فساد کا سرچشمہ

عوام میں خلش و کاوش، افسردگی و پژمردگی، پریشانی اور دل گرفتگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اقتدار کے جبری حصول کے خاطر جو کھلواڑ کیا جا رہا ہے اس نے دنیا کے سامنے قوم کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ ایک ایسے معاملے کا ذکر بڑی ہولناک، عمیق اور تباہ کن انا پرست کی توسط سے، آتش فشاں ہلاکت کے کنارے پر پہنچ چکا جو ملک و قوم کے لئے قطعی طور پر اچھا نہیں، اس عمل سے مملکت خداداد تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی تھی تاہم ریاست کے حفاظتی بند نے ایسے کف بردہاں مہیب سیلاب کو آگے بڑھنے سے احسن طریقے سے روک دیا۔ قیام پاکستان کے خلاف روز اول سے ہی سازشیں ہوتی رہی اور انہیں طشت از بام ہونے سے قبل ریاستی ادارے ناکام بھی بناتے رہے اور رہیں گے۔ لیکن اب جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سینہ کوبی اور غوغا آرائی وطن سے محبت نہیں بلکہ خود پرستی ہے۔
سیاست میں کچھ ایسے بھیانک چہرے بے نقاب ہوئے، جن کے قول و فعل کے تضاد نے خود کو ہی آشکار کیا۔ اقتدار سے محروم ہونے تک سب کچھ انا پرست کی توقعات کے خلاف ہوا، اس لئے اس پر خفقان کے دورے پڑ رہے ہیں، اقتدار کو بچانے کے لئے جس قدر کذب و افتراء سے کام لیا اور جس قدر بے سروپا افسانے نشر کیے ، فرضی داستانیں شائع کی، جتنے جھوٹ بولے ہیں، جس قدر دشنامی کی ہے، وہ سب اس امر کی شہادت ہیں کہ کرسی سے محرومی کے جھٹکے کی تاب نہ لاکر، حواس باختہ ہوچکے اور پاگلوں کی سی حرکتیں کرنے لگ گئے ہیں۔ حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ دنیا کو یہ کماحقہ معلوم ہو چکا ہے کہ کرسی سے محبت کتنی گہری ہوتی ہے کہ اس کو بچانے کے لئے کس کا ہاتھ، کس حد تک کارفرما رہا۔
واضح رہے کہ جو سیاسی جھکڑ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس سے یہ بے نقاب ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا میں وضعی اور جھوٹی خبروں کا سو نامی آیا ہوا ہے، اس تباہی کا ذمے دار کون ہے یہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔ درحقیقت یہ ایک اعصابی جنگ تھی جس کا بڑی ہمت اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا گیا اور ریاستی اداروں نے ایسے حوصلہ شکن حالات میں، نہ تو ہمت ہاری اور نہ ہی دامن ضبط و تحمل کو ہاتھ سے جانے دیا۔ بدتر حالات میں بھی فتنہ سازوں کو اداروں نے ایسا دنداں شکن جواب دیا جس کے نقوش تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ مرتسم رہیں گے اور متشدد خلل کے نشان تو مٹ جائیں گے لیکن یاد رہے گا کہ ملکی سالمیت مضبوط ہاتھوں میں تھی اور ہے۔ منافقین نے جہاں اپنی بد باطنی اور خباثت کا جو ثبوت دیا، اس پر ریاست نے جو اباً مخلصانہ جذبے اور فرائض کا حق ادا کر دیا ہے۔
اقتدار کے لئے جس طرح آئین کو روندا گیا اور ریاست کی رٹ کو لتاڑا گیا، اس کا ایسا ردعمل آیا کہ ابھی تک جھرجھری لے رہے ہیں۔ دکن کے غدار میر صادق اور بنگال کے میر جعفرؔ کی سازشیں تو ابھی کل کی بات ہے، ان دونوں نے مسلمانوں کی دو عظیم سلطنتوں کو جس طرح تباہ کرایا تھا وہ بھی ہماری تاریخ کا عبرت ناک المیہ ہے۔ لیکن اب شہر در شہر در بدر پھرنے اور فساد فی الارض پھیلانے والے کی کرب انگیز، اضطراب خیز اور صد ہزار عبرت آمیز حالت کا نقشہ ملاحظہ کیجئے کہ قوم کو گمراہ اور نوجوان نسل کو مزید تباہی کا دوچار کرنے کے لئے جھوٹ و منافقت کا لبادہ اوڑھ کر وطن عزیز میں آگ لگانے کی اصل و مذموم سازش کر رہے ہیں۔ عدم برداشت کے ایسے کلچر کو متعارف کرا دیا کہ اب اس کی بیخ کنی کیسے ہوگی شاید وہ خود بھی نہیں جانتے۔
ملک کو بحرانوں میں مبتلا کرنے والوں نے جو کچھ کیا اور جو ان کے عزائم تھے، اس کے پیش نظر ان کے جرم کے اثبات کے لئے کسی مزید شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اس لئے ضروری ہے کہ ان کی چہروں سے جلد از جلد نقاب اتاری جائے کیونکہ بے بنیاد پراپیگنڈا سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے، اقتدار سے محروم طبقے کے سر خیل اپنے رفقا کے نام ایسی ایسی ہدایات جاری کرتے ہیں کہ جس میں اب کوئی شبہ نہیں کہ فساد فی الارض کے لئے فروعی مفروضوں کے اختراع کی خبریں وضعی اور جھوٹی ہیں۔
ملک میں جو بھی خلفشار رونما ہوا اس میں شبہ نہیں رہا کہ ان کا براہ راست تعلق اس پارٹی سے ہے جس کی اپنی صفوں میں کرپٹ، اقربا پرور اور عوام کو معاشی تباہی کا شکار کرنے والے شامل ہیں، بڑے بڑے نام نہاد ذمے داران جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں، اس کے بعد ریاست کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے کہ حب الوطنی کے لبادے میں ملک دشمن عناصر موجود ہیں اور ان کی طرف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ پہلے جب وہ خود ارباب نظم و نسق کے ذمے دار تھے تب بھی اس قسم کے بیانات منصہ مشہود پر آتے رہے جو مسند اقتدار پر ایسے عناصر براجمان موجود تھے جنہیں خارجی قوتوں کی طرف سے ہر قسم کی امداد ملتی رہی۔
قوم کو سمجھنا ہو گا اور حاضر فتنے کے پس پردہ حقائق کو جاننا ہو گا، اگر یہی حال رہا اور اس ضمن میں کوئی موثر تدابیر اختیار نہ کی گئی تو اس فتنے کو بڑھنے اور پھیلنے کی مہلت سے موجودہ خلفشار کی مکروہ شکل ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن جائے گی، قوم ریاستی اداروں کی شکر گزار ہے کہ اس نے، ان کا جس عزم اور حزم سے مقابلہ کیا، اس سے ملک تباہی سے بچ گیا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ملک کو پوری طرح کھنگالا جائے اور ایسے عناصر اور ان کے سرپرستوں کی سرکوبی کی جائے جنہوں نے اداروں کے تقدس کو پامال کیا، اس کے ساتھ ہی اس قسم کی تدابیر اختیار کی جائیں کہ شر پسند مذموم عناصر پھر سے زمین گیر نہ ہونے پائیں، خواہ اس کے لئے کیسی ہی بطش (سخت گیری) سے کیوں نہ کام لینا پڑے، حاضرہ فتنے کی سرکوبی کے لئے ہر قسم کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ یاد رکھئے نہ کوئی جماعت ساری کی ساری خراب ہوتی ہے اور نہ ہی وہ از خود فساد انگیزیوں پر آمادہ ہوتی ہے، یہ چند افراد ہوتے ہیں جو قوم کو بگاڑ دیتے ہیں اور انہیں پابند کردینے سے فساد کا سرچشمہ بند ہوجاتا ہے۔

