کابل میں لڑکوں کے سکول کے باہر دو دھماکے، چھ افراد ہلاک
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔
حکام نے کہا ہے کہ دھماکے دشت برچی کے علاقے میں عبد الرحیم شاہد ہائی سکول کے باہر ہوئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سکول کے قریب ایک ٹیوشن سنٹر پر بھی گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے۔
کسی گروہ نے ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ ماضی میں نام نہاد دولت اسلامیہ شیعہ آبادی والے اس علاقے میں حملے کرتی رہی ہے۔
کابل میں محمد علی جناح ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابھی تک ہسپتال میں چار لاشیں اور 19 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکے اس وقت ہوئے جب طالبعلم صبح کی کلاسوں کے بعد سکول سے جا رہے تھے۔
دھماکوں کے مقام کی تصاویر میں زمین پر خون کے دھبے اور طالبعلموں کی نوٹ بکس بکھری پڑی دیکھی جا سکتی ہیں۔
کابل کے مغربی حصے میں واقع دشتِ برچی میں پہلے بھی کئی دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری دولت اسلامیہ قبول کرتی رہی ہے۔ اس علاقے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت آباد ہے۔
ہزارہ آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور وہ افغانستان میں ایک اقلیت ہیں جنھیں ماضی میں بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ سکول کے قریب ایک ٹیوشن سینٹر جہاں یونیورسٹی میں داخلے کے خواہشمند طالبعلم تیاری کر رہے تھے، اسے بھی گرینیڈ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد دولت اسلامیہ کی کاررائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد ان حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی تھی۔
شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ پچھلے کئی برسوں سے افغانستان میں شیعہ آبادی والے علاقوں کو نشانہ بناتی رہی ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ دولت اسلامیہ ماضی میں بھی سپورٹس ہالز، ثقافتی مراکز اور تعلیمی مراکز کو نشانہ بناتی رہی ہے۔
گزشتہ برس مئی میں دشت برچی کے علاقے میں لڑکیوں کے سکول پر حملے میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں طالبعلم اور سکول کے عملے کے افراد شامل تھا۔


