غلو عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے
غلو میرے نزدیک ایک ایسا مرض ہے جو انسان میں جس شہ کے لیے جس رفتار سے صراحت کرتا جاتا ہے اسی رفتار سے اس کی عقل کو زائل بھی کرتا جاتا ہے۔ اس کے ثبوت آج کل کے حالات میں کافی عیاں ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے سپورٹرز اس بات کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ گویا ان کا سچ یا حقائق سے کوئی لینا دینا نہیں بس میرا لیڈر صحیح۔ اس کی پارٹی کا غلط بھی صحیح اور سامنے والے کا ہر صحیح غلط۔ یہاں اس بات کو واضح کرنا بہتر ہو گا کہ اس تحریر میں پی ٹی آئی کو لے کے جو لوگوں کا غلو آج کل منظر عام پر ہے اس پر قلم کشائی کریں گے مگر اس کا ہر گز مطلب نہیں کہ مخالف جانب کے لوگ اس زمرے میں نہیں آتے۔ عین ممکن ہے کہ دوسری جانب کے لوگ اتنے یا اس سے بھی زیادہ اس بھنور میں پھنسے ہوں مگر ہماری اس تحریر میں مرکز نگاہ پی ٹی آئی کے لوگوں میں بڑھتا غلو کا مرض ہے۔
پی ٹی آئی 2013 کے انتخابات سے ایک نئی سیاسی جماعت کی طرح سامنے آئی جو پرانی پی ٹی آئی کی طرح لوگوں کی نظروں میں بس ایک سیٹ کی غریب جماعت نہیں تھی۔ اس کی مقبولیت میں تب اچانک کئی گنا اضافہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عوام کی امید کا محور بن گئی۔ اس وقت نئی نسل اور خاص کر خواتین میں پی ٹی آئی کی حمایت اور پذیرائی عام نظر آتی تھی اور اب بھی یا محض عمران خان بھی کہہ دوں تو شاید غلط نہ ہو گا۔ اس دور میں یہ بات کافی مشہور تھی اور مجھ خاکسار نے خود بھی اس کا تجربہ کیا تھا کہ جب پوچھا عمران خان ہی کیوں تو جواب تھا کہ وہ ہینڈسم ہے۔
یہ جواب اپنے آپ میں ہمارے معاشرے کی قوت سوچ اور اخلاقیات پر ماتم کی مانند ہے۔ خیر اگر آگے پوچھ لیا جائے اور احساس بھی ہو جائے کہ محض ہینڈسم ہونا ملک چلانے کے لیے کافی نہیں تو آگے سے جواب آتا ہے کہ خان صاحب نے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کرکٹ ٹیم کو لیڈ کیا تھا تو ملک کو بھی اچھا لیڈ کریں گے۔ کوئی بھی صاحب عقل اس بات کو کیسے ہضم کرے کہ کرکٹ کی ٹیم چاہے ورلڈ کپ ہی جیتی ہو اس کو لیڈ کرنا اور ملک کو لیڈ کرنے میں فرق ہے۔
یہاں مجھے جاوید میانداد کی یاد آجاتی ہے جب انہوں نے ایک لائیو میراتھون میں جہاں عمران خان صاحب وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے براجمان تھے کہا تھا کہ میرے پاس ملک کے مسائل حل کرنے کا پلان ہے۔ تو اس وقت کچھ عرصے کے لیے جاوید میانداد صاحب کو بھی ملک دے دینا چاہیے تھا ہو سکتا ہے وہ ہی ملک کو بہتر کر دیتے کیوں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کے فرائض تو انہوں نے بھی سرانجام دیے تھے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ خان صاحب دنیائے کرکٹ کے بھی کوئی کامیاب ترین کپتان ثابت نہیں ہوئے تھے اگر حقائق دیکھیں تو دنیائے کرکٹ میں بہت سے کپتان ان سے بہتر جیت کی اوسط رکھتے ہیں مگر ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا کپتان ہونے کا اعزاز ان کے پاس ہے۔ خیر خان صاحب کے سپورٹر ایک جواب اور دیتے ہیں کہ وہ سچے اور ڈٹ جانے والی شخصیت ہیں۔ چلے جی یہ کم از کم یہ ایک بہتر جواب جو پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔
جب خان صاحب کی جماعت ایک پہلے عوام میں ایک غریب جماعت تھی اور ان کی اصل وجہ شہرت شوکت خانم کی میراتھون بنی ہوئی تھیں تب میرا بھی گمان خان صاحب کے بارے میں کچھ ایسا ہی تھا۔ مگر پھر دھرنے شروع ہوئے اور اس میں خان صاحب کا نیا پاکستان بنے تک شادی نہ کرنے کا بیان مگر بیان کے چند دن بعد ہی خبر آتی ہے کہ انہوں نے شادی کی ہوئی ہے اور پھر جلد اس کی تصدیق بھی ہوجاتی ہے۔ آج تک اس بات کی وضاحت میرے علم میں نہ آ سکی کہ بلاوجہ خان صاحب نے بھرے مجمع میں جھوٹ کیوں بولا۔
یہ کہہ لیں میرے لیے یہ پہلا صدمہ تھا جو خان صاحب سے لگائی امیدوں پر ملا۔ وقت گزرتا گیا اور خان صاحب کو اقتدار بنانے کے لیے لوگوں کی ضرورت پڑی تو جو لوگ پہلے چور ڈاکو تھے ان کو ساتھ شامل کر کے حکومت بنا لی اور یوں ڈٹ جانے والی چٹان بھی آخر میں ریت کا ٹیلہ ثابت ہوئی۔ حکومت بنے کے بعد جس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خود کشی کرنی تھی اس آئی ایم ایف سے قرض لے کر اور مقروض ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا قرض نہیں لیا جتنا خان صاحب کی حکومت کے دور میں آیا۔ یہاں کرونا وائرس کا جواز پیش کیا جاتا ہے جب کہ یہ قرض لینے کا سفر پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ ہاں مگر کرونا وائرس کے دوران ہمارے ملک کی کارکردگی کو انٹرنیشنل رپورٹ میں سراہا گیا ہے۔ جو ایک حد تک قابل اطمینان بات ہے۔
خان صاحب کی حکومت کو ہٹانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک 11 مخالف جماعتوں کی پی ڈی ایم کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اور کافی ڈراموں کے بعد وہ کامیاب بھی ہوجاتی ہے۔ پی ڈی ایم کے سپورٹرز میں خوشی اور پی ٹی آئی والوں میں غم و غصہ کی لہر ڈور جاتی ہے۔ پی ٹی آئی والوں کی جانب سے بات آتی ہے کہ خان صاحب کے لیے سارے چور اور لوٹے جمع ہو گئے ہیں۔ خیر یہ بات ملکی تاریخ اور حال اور کیسز کو دیکھتے ہوئے پوری طرح نہ بھی صحیح تو کافی حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔
مگر اس کے بعد جو طوفان بدتمیزی اور من گھڑت یا باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا دور شروع ہوا وہ رک کر نہیں دے رہا ہے۔ کسی کی حق بجا حمایت کرنا اور اس کی محبت میں اندھے ہوجانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ خان صاحب کو لے کے ان کے سپورٹرز کا غلو اس حد تک ہے کہ ان کے غلط کام کو سنا ہی گوارا نہیں کرتے۔ بد تمیزی اور یہاں تک کے اب گالیاں بھی عام ہیں۔ آپ حمایت کریں مگر اپنے اخلاقیات کو کھونے کی قیمت پر نہیں۔ ڈر تو یہ ہے کہ کہیں غلو اس حد تک نہ بڑھ جائے کہ اگر خان صاحب تھوکیں بھی تو یہ نہ کہہ دیں کہ یہ بھی کام ملک کی ترقی کے لیے کیا ہے کہ یہاں پودا اگ جائے۔
خیر اس سطر کو محض مزاح کے طور پر لیں فل حال اور احتجاج اور مظاہرے جو بھی کرنا آپ کا حق ہے اس کو کر سکتے ہیں مگر باوقار طریقے سے کریں۔ جلسے میں ملک کے لیے شامل ہو رہے ہیں مگر لوگ اس میں سارے تقدس بھول جائیں یہ مناسب بات نہیں۔ سمجھدار کو اشارہ کافی۔ آگے کسی کی بھی حمایت یا مخالفت علم کی بنا پر کریں اور آپسی محبت اور احترام کو اپنے غلو کی بھینٹ نہ چھڑنے دیں کیوں کہ غلو عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔


