جدیدیت، نوآبادیاتی نظام اور مذہب کا تاریخی منظرنامہ
جدیدیت کی تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن، روبن ڈیکارٹ، تھا مس ہو بس جیسے مفکرین کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے قابل دریافت (Deterministic) ہے، اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابل اعتبار ہیں جو عقل، تجربہ اور مشاہدہ کی مذکورہ کسوٹیوں پر کھرے ثابت ہوں۔
ان فلسفیوں نے مابعد الطبیعیاتی حقائق (Metaphysics) اور مذہبی دعوؤں کو اس وجہ سے قابل رد قرار دیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورا نہیں اترتے۔ ڈیکارٹ نے ”I think، therefore I am“ (میں سوچتا ہوں، اس لئے میں ہوں ) کا مشہور اعلان کیا جو جدید مغربی فلسفہ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعور، عمل سے سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
پاسکل اور والٹیر جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لامحدود بالادستی اور واحد سرچشمۂ علم ہونے کے اس تصور کو عام کیا۔ اور یہی افکار عقلیت اور جدیدیت کی بنیاد بنے۔ جنہیں ریشنل ازم کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔
”جدیدیت جہاں معاصر شعوری تجربہ ہے وہاں یہ زمانی اعتبار سے اپنے معاصر تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا نام بھی ہے۔ جہاں یہ قدیم سے انکار کرتی ہے وہیں یہ روایت کی بہتر تعبیر بھی کرتی ہے، یہ کہنا بھی صائب ہو گا کہ ہر دور کی اپنی جدیدیت ہوتی ہے، ہر آنے والا دور پچھلے دور کے لئے جدید ہوتا ہے۔“ (1)
اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیر اور ڈیدراٹ جیسے الحاد کے علمبرداروں نے مذہب کا کلیتاً انکار کر دیا۔ جبکہ ہیگل جیسے متشکک (Antagonist) مذہب کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اسے عقل کے تابع بناتے ہیں۔ اور مذہبی حقائق کو بھی دیگر عقلی مفروضات کی طرح قابل تغیر قرار دیتے ہیں۔
موجودہ دور میں مسلمان بہ حیثیت مجموعی جس بحران کا شکار ہیں اور انہیں جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان پر غور کرنے اور سوچنے کی ضرورت ازبس ناگزیر ہے۔ اس مسئلہ کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب اور اسلام کے درمیان یہ کش مکش اور تصادم صدیوں پرانا ہے، اور آج اس کا اظہار مغرب کی جانب سے پوری شدت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ تصادم اور کش مکش کا ایک تسلسل ہے۔
ہمیں اس مرحلہ پر اس سوال کا جواب بھی ڈھونڈنے کی ضرورت ہے کہ اگر اسلام ایک متحرک اور جاندار مذہب ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک اور معاشرے پس ماندگی او ر جہالت کا شکار ہیں اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ اس قسم کے سوالات مسلمان دانشوروں کو اس وقت بھی درپیش آئے تھے جب اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں مسلمان ممالک کولونیل ازم کے تسلط میں آئے تھے۔ اس وقت بھی ان معاشروں میں دو رد عمل پیدا ہوئے تھے ایک وہ جس کو ہم احیاء کی تحریکیں کہتے ہیں جو کہ اسلام کے مثالی معاشرے کے قیام کی جدوجہد کے لئے سرگرم تھیں۔
کیونکہ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اس عمل کے ذریعے ہی پس ماندگی کو دور کیا جا سکے گا۔ دوسری تحریک جدیدیت یا ترقی پسندی کی تھی، اس میں کوشش کی گئی کہ اسلام کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ترقی کی راہوں کو ہموار کر کیا جا سکے۔ لیکن تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ دونوں ہی تحریکیں جو مذہب سے جڑی ہوئی تھیں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہیں۔
کولونیل ازم کے خاتمے، اور اس کے آزاد ہونے کے بعد بھی آج یہ سوال پھر اسی طرح سے مسلمان معاشرے کے سامنے ہے کہ سیاسی، معاشی اور ثقافتی پسماندگی کو کیسے دور کیا جائے؟ اس کا ایک حل تو انتہا پسند مذہبی جماعتوں کے پاس ہے، جن کے نقطۂ نظر سے مغرب کی جدیدیت نے مسلمان معاشرے کو جاہلیت میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ جاہلیت کی ان قدروں کو جہاد کے عمل کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ لہذا اپنے مقصد کے حصول کے لئے وہ تشدد کے ذرائع استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انسانی فطرت گناہ کی طرف مائل رہتی ہے، اس لئے اسے صرف طاقت اور جبر کے ذریعے سے ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہم نے افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں دیکھا، او راس ذہنیت کا مظاہرہ ایران میں علماء کے تسلط میں بھی ہوا۔ اور اس کے ساتھ اب پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا میں شریعت بل کا نفاذ بھی ہو چکا ہے اور افغانستان میں بھی طالبان ایک دفعہ پھر سے (ری۔ بوٹ) ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق:
”خاص بات یہ ہے کہ انتہا پسند مذہبی جماعتیں مغرب کی جدید ٹیکنالوجی کو خوشی سے اختیار کر لیتی ہیں کیونکہ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ٹیکنالوجی غیر جانبدار ہوتی ہے اور اسے جس طرح سے چاہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر سماجی، سیاسی اور ثقافتی اقدار خطرناک ہیں کیونکہ ان سے عقائد پر ضرب پڑتی ہے۔ اس لئے مغربی افکار و خیالات، مذہبی انتہا پسندی کے مقابلے میں اسلام کی ترقی کا نظریہ اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکا۔“ ) 2)
او ر اس کے ساتھ یہ کوشش کہ اسلام کی تشکیل نو کی جائے اور اسے جدید زمانے کے تقاضوں کے تحت ڈھالا جائے، ایک محدود مغربی تعلیم یافتہ لوگوں میں تو مقبول ہے مگر عوام میں اس کی جڑیں نہیں ہیں۔ اس کی مثال ہندوستان میں اصغر علی انجینئر اور مولانا وحید الدین خان ہیں، جن کی کوششیں کہ ہندوستان میں اسلام کو سیکولر اور جمہوری ماحول میں ڈھالا جائے ناکام نظر آتی ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت ان کے خیالات کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔
وہ انتہا پسندی اور مقدس صحیفوں کی قدامت پسند ترجمانی کے خلاف تھے۔ اپنے مذہبی اور روحانی خیالات کا مکمل اظہار کرنے کے لیے انھوں نے 1970 ءمیں دلی میں ’اسلامک سینٹر‘ قائم کیا۔ اس کے بعد 1976 ءمیں انھوں نے ماہانہ ’الرسال‘ کا آغاز کیا۔ یہ جریدہ، جو کہ مکمل طور پر ان کے مضامین پر مشتمل تھا، اردو زبان کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو گیا۔ ان کے مضامین لوگوں کو اسلام کے پرامن چہرے کو سمجھانے، مسلمانوں میں اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے اور مثبت سوچ اور عمل کو فروغ دینے پر زور دیتے تھے۔ مگر مولانا بھی بنیاد پرستوں کی تنقید اور ان کے تمام تر دعووں کو ادعا بے جا کہے جانے پر جلد زچ ہو گئے اور اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ:
”آپ کا مطالعہ آپ کو ایک سمت میں لے گیا ہے جس کے برعکس میرا مطالعہ مجھے دوسری جانب لے گیا ہے۔ اگر آپ اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ میں نے دین کو مکمل طور پر غلط سمجھا ہے تو پھر آپ اس نقطہ نظر سے خود کو الگ کر لیں۔ جسے آپ صحیح سمجھتے ہیں اس کی مثبت تشہیر کریں مگر اگر آپ میری ترجمانی میں غلطیاں ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ اپنی کتاب شائع کر سکتے ہیں۔“ (3)
اور اب ان دو گروہوں کے بعد تیسرا گروہ بھی وجود میں آ رہا ہے۔ جسم ہم ایک محتاط طریقے سے ”جہادی“ گروپ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ علم سے زیادہ عمل پر یقین کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسی تمام قوتیں جو اسلام کے خلاف ہیں۔ چاہے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی ان کے خلاف جہاد کر کے انہیں ختم کر دینا چاہیے۔ چونکہ یہ علم، بحث و مباحثہ یا پھر ڈائیلاگ کو مسائل کا حل نہیں سمجھتے، اور اپنے ریڈیکل خیالات کے ساتھ، تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے اپنے مخالفین کو کچلنا اور کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
اسی ضمن میں ڈاکٹر مبارک علی رقمطراز ہیں :
” ہمارے ہاں وہ مذہبی جماعتیں بھی ہیں کہ جن کی بنیاد تو احیاء کی تحریکیں تھیں مگر اب یہ جماعتیں چلینجوں کا فکری جواب دینے کی بجائے سیاسی اقتدار کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ مثلاً ایجیپٹ (مصر) میں اخوان المسلمین اور پاکستان میں جماعت اسلامی۔ یہ دونوں تحریکیں ابتداء میں اسلام کو درپیش خطرات کا مقابلہ فکری جدوجہد سے کر رہی تھیں مگر اب یہ جماعتیں محض سیاست تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ نا تو مصری حسن البنا سید قطب ہیں اور نہ ہی مولانا مودودی امین احسن اصلاحی ہیں بلکہ یہ وہ لیڈر ہیں جو مذہب سے زیادہ سیاست میں مشاق ہیں۔ “ (4)
اس وقت مغرب میں اسلام کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسلام ان کے نزدیک تشدد، جبر اور دہشت گردی کا نظریہ جو مجاہدین کی ان جماعتوں کو تیار کر رہا ہے جو جدیدیت کے خلاف ہیں۔ اس لئے پھر ایک مرتبہ یہ سوال شدت سے ابھرا کر آیا ہے کہ مسلمانوں کو اس بحران سے کس طرح نکلنا چاہیے؟ کیا مذہب کے سہارے سے یا جدید دور کے تقاضوں کے تحت جمہوری اور سیکولر روایات کو اختیار کر کے؟ سیاسی طاقت و اقتدار کے سلسلے میں ہمارے سامنے دو ماڈلز ہیں : ایک وہ ماڈل کہ جس میں سیاسی طاقت ایک محدود گروہ میں مرتکز ہو جائے اور وہ جبر و تشدد کے ذریعے لوگوں پر حکومت کرے۔ اور دوسرے ماڈل میں طاقت معاشرے کے گروہ اور جماعتیں آپس میں اشتراک کرتی ہیں۔ پہلے ماڈل میں عوام کی اکثریت مجبور و بے بس ہوتی ہے۔ اسے اس کی محنت کا پھل نہیں ملتا۔ جبکہ دوسرے ماڈل میں لوگوں کو آزادی ہوتی ہے اور وہ اپنی توانائیوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر کے معاشرے کو آگے کی جانب لے جاتے ہیں۔
اکثر اسلامی ملکوں میں ریاست کا پہلا ماڈل یہ ہے کہ عوام کو جاہل، غریب رکھ کر ان کو ذہنی طور پر پسماندہ بنایا جائے۔ اس نے عوام او ر ریاست کو ایک دوسرے سے نہ صرف دور کر دیا ہے بلکہ وہ ریاست کو بطور دشمن دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب ریاست عوام کی وفاداری اور ہمدردی کے حصول کے لئے کبھی مذہب کا سہارا لیتی ہے تو کبھی نیشنل ازم اور حب الوطنی کے جذبات استعمال کرتی ہے۔
اور جہاں تک بات ہے محض جدیدیت اور کالونیلزم تک محدود رہنے کی تو جدید ترین نظریات کو بھی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کس حد تک آسودگی بخشے ہیں۔ پوسٹ ماڈرن ازم، ماڈرن ازم کا ایک منفی رد عمل ہے اور اس گھپ اندھیرے کا مظہر ہے جس میں مسلسل کئی نظریات کی ناکامی اور ابطال کے بعد ہمارے عہد کا پڑھا لکھا انسان بھٹک رہا ہے۔ افکار، نظریات، اور فلسفوں کی عالیشان عمارتیں اس برے طریقے سے زمین بوس ہو گئیں کہ نئے زمانے کے فلسفیوں نے عافیت اسی میں محسوس کی کہ سوچنا ہی چھوڑ دیا جائے۔
فکر و خیال اور سچائی کے تصورات ہی کو واہمہ قرار دیا جائے۔ جو وجودیت، کیوب ازم، ڈاڈا ازم اور سوریئلزم کے نظریات کو ہوا دیتے ہیں۔ نظریہ اور آئیڈیالوجی کو ایک ناپسندیدہ شے قرار دیا جائے اور حیات انسانی کو حالات اور افراتفری کے حوالے کر کے پوسٹ ماڈرن ازم کی جنت میں چین کی بانسری بجائی جائے۔ تمام جھوٹے خداؤں کے زمین بوس ہو جانے کے بعد پوسٹ ماڈرن ازم دراصل لا الہ کا اعلان ہے۔
بقول اقبال:
یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
حوالہ جات:
1۔ عزیز احمد، ہندو پاک میں اسلامی جدیدیت، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، کراچی، 1990ء، ص، 45
2۔ مبارک علی، ڈاکٹر، گم شدہ تاریخ، فکش ہاؤس، لاہور، 2005ء، ص33
3۔ وحید الدین خان، مولانا، رسالہ ”الرسال“ مضمون:عقلمند کرنے سے پہلے سوچتا ہے، (اشاعت، جولائی، 1983ء) ، ص17
4۔ مبارک علی، ڈاکٹر، گم شدہ تاریخ، فکشن ہاؤس، لاہور، 2005ء، ص34


کافی پر مغز باتیں تھیں۔ عمدہ تحریر
حوصلہ افزائی کے لئے بہت بہت شکریہ سر۔۔۔۔!