آذر بائیجان میں عمران خان کی مقبولیت


آج میرے ساتھ کام کرنے والے کچھ آذر بائیجان کے ساتھیوں نے عمران خان کے استعفے اور اسمبلی توڑنے پر استفسار کیا تو یقین کیجئے بہت خوشی ہوئی کہ خان صاحب نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو عالمی منظر نامے میں اپنی ایک مخصوص جگہ بنا لی ہے۔ اور یہ حضرات خان صاحب کی عالمی سطح پر کی گئی تقریروں اور انٹرویوز کے بھی فین تھے۔ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ان کو پاکستان کا موجودہ منظر نامہ سمجھایا اور نئے الیکشنز کے متعلق بتلایا، انہوں نے بڑے انہماک اور جوش سے پوچھا کہ کیا خان یہ الیکشن جیت جائے گا؟ لو جی ادھر بھی خان کے حامی پہنچ گئے ہیں۔ انٹرنیشنل لیڈر ہو گئے خان صاحب دی گریٹ!

خان صاحب اور ان کے کزن قادری صاحب کے دھرنے کی مخالفت کے باوجود میں نے 2016 میں کہا تھا کہ میری دعا اور خواہش ہے کہ اللہ کریم خان صاحب کو وزیر اعظم بنائے، کہ یہ نگینہ جو ابھی اس دولتانہ بازار کی زینت نہیں بنا ذرا اس کو بھی رونق بازار ہونا چاہیے تاکہ بھاؤ تاؤ کا پتا چل سکے۔

2018 میں نتائج دیکھ کر اور پھر بھاگ دوڑ کر کے خان صاحب نے بھان متی کا کنبہ اکٹھا کر لیا، حالانکہ مجھے امید تھی کہ خان صاحب زیادہ تر نوجوانوں کو کابینہ میں رکھیں گے، ناتجربہ کار سہی لیکن ملک کی آئندہ بھاگ دوڑ انہی کے سر ہو گی۔ لیکن حضرت نے وہی پرانے گھاگ اکٹھے کر لئے جو ہر حکومت کا حصہ رہے اور کابینہ میں بیٹھ کر پرانی حکومتوں کے لتے لینے میں خان صاحب کے سر سے سر ملاتے رہے اور ظاہر ہے ایسے خوشامدانہ سر کس کو ناپسند ہو سکتے ہیں۔ خان صاحب کے طرز گفتار سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے کیونکہ ان کی دیکھا دیکھی پڑھے لکھے افراد بالخصوص نئی نسل نے کچھ اچھا نہیں سیکھا۔

وزیر اعظم کا سفر ڈنڈا بردار مثبت رپورٹنگ سے سو دن سے ہوتا ہوا چھ مہینے اور پھر ایک سال تک پہنچا، لیکن جن تلوں کو خان صاحب نے اتنی بھاگ دوڑ سے اکٹھا کیا تھا ان میں سے تیل تو کب کا نکل چکا تھا یا پھر یوں کہہ لیں کہ انہوں نے اس قوم کا جو بچا کھچا تیل تھا وہ بھی نکال لیا۔ پھر جیسے ہی اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال آیا تو آہستہ آہستہ یہ سرکنے لگے۔ بندوبست والے بھی پہلو تہی کرنے لگے۔ خان کو احساس ہونے لگا تھا کہ کیا کھیل رچایا گیا ہے اور پھر خان نے اپنی زنبیل سے جادو والے پتے نکالنے شروع کر دیے، یاد کریں کچھ ایسے ہی جادو والے پتوں کا قوم پچھلے ساڑھے تین سال سے انتظار کر رہی تھی لیکن خان صاحب سروں میں گم رہے۔

اتحادی ٹوٹتے بنتے رہے، جہاز والے آتے جاتے رہے، خان صاحب نے عجیب و غریب دھمکیاں دیں لیکن یہ بھان متی کا کنبہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ تو پھر خان صاحب نے بھی اپنے پتوں کو سنبھال سنبھال کر پھینکنا شروع کیا، اسلام آباد کا پاور شو، مراسلہ اور آخر میں ترپ کا پتا عدم اعتماد کا پتہ کاٹنا اور قومی اسمبلی کو آخری دھکا دینا۔ اس دن پی ڈی ایم کی شکل دیکھنے والی تھی۔

امید ہے کہ ان 3.5 سال میں خان صاحب نے کچھ سبق سیکھے ہوں گے اور اگر ان کو دوبارہ اقتدار ملا تو نوجوانوں کو آگے لائیں گے، معیشت اور قانون سازی پر توجہ ہو گی۔ احتساب کے لئے مزید کوئی شہزاد اکبر نہیں ڈھونڈیں گے۔ اداروں کو مضبوط کریں افراد کو نہیں، شاید ماضی میں خان صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی نعرہ ہوا کرتا تھا۔

Latest posts by سید تصور عباس، باکو - آذربائیجان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید تصور عباس، باکو - آذربائیجان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments