والدین کی ججھک اور قانون کی سست رفتاری: بچوں کے مجرم سزا سے کیوں بچ جاتے ہیں؟


وقت جیسے جیسے کروٹیں بدل کر جدتوں کی نئی انگڑائیاں لے رہا ہے اسی رفتار سے جرائم کی نئی اشکال بھی دلوں کو رنجیدہ کرنے کے لئے پر تول لیتی ہیں۔ بچوں کا استحصال ویسے تو آج کل کی نہیں، صدیوں پرانی بپتا ہے۔ اس استحصال کی اقسام اور شرح مگر انسانی آبادی کے تناسب سے ہی زور پکڑ رہی ہیں۔ ضرب کاری جیسی بلیک میلنگ کی خاطر بچوں کا اغوا برائے تاوان، اغوا کے بعد جنسی استحصال و قتل، جنسی زیادتی کے دوران بچوں کی نازیبا وڈیو رکارڈنگ، دوستی کو دھوکہ بنا کر اجتماعی بدفعلی کرنے جیسے کئی کریہہ جرائم کی خبریں آئے روز اخبارات کی سرخیوں میں آہ و بکا کر رہی ہوتی ہیں یا ٹیلیویژن اسکرین پر سرخ پٹیوں میں چنگھاڑ رہی ہوتی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سن بلوغت سے کم عمر افراد کی ملکی آبادی 53 فیصد ہے۔ لیکن اس کثیر آبادی کو استحصال سے محفوظ رکھنے کا بندوبست انتہائی مخدوش ہے۔ ”ساحل“ کی رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں روزانہ دس بچے استحصال کا شکار ہو رہے تھے۔ صوبہ سندھ میں صرف 6 ماہ کے دوران 03 سے 15 سال تک کی عمر کے 502 بچے استحصال کا شکار ہوئے۔ اکثر اوقات دلیل دی جاتی ہے کہ بچوں کے استحصال میں ملوث مجرموں کے خلاف قانون کو جتنا موثر اور بلا رعایت استعمال کیا جائے گا جرائم بھی اسی تناسب سے کم ہوسکتے ہیں۔

وطن پاکستان اور بالخصوص صوبہ سندھ میں صورتحال مگر اس ضمن میں اچھی تصور نہیں کی جا رہی کیونکہ بچوں کے استحصال سے متعلق یا تو کیسز درج نہیں ہوتے (تھانے جانے سے قبل ہی والدین سماجی دباؤ کے تحت مجرموں کے ساتھ تصفیہ کرلیتے ہیں ) یا پھر کیس درج کروانے کے بعد کورٹ کچہری کے چکروں سے تنگ آ کر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایک سوال ہر وقت زیر بحث رہتا ہے کہ ”کیا یہی وہ طرز عملے جس کی وجہ سے بچوں کا استحصال کم نہیں ہو پا رہا“ ؟

”ساحل“ کے سکھر میں متعین کوآرڈینیٹر برکت انصاری نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”جتنے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ صوبہ سندھ کی کثیر آبادی کا مسکن دیہی علاقے ہیں۔ اکثر واقعات جو کہ دیہی علاقوں میں ہوتے ہیں وہ دبا دیے جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے دلخراش جرم کو والدین خود دبا دیتے ہیں کیونکہ معاملے کو اچھالنے کی وجہ سے انہیں اپنی عزت خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے“ ۔

اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے برکت انصاری نے یہ بھی کہا کہ ”بچوں کے ساتھ استحصال کے واقعہ سے متعلق اکثر اوقات ایک کمزور ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ پھر مدعی پر ہر طرح کا سماجی و سیاسی دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ جرم کا ازالہ مالی جرمانہ دے کر کرتے ہیں۔ 90 فیصد جرائم کا تصفیہ اس ماحول میں ہو رہا ہے۔ جبکہ ایسے والدین جو کہ زیادہ تر شہروں سے تعلق رکھتے ہیں وہ اگر کیس کورٹ تک لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں انہیں دس دس سال کیس کی پیروی کرنا پڑتی ہے جو کہ بہت مشکل اور نفسیاتی اعتبار سے تباہ کردینے والا سلسلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کسی طرح کم نہیں ہو پا رہے“ ۔

ضلع گھوٹکی کے چھوٹے سے شہر کھنبڑا میں رہائش پذیر ایک زرعی مزدور نے کافی منت سماجت کے بعد ملاقات کے لئے وقت دیا۔ ان سے ملاقات اس لئے ضروری سمجھی کہ ان کے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ایک آوارہ نوجوان نے پہلی مرتبہ تب جنسی زیادتی کی جب بچے کی عمر سات سال تھی۔ جنسی زیادتی کے بعد متاثرہ لڑکے کو کئی دن سکھر کے اسپتال میں گزارنا پڑے۔ اپنے کچے گھر کے باہر ایک درخت کی چھاؤں تلے ہمیں چارپائی پر بٹھا کر وہ زرعی مزدور اس بات پر حیران تھا کہ ہم اس کے بیٹے کے ساتھ ہونے والے واقعات کو کیوں کرید رہے ہیں!

۔ ہمیں اندازہ تھا کہ ہمارے سوال اس کی وہ تکلیف تازہ کر رہے تھے جسے شاید وہ ذہن کی کسی کونے میں سلا چکا تھا۔ اس اطلاع پر کہ اس کی باتیں میڈیا میں شایع کی جائیں گی اس نے ہاتھ جوڑ کہا کہ ہماری شناخت ظاہر نہیں کرنا، باقی ہوا یوں کہ ”میرے بچے کے ساتھ بندے نے برا فعل کیا، بچے کو ہسپتال میں بھرتی کروا کر میں تھانے کے چکر کاٹنے لگا لیکن پولیس نے کوئی قدم نہیں اٹھایا پھر علاقے کے ایک سردار جو کہ ان دوں حکمراں جماعت کا مخالف تھا اس کی چٹھی دیکھ کر این سی داخل کی گئی۔

پھر دباؤ میں آ کر تصفیہ کیا اور ہمیں پچاس ہزار جرمانہ دیا گیا۔ بات ختم ہو گئی۔ پھر چار سال بعد اسی بندے نے میرے بیٹے کو اپنے دوست سمیت اغوا کیا اور کئی دن نشہ دے کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اس دفعہ ایف آئی آر درج کروائی لیکن کیس اس طرح درج ہوا کہ انصاف نہ ملا۔ ایف آئی آر میں وقوعہ کچھ اور لکھا گیا، میڈیکل رپورٹ کچھ اور تھی، جھوٹے گواہ آ گئے، وکیل ہڑتالیں بہت کرتے ہیں۔ بہت خرچہ کیا لیکن انصاف نہیں ملا۔ اس دفعہ تصفیہ بھی نہیں کیا بس مال مویشی ہانکے اور کنبہ ضروری اشیا کے ساتھ دریا کے اس پار (کشمور) سے اس پار (گھوٹکی) لے آیا ہوں“ ۔

حیدرآباد سے شایع ہونے والے سندھی زبان کے معروف اخبار ”کاوش“ کے گھوٹکی میں مقرر رپورٹر الہورایو بوزدار کا کہنا ہے کہ ”کئی ایک واقعات کا ہمیں پتہ چلتا ہے لیکن گھوٹکی کے قبائلی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پہلے بچوں کے ورثاء سے خبر دینے کی اجازت لیتے ہیں تو خبر شایع کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ خبر آنے سے عزت مزید تار تار ہو جائے گی۔ اسی پس منظر میں والدین تھانے کچہری بھی نہیں جاتے“ ۔

واضح رہے کہ 2018 میں پنجاب کے شہر قصور کی رہائشی معصوم زینب کے اغوا اور قتل کا بہیمانہ واقعہ سامنے آنے کے دو سال بعد پارلیمنٹ کی جانب سے ”زینب الرٹ بل 2021“ کے نام سے قانون منظور کرتے ہوئے بچوں کے استحصال کی سزا عمر قید مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ نئے قانون کے مطابق پولیس کو پابند کیا گیا ہے کہ بچے کے لاپتہ ہونے کے دو گھنٹے بعد ایف آئی آر درج کردی جائے گی۔ جبکہ ملکی آئین کی شق 25 ( 1 ) کے مطابق ”ملک کے تمام شہری (بشمول بچے ) مساوی حقوق رکھتے ہیں“ ۔

جبکہ آئین کی شق 37 (اے ) کے مطابق ”کسی بھی بچے کے ساتھ کوئی غیرانسانی، متشدد، ہتک عزت، عزت نفس کو مجروح کرنے والا عمل روا رکھا نہیں جا سکتا“ ۔ یہ بھی واضح رہے کہ پاکستان پینل کوڈ 1860 کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا کم سے کم چودہ سال کی عمر قید اور زیادہ سے زیادہ 25 سال تک قید بامشقت ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ میں بھی بچوں کے تحفظ کی غرض سے چائلڈ پروٹیکشن ایجنسی کا قیام بھی عمل میں آ چکا ہے، باوجود اس کے بچوں کے ساتھ استحصال کے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔

عدالتوں میں زیر التویٰ مقدمات اور دیگر معاملات پر بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ محمد علی سہتو نے ”بچوں سے جنسی زیادتی اور استحصال کے محض 02 فیصد کیس عدالتوں تک پہنچتے ہیں جن میں سے بھی بہت قلیل کیسز میں مجرموں کو سزا ملتی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ باقی عوامل کے ساتھ وکلا بھی ایسے کیسوں کو کم اہمیت دیتے ہیں اور وکلا سیاست کی وجہ سے آئے روز کی ہڑتالیں اور التویٰ کا رواج بھی مقدمات نمٹانے میں خلل ڈالتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کے کیسز کو بھی خصوصی انتظام کے ساتھ زیر سماعت ہونا چاہیے تا کہ مجرموں کو بروقت اور قانون کے مطابق سزا ملے۔ ایسا ہونے سے بچوں سے متعلق مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی“ ۔

جبکہ بچوں کے ساتھ استحصال سے متعلق کام کرنے والے سکھر کے صحافی ممتاز بخاری کا کہنا ہے کہ ”بچوں کے ساتھ استحصال روکنے کے لئے ضروری ہے کہ والدین شرمساری کے جذبات کو ترک کریں، جبکہ صوبائی حکومت جتنے قوانین بنا چکی ہے ان پر بلا امتیاز عمل کروائے۔ حکومت، پولیس اور عدالت اگر لچک دکھانا چھوڑ کر مجرموں کو سزائیں دینے لگیں گی تب ہی جا کر بچوں کا استحصال صفر کے قریب کھڑا ہو گا“ ۔

Facebook Comments HS