سیاسی اختلاف اور اخلاقی گراوٹ
ملکی سیاسی گہما گہمی اس قدر عروج پر ہے کہ ہم رمضان المبارک جیسے مہینے کا تقدس تک بھول گئے ہیں، اقتدار کی بھوک عہدوں کی لالچ نے عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو آپس میں دست و گریباں کر رکھا ہے، رہی بات عوام کی وہ سوشل میڈیا کے محاذ پر لفظی جنگ میں دھکیلے جا چکے ہیں۔ میں سیاسی منظر نامے یا سیاسی وابستگی پر کوئی بحث یا مقدمہ نہیں لایا ہوں، ہر انسان خود مختار ہے وہ جس پارٹی سے بھی اپنی وابستگی رکھے لیکن کچھ ہماری اخلاقی حدود ہیں ان سے تجاوز ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک قسم کا اخلاقی بحران پیدا ہوا ہے ہر کوئی جذبات کی زد میں آ کر اپنی شخصیت کو داغدار کر رہا ہے، دوستیاں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قائم ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ ایسے اچھالا جا رہا ہے جیسے یہ سب کرنے سے ان کی پارٹیوں کو اقتدار مل جائے گا یا شاید یہ عمل حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے پر اثر انداز ہو گا۔
میں چند بہت بنیادی باتیں آپ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ عمران خان ہو، شہباز شریف ہو یا زرداری بلاول ہو مریم ہو یا پھر مولانا فضل الرحمن دودھ کا دھلا کوئی نہیں ہے نہ ہی کوئی پرفیکٹ ہے، ان کے دفاع میں کو ہم گلے پھاڑ رہے ہیں وہ بے سود ہیں اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی دوستیوں اور رشتوں کو قربان کر رہے ہیں۔ اخلاق سے گری حرکتیں آوازیں نعرے بیان بازی کرنے والے اگر ایک قوم کا خواب دیکھ رہے ہیں تو وہ قوم ریت کی دیور سے بھی زیادہ کمزور ہوگی۔
ضروری نہیں کہ کسی پارٹی کی اندھی تقلید اور کسی شخصیت کے سحر میں آ کر اس کی اندھی پیروی شروع کی جائے، آپ سمجھداری کا مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر سیاسی اختلاف ہیں یا پھر سیاسی وابستگی ہے تو آپ صحت مند مباحثے اور دلائل کے ساتھ بھی تو بات کر سکتے ہیں، آپ کی اپنی شخصیت کا وجود بھی تو آپ کے لیے اہم ہونا چاہیے سیاسی اختلاف میں اخلاقی گراوٹ تو نہیں ہونی چاہیے اگر آپ کو لگتا ہے آپ ٹھیک ہیں تو اپنے دلائل میں وزن پیدا کریں اپنی بات کو پر اثر بنائیں اور اگر کسی بات پر اختلاف رائے کا سامنا ہوتا ہے تو برداشت اور مخالف کے دلائل سننے کا حوصلہ بھی رکھیں، آواز اونچی رکھنا گلے پھاڑنا بے تکے جواب اور دلائل سے اپنے مخالف پر رعب جمانا بات نہ بنے تو گالیوں پر اتر آنا آپ کی اپنی شخصیت میں بہت بڑا خلا پیدا کرے گا آپ اپنی قدر و قیمت میں کمی کا باعث بنے گا۔
کسی بھی سیاسی پارٹی سے سے وابستگی یا مخالفت آپ کا حق ہے لیکن وہیں معاشرے میں اخلاقی حدود سے تجاوز نہ کرنا ان کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے۔ گفتگو میں نرمی لہجے میں توازن آپ کی اپنی شخصیت کوئی پر اثر بنائے گا سیاسی جنگ میں خود کو اس قدر بھی نہ دھکیلو کی اپنی شخصیت کو داغدار کر بیٹھو اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے معاشرے کے بگاڑ میں اپنا حصہ ڈال بیٹھو۔
اس تناظر میں سب سے اہم اور ضروری بات سوشل میڈیا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر جو جنگ چھڑی ہوئی اس میں سب سے زیادہ اخلاقی تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ سوشل میڈیا آپ کے ہاتھ میں ہے آپ اس سے جو مرضی شیئر کریں جیسے مرضی اس کا استعمال کریں لیکن کیا اس میں اخلاقی اقدار کا خیال رکھنا ضروری نہیں ہے؟ سوشل میڈیا میں فیس بک ہو ٹویٹر ہو یا انسٹاگرام آپ کی پروفائل اور آپ کی ٹائم لائن آپ کی شخصیت کا آئینہ ہے اس کے ذریعے اکثر لوگ آپ کے بارے میں رائے بناتے ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ اس آئینے کو صاف رکھا جائے اپنی شخصیت کو داغ دار نہ ہونے دیا جائے۔
کوئی رائے یا کوئی بات شیئر کرتے وقت ہمیشہ خیال رکھیں کہ آپ تہذیب کے دائرے میں رہ کر کر رہے ہیں کسی کے تصویر کے ساتھ گدھے گھوڑے کتے لگانا یا ان سے مشابہ بنانا ایسی چیزیں اپنی وال سے شیئر کرنا کسی مہذب انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ کسی کو کمنٹ میں گالیاں دینا اپنے ہی دوستوں کے ساتھ بحث چھیڑنا ایک دوسرے کو نیچا دیکھنا کیا کسی تہذیب یافتہ انسان کا کام ہو سکتا ہے؟
ہمیں سیاست کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے اس بارے میں بحث کرتے ہوئے یا سوشل میڈیا پہ ترویج کرتے ہوئے نہایت احتیاط برتنی چاہیے کہیں یہ نہ ہو کہ ہم اپنی ذات پر داغ لگا دیں اور اپنی شخصیت کا آئینہ دھندلا اور گندا کر دیں، ہم سب سے پہلے مسلمان پھر پاکستانی ہیں ہمیں ہر حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک مہذب قوم بن سکیں۔


