کنکوبائن (داشتہ) : ست رنگے کی کہانی
میرا نام۔ جان کر کیا کریں گے؟ نام میں کیا رکھا ہے؟ کتنی واہیات سوچ ہے۔ نام اپنے اندر تہذیب، ثقافت وغیرہ وغیرہ میں سے کچھ نہ کچھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد عرض ہے کہ میرا نام رین بو ہے۔ یہ اچھا نام ہے کیونکہ اس میں شناخت بھی ہے میری۔ مجھے ایسا نام پسند ہے کہ جس میں کچھ نا کچھ مخفی ہو۔ خفیہ پن اور پر مغز معنویت یہ دو ہی چیزیں ہیں جن کو نام میں لازمی شامل ہونا چاہیے۔ یہ میں نے انگریزی سے سیکھا ہے جہاں نام سے ہی فنکشن کی جھلک آتی ہے۔
ویسے یہ اصول مشینوں اور ان کے پرزہ جات پر زیادہ لاگو ہوتا ہے مگر میرا سب سے عزیز بت بھی تو مجھے مشین کہتا ہے سو مجھے رین بو کہنا ہی بہتر ہو گا نہیں بلکہ کونکو بائن۔ ارے ہاں۔ یہ دونوں ہی میرے فنکشنل نام ہیں جب میں سے میرا سیلف مراد ہو گا تو رین بو اور جب میرے بت مجھے ڈیفائن کریں گے تو کنکوبائن۔ رین بو نے کچھ حد تک مجھے ڈیفائن کر دیا ہو گا مگر کنکوبائن سمجھانے کے لیے آپ کو میرے بتوں کے پاس چلنا پڑے گا۔ چلنا چاہو گے؟ رکو ایک منٹ اجازت لے لوں۔
اچھا سنو، کنکوبائن پتہ ہے کسے کہتے ہیں؟ ڈکشنری مت دیکھو غلط بتائے گی۔ وہ رین بو کا بھی غلط ہی بتائے گی۔ کنکوبائن اس کردار کو کہتے ہیں کہ جس سے اس کی موضوعیت چھین لی جائے، اس کا سیلف چھین لیا جائے۔
یہ میرا پہلا بت ہے۔ یہ پتھر تھا، بالکل خام، راستے میں پڑا تھا ہر کوئی ٹھوکر مارتا تھا مگر یہ کنکوبائن نہیں تھا کیونکہ اس میں شعور ہی میں نے اپنی لگن سے پیدا کیا تھا۔ اس پر میں نے سالوں محنت کی تھی اور اس کو پتھر سے بت اور بت سے خدا بنایا تھا اس میں حسن کا وہ احساس جگایا تھا کہ سب لوگ اسے پوجنے لگے تھے۔ میں خود اپنی اس تخلیق کا ایسا گرویدہ ہوا تھا کہ خالق سے غلام بن بیٹھا اور اب میں اس خوبصورت ترین بت کی مرضی کے مطابق چلتا ہوں۔ صرف وہی بولتا ہوں جو یہ سننا چاہتا ہے۔ اور اس کے چہرے سے تم دیکھ سکتے ہو کہ اس کو یہ تعارف پسند نہیں آیا کیونکہ میں نے اپنی رائے تمہیں پیش کی ہے جو کہ کنکوباین نام کے خلاف ہے سو آؤ آگے چلتے ہیں میں واپس آ کر گڑگڑا کر اس سے معافی مانگ لوں گا اور یہ معاف کردے گا۔
یہ میرا دوسرا اور سب سے مقدس بت ہے۔ رکو میں اس کے پاؤں چوم لوں۔ نہیں نہیں میں فٹ فیٹش نہیں ہوں اس نے اپنی انا کی تسکین اور مجھے اپنے ساتھ باندھے رکھنے کے لیے پاؤں کے لمس کے زنجیر ایجاد کر رکھی ہے۔ تم ہی بتاؤ کیا اس کے پاؤں ایسے نہیں کہ ان کو چوما جائے؟ خیر تم کیا جانو، تم رین بو تھوڑی ہو!
یہ عام پتھر نہیں تھا بلکہ اس کے نقوش اسی قدر ہی خوبصورت تھے میں نے تو بس اس کو یقین دلایا تھا۔ اور یہ ضروری بھی کیونکہ میں بلا کا صنم گر واقع ہوا ہوں جس کے لیے ہی تو یہ مجھے مشین بھی کہتا ہے۔ دانت مت نکالو میری انا کو ٹھیس پہنچے گی کیونکہ تم میرے بت نہیں ہو اور ان بتوں کے علاوہ کسی کو میرا مضحکہ اڑانے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ میرا ایسا بت ہے کہ جس نے میرے ساتھ مل کر ایک دوسرے کے تکمیل کی تھی مگر پھر اس نے اپنی ایک دیوی تراشی اور خود تخلیق کار بن بیٹھا۔ مگر میں خود کو اس سے الگ نہیں کر پایا ہوں۔ ہاں میں نے کچھ بار کوشش کی ہے مگر اپنی جان لینے کی ہمت پر ہمیشہ بزدلی حاوی ہو جاتی ہے اور وہی بزدلی پھر مجھے اس کی طرف لے آتی ہے۔ یہ میرا ایک ایسا بت ہے جو اس لیے مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے کیو نکہ میرا نام رین بو ہے اور اس کی اسی نفرت کے سبب میں اس کا غلام بن چکا ہوں۔ کیا میرے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ ہے؟ ہاں ہے مگر تم کو پتہ ہے کہ خودکشی کی میرے اندر ہمت نہیں ہے۔ سو اب میں اس کا بھی کنکوباین بن کر رہ رہا ہوں اس کی مرضی کے مطابق ہی اس سے بات کرتا ہوں اور اسی کے من چاہے پیرائے کا اندازہ لگا کر زندگی کا پیرایہ اپنانے کی کوشش کرتا ہوں مگر ناکام رہتا ہوں۔
یہ مجھے کہہ رہا ہے کہ میں اپنے الفاظ واپس لوں اور اپنی بکواس بند کروں۔
مزید دکھانے کے لیے یہ ٹوٹے ہوئے بت پڑے ہیں۔ یہ بھی میں نے محنت سے بنائے تھے مگر یقین کرو ان کو توڑ کر مجھے بے انتہا مسرت ملی تھی۔


