عمران خان کو مائنس کرنا ممکن نہیں


جو ظاہر میں ہوتا ہے ضروری نہیں کہ پردے کے پیچھے بھی وہی ہو رہا ہو، جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں، جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں۔ اسی فارمولے کی بنیاد پر کچھ نادیدہ قوتیں کام کرتی ہیں، ریاستی امور، نظام حکومت چلاتی ہیں۔ پاکستان کے ”معصوم لوگ“ ظاہری تبدیلیوں پر ہی ”ایمان“ لے آتے ہیں۔ کبھی کسی آمر کو اپنا مسیحا مان لیتے ہیں تو کبھی کسی جاگیر دار کو اپنے درد کا مداوا سمجھ لیتے ہیں، کبھی کسی ٹیکنو کریٹ کی بات پر کان دھرتے ہیں تو کبھی کسی کھلاڑی کے نعرے لگاتے لگاتے ہلکان ہوئے جاتے ہیں، تبدیلی کے اصل کرداروں کے بارے میں تو کبھی سوچتے ہیں نہیں۔

حال ہی میں ایک تبدیلی آئی ہے، چہرے بدلے ہیں، عمران خان کی جگہ شہباز شریف آ گئے، عثمان بزدار کی جگہ وزیر اعظم کا بیٹا حمزہ شہباز آ گیا۔ جو کہتے تھے نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی، وہ غلط ثابت ہوئے، اور جو اب یہ سوچ رہے ہیں کہ عمران خان ماضی کا حصہ بن جائیں گے تو امید ہے وہ بھی غلط ثابت ہوں گے سوال یہ ہے کیا عمران خان کو سیاسی میدان سے الگ کیا جاسکتا ہے؟ نئے انتخابات کی جانب پیش رفت ہو پائے گی؟ محاذ آرائی کی اس کیفیت میں انتخابات کا کوئی فائدہ ہو سکے گا؟

سابق وزیر اعظم اپنے جلسوں میں گرج برس رہے ہیں، عوام ہیں تو خوب سے خوب تر ہوتے جا رہے ہیں، ہر اگلے جلسے میں عوامی سیلاب کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے، دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، امپورٹڈ حکومت نامنظور کا ٹرینڈ سوشل میڈیا سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہا۔

ہمیں نہیں پتا کہ تقاریر میں کس کو مخاطب کر رہے لیکن فارن فنڈنگ کیس کو جواز بنا کر عمران خان کو سیاست سے باہر نہیں کیا جاسکتا، ان کا سیاست میں ایک مقام ہے، عمران خان خطرہ تو ہیں، ان کی فین فالوونگ بھی ہے، جب ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کیا گیا تو وہ زیادہ خطرناک ہو گئے تھے، ان کے جلسوں کی مقبولیت انتہا کو پہنچ گئی تھی، وہ لاڑکانہ سے جب لاہور پہنچے تھے تو پورا لاہور ان کے جلسے میں امڈ آیا تھا۔ جب یہ مقبولیت بڑھی تو بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ بنایا گیا، جو کام اس وقت کیا گیا تھا اب یہ ممکن نہیں۔ اب عوامی زور اور شعور بدل چکا ہے، عوامی زور عمران خان کی طرف ہے لیکن حکومت کسی اور کے پاس ہے، ملک کی معاشی صورتحال اچھی نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔

عمران خان کا حشر جی ٹی روڈ بیانیے جیسا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اس وقت معاملات سکرپٹ کے خلاف ہے۔ عوام مان جائے کہ عمران خان چلے ہوئے کارتوس ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ عوام تو جوق در جوق عمران خان کے جلسوں میں آرہے ہیں، سابق سرکاری اہلکاروں میں غصہ پایا جاتا ہے، اگر کسی کو لانا تھا تو کوئی اور چہرہ لایا جاتا، نون لیگ سے وہی باپ بیٹا اقتدار میں آ گئے ہیں۔

عمران خان ایک سیاسی قوت ہیں، کوئی بھی مائنس ون نہیں ہوسکا، ذوالفقار بھٹو کو مائنس نہیں کیا جا سکا، نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا لیکن سیاست عوام میں سے مائنس نہیں کیا جا سکا، پانامہ میں 460 افراد کا نام آیا تھا لیکن صرف نو از شریف کو کیوں سزا دی گئی، اب عمران خان کو پتا ہے کہ کون لوگ ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ شیخ رشید نے فوج کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ عمران خان کو لانا پڑے گا۔ عمران خان کو عوامی طاقت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ بھٹو لاکھوں دلوں میں زندہ ہے، نواز شریف کو سیاسی کھیل سے نہیں نکالا جا سکا، کیا عمران خان کو سیاست سے نکالا جا سکے گا؟

اگر کسی کے مقبول سپورٹ ہو، اسے آپ استعمال کر سکتے ہوں تو ایسے لیڈر کو سیاست سے بے دخل کرنا مشکل ہوتا ہے، سٹیٹ کے اداروں کے خیالات بھی بدل جاتے ہیں، ایک یہ چیز ضرور ہے کہ ریاستی اداروں، قوت کو استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو تباہ ضرور کیا جاسکتا ہے، ان کی ساکھ کو خراب کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے پاس اہم ٹول فارن فنڈنگ کا ہے، جو پہلی مرتبہ سامنے آیا۔ سیاسی جماعتوں پر پابندیوں کے نوے فیصد قوانین مارشل لا کے ادوار میں آئے ہیں۔

پہلا پولیٹکل ایکٹ ایوب دور میں آیا تھا، اس کے بعد دیگر آمروں نے اسے استعمال کیا، کسی قوت کو استعمال کر کے مخالف کو دبانے سے ملکی سیاست کو نقصان پہنچتا ہے۔ توشہ خانہ کیس کو اچھالا جا رہا ہے، اگر یہ اتنا اہم ہے تو پہلے نواز شریف اور گیلانی کے کیسوں کا فیصلہ کیا جائے، جب امتیازی بنیادوں پر فیصلے کیے جاتے ہیں تو یہ مشکوک ہو جاتے ہیں۔

عمران خان کا پیغام اپنے مخالفین کے لئے ہے، عمران خان کو حکومت سے نکال کر سڑکوں پر بھیج کر ایک نیکی کی گئی ہے، اگلی نیکی یہ ہے عوام ان کے جلسوں میں جوق در جوق آرہے ہیں۔ عوام باشعور ہیں۔ عمران خان کو سیاست کے علاوہ کوئی کام نہیں وہ چوبیس گھنٹے سیاست کریں گے۔ اس وقت چیلنج خادم پاکستان کے لئے ہے۔ اس حکومت کو منفی سوچ کے بجائے سوشل اور اکنامک ایشوز پر توجہ دینی چاہیے۔ نون لیگ سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ باپ کو وزیر اعظم، بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے۔ اگر حکومت قیمتیں کم کرنے میں کامیاب ہو گئی تو عمران خان کو نیوٹرلائز کیا جاسکتا ہے، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے اختیارات میں فرق ہوتا ہے، وزیر اعظم نے صوبوں سے ڈیل کرنی ہوتی ہے۔ پالیسی کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کا پالیسی مینجمنٹ کا رول ہوتا ہے پروجیکٹ مینجمنٹ رول نہیں ہوتا۔

سب تاویلیں اور تبصرے اپنی جگہ۔ پاکستان میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان بیرونی ایجنڈے پر چل رہے تھے، فارن فنڈنگ کیس کو بنیاد بنا کر ان کی پارٹی کو پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے، کچھ دن پہلے کسی کو یہ یقین نہیں تھا کہ عمران خان کو اس طرح اقتدار سے باہر نکال دیا جائے گا۔ کھیل کی بساط بچھانے والوں بڑی سمجھداری سے اپنے کھیل کو شروع کیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ سب ظاہر ہوتا جائے گا، کہتے ہیں نہ وقت زخم بھی ہے اور وقت مرہم بھی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments