پانی کا تیزی سے بڑھتا ہوا بحران


وطن عزیز دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو خدا کی تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ بلکہ قدرتی وسائل اور نعمتوں کی فراوانی میں پاکستان کو سر فہرست کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ سرسبز چراگاہیں، زرخیز زمینیں، دریا، سمندر، نخلستان، پہاڑ ہو یاں گلیشیئرز غرض کائنات کی تمام خوبصورتیاں اور حسن مملکت خداداد میں سمویا ہوا ہے اور یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اللہ رب العزت کی انہی نعمتوں میں سے ایک سب سے بڑی نعمت پانی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”پانی زندگی ہے“ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پنہاں حقیقت ہے اور اس کی گہرائی سمندروں کی وسعت سے بھی زیادہ ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے یہ ”زندگی“ ہم پر تنگ ہوتی نظر آ رہی ہے۔

بد قسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جہاں پانی وافر مقدار میں بھی موجود ہے اور پانی کی قلت بھی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان میں پانی کی دستیاب مقدار ڈھائی سو ارب کیوبک میٹرز ہے، جس میں سے نوے فیصد زراعت، چار فیصد صنعت اور باقی چھ فیصد گھریلو استعمال کے لیے ہے۔ یعنی ڈھائی سو میں سے صرف 15 ارب کیوبک میٹر پانی گھریلو استعمال کے لیے دستیاب ہے۔

2016 میں پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان 1990 میں واٹر سٹریس لائن تک پہنچ گیا تھا اور 2005 میں پانی کی قلت کی لائن عبور کرلی تھی۔ سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا چوتھا نمبر ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1017 کیوبک میٹر ہے جبکہ 2009 میں یہ دستیابی 1500 کیوبک میٹر تھی۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دستیابی 500 کیوبک میٹر تک پہنچ گئی تو ملک 2025 تک مطلق پانی کی قلت کا سامنا کرے گا۔

2025 تک پاکستان کی پانی کی طلب 274 ملین ایکڑ فٹ، جبکہ پانی کی فراہمی 191 ملین ایکڑ فٹ تک ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانی کی قلت کی ایک بڑی وجہ بدانتظامی ہے۔ اس تناظر میں ایک بڑی وجہ غیر موثر زرعی نظام ہے جبکہ ناقص پالیسی سازی اور لوگوں میں پانی کے محتاط استعمال کی آگاہی نہ ہونا پاکستان میں پانی کی قلت کا باعث بن رہے ہیں۔

پاکستان بارش، برف اور گلیشیئر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے کیونکہ ملک کا 92 فیصد حصہ نیم بنجر ہے لہذا پاکستان اپنی پانی کی فراہمی کے لئے بارش پر منحصر ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے مٹی میں موجود پانی بھی تیزی سے بخارات بن کر سوکھ رہا ہے، جس سے فصلوں کے لئے پانی کی طلب میں بھی اور اضافہ ہو رہا ہے۔ واش واچ اورگنائزیشن کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق آزادی کے وقت پاکستان میں فی صد پانی کی مقدار 5 ہزار چھ سو کیوبک میٹرز تھی جبکہ اب وہ کم ہو کر فیصد ایک ہزار 17 کیوبک میٹرز رہ گئی ہے جو کہ ایک پریشان کن حد تک کم سطح ہے لگ بھگ ایک کروڑ 60 لاکھ لوگوں کے پاس گندا پانی پینے کے سوا اور کوئی چارا ہی نہیں ہے۔

پی سی آر ڈبلیو کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد اموات پیٹ کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں جس کی بنیادی وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے۔ پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ڈیموں کی قلت بھی ہے ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے، پاکستان پانی کا صرف 10 فیصد ہی ذخیرہ کر پاتا ہے۔ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے، پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 2 بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ ہمارے لیے کافی ہے؟

سال 2017 میں ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لئے منگلا ڈیم کے حجم جتنے 3 مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات بھی کیے جائیں۔ ماہرین نے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور اس کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لئے نیشنل واٹر پالیسی کے مطابق واٹر ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم تربیلا ڈیم جیسے پانچ بڑے ڈیمز جتنا پانی ضائع کر رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہو سکتا ہے۔

پانی کی قلت کو کن اقدامات سے ممکنہ طور پر کم کیا جا سکتا ہے اس حوالے تفصیلی ذکر میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں کر چکا ہوں جس میں اس وقت کے وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کو خاص طور پر تجاویز اور سفارشات بھیجی تھیں۔ انہوں نے ان تجاویز کو سراہا تھا تاہم اب وہ اقتدار میں نہیں رہے۔ امید ہے کہ نئی حکومت ماحولیاتی تبدیلی بالخصوص پانی کی قلت کے اس معاملے پر سابقہ سنجیدگی کو جاری رکھے گی۔ مجھ سمیت اب کئی صحافی اگرچہ ماحولیات اور موسمیاتی تغیرات پر رپورٹنگ کا کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی مزید لوگوں کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اور عوام میں شعور بیداری کے لئے میڈیا کو اپنا ہنگامی کردار ادا کرنے کے لئے کمر کس لینی چاہیے۔ بشیر بدرؔ کہتے ہیں کہ

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

Facebook Comments HS