ہیں اور جب اس کا وار کسی لاڈلے پر پڑتا ہے تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔

ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی سٹاپ لسٹ بھی ہوتی ہے جس میں ان کا نام شامل کیا جاتا ہے جو کوئی واردات کر کے فوری ملک سے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینہ گزٹ بھی ہوتا ہے جو تھانے میں موجود ان سپاہیوں کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے جو مختلف سرکاری مہمانوں کی نگرانی پر معمور ہوتے ہیں۔ اسی گزٹ کے ایک صفحہ کا حوالہ دیتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ”کسی کو چھپکلی فوبیا بہت زیادہ ہے“ ۔ یہ تاریخ کتنی ظالم ہوتی ہے اور طاقت کا زور ٹوٹتے ہی ایسے ایسے مدفون رازوں کو اگل دیتی ہے جسے طاقت کے ذریعے وقتی بندوبست کے طور پر دبا دیا جاتا ہے۔

فارن فنڈنگ کیس جو فین کلب کے شہزادے کا ذاتی توشہ خانہ تھا جس کا کچھ دنوں میں فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ ان تاریخی لمحات نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے، سیکھنے اور جانچنے کے اس عمل سے ہم یہ جان پائے کہ سیاسی بونے کون ہوتے ہیں؟ اور جو سیکھنا ہی نا چاہے تو 22 سالہ مسلسل جدوجہد بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی چاہے وہ امیرالمومنین بھی بن جائے۔ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے اور سامنے آنے کے باوجود بھی بہت سے ابھی بھی اس سراب کا شکار ہیں کہ فین کلب کے شہزادے کو ایک اور موقع ملنا چاہیے بھلا ایسی ڈھیٹ قوم کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS