سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات
اکیسویں صدی میں ذرائع ابلاغ نے بہت ترقی کی ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ کی آمد سے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے بھی بہت ترقی کی۔ ہم اپنا پیغام دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بآسانی سیکنڈوں میں پہنچا سکتے ہیں گویا کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے بہت سے فوائد ہیں مثلاً ہر شخص کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی ہیں جن کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر سوشل میڈیا کے فوائد کا ذکر کیا جائے تو اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے تو بہت سے فوائد ہیں جیسے کہ تعلیم حاصل کرنا آج کل کے دور میں بہت آسان ہو گیا ہے مثلاً یوٹیوب کے ذریعے معلوماتی ویڈیوز دیکھ کر ہم اپنی معلومات میں بے پناہ اضافہ کر سکتے ہیں جو شخص بھی جس قسم کی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے اس تک اس کی پہنچ بہت آسان ہو گئی ہے۔
اس کے بعد ہر شخص کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے وہ اپنا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے تمام لوگوں یہاں تک کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں تک بھی پہنچا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کاروباری طبقے کو بھی بہت فائدہ ہے مارکیٹنگ سوشل میڈیا کے ذریعے بہت ہی آسان ہو گئی ہے کسٹمرز اپنی من پسند چیزیں آنلائن ذرائع سے بآسانی گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے ٹرینڈ یا رائے عامہ کے ذریعے آپ حکومت کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔
جہاں سوشل میڈیا کے بہت زیادہ فوائد ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا مثبت کی بجائے منفی استعمال بھی زیادہ ہے۔ وہ اپنا بہت سا قیمتی وقت سوشل میڈیا پہ ضائع کر دیتے ہیں۔ آج کل کے نوجوان فیس بک کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی و جسمانی صحت پہ بھی فرق پڑتا ہے وہ سوشل میڈیا کے بہت زیادہ استعمال سے اپنے گھر والوں کو بھی وقت نہیں دے پاتے۔ اس کے بعد اظہار رائے کی آزادی ہونا ایک اچھی بات ہے مگر سوشل میڈیا پر مثبت انداز میں تنقید کی بجائے ایک دوسرے کو گالم گلوچ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مخالفوں کے خلاف ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں جس کے ذریعے لسانیت، صوبائیت اور فرقہ واریت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اظہار رائے کی آزادی ایک کنٹرول حد تک ہونی چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا کا استعمال اس کے فوائد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا چاہیے گالم گلوچ کی بجائے اچھے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کرنی چاہیے تاکہ ہم ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔


