خدارا انتہا پسندی کو روکیے


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے صحرائے عرب کے شہر مکہ کا معاشرہ انتہا پسندی کے عروج پر تھا۔ حسب نسب میں انتہا پسندی تھی۔ قومیت اور قوم پرستی میں انتہا پسندانہ رویوں کا غلبہ تھا۔ مال اور دولت کے حصول کے لئے بھی اہل مکہ انتہا پسندانہ خیالات رکھتے تھے۔ انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ لوگ معمولی باتوں پر تلواریں نکال کر خون ریزی پر اتر آتے تھے۔ حالی کے الفاظ میں

کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کبھی گھوڑا آگے دوڑانے پہ جھگڑا

ایسے عالم میں نبی رحمت ﷺ کی ذات بابرکات تازہ ہوا کا جھونکا بن کر مبعوث ہوئی۔ تبلیغ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے آپ نے احترام آدمیت کا درس دیا۔ اخلاقی قدروں کو مضبوط فرمایا۔ انتہا پسندی کی روش کو ختم کر کے اعتدال پسندی کی راہ پر گامزن کیا۔ معاشرے کے بدترین لوگ بھی آپ کی باتوں پر عمل کر کے کائنات بھر کے راہنما اور مقتدا بن گئے۔ وہ لوگ جو ذاتی مخالفتوں میں بات بات پر تلوار نکال لیا کرتے تھے باہم شیر و شکر ہو گئے۔

جو معاشرہ کے پسماندہ اور غلام طبقہ کو اپنے پاس بھٹکنے بھی نہیں دیا کرتے تھے وہ انتہا پسندی کو فراموش کر کے انہی غلاموں کی اقتدا کرنے لگے۔ اور پھر تاریخ عالم نے دیکھا کہ جب ان لوگوں نے انتہا پسندی کو ترک کیا تو وہ ایک قوم اور ایک پہچان بن کر ساری دنیا کے حکمران بن گئے۔ اور یہ حکمرانی اس وقت تک برقرار رہی جب تک یہ لوگ ایک دوسرے کے احترام اور اعتدال پسندی کے رستہ پر گامزن رہ کر ایک دوسرے کی سوچ اور فکر کو برداشت کرتے رہے۔

جب یہی قوم فرقوں اور مسا لک میں بٹ کر برداشت کھو بیٹھی، اعتدال پسندی کو چھوڑ کر انتہا پسندانہ روش کو اپنا بیٹھی تو ساری دنیا میں راندہ درگاہ ٹھہری۔

مملکت پاکستان کو بھی مسالک کی جنگ اور تفرقہ بازی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہم فرقوں میں بٹ کر اس حد تک برداشت کھو بیٹھے ہیں کہ مخالف فرقہ کے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا تو دور کی بات ان کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہم اپنے بچوں کے ذہنوں میں بھی اپنے پسندیدہ مسالک کے نظریات ٹھونس کر آنے والی نسلوں کو بھی نفرت کی آگ میں جھونک رہے ہیں۔

مذہبی انتہاپسندی نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رکھا تھا اب سیاسی انتہائی پسندی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ بحیثیت قوم سیاسی لحاظ سے ہماری سوچ اس قدر نفرت انگیز ہو چکی ہے کہ ہم مخالف سوچ اور نظریات رکھنے والوں کو غدار اور ملک دشمن تک سمجھنے لگ پڑے ہیں اور اب یہ سوچ اوپر سے لے کر نیچے تک معاشرے کی ہر سطح میں در آئی ہے۔ انتہائی پسندی کی اس روش نے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ کا فرق مٹا ڈالا ہے۔ چھوٹے اور بڑے کی تمیز ختم کر ڈالی ہے۔ روایات اور اقدار کا خون کر ڈالا ہے۔ وضع داری اور ملنساری کو خواب بنا ڈالا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے لئے بلائے گئے اجلاس کے دوران جو واقعات دیکھنے کو ملے کیا وہ ہماری انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی نہیں کرتے؟ کیا قائد ایوان کے انتخاب سے زیادہ جنگ و جدل کا نظارہ نہیں دیکھا ہم نے؟ کیا اسمبلی کے معزز اراکین کی روش دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لئے قانون سازی کرنے کے اہل ہیں؟ جس اسمبلی کا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اپنی ہی اسمبلی میں اپنے ہی اراکین کے ہاتھوں محفوظ نہ ہو اس اسمبلی کی تقدیس کا کیا کہنا۔ یہ مقدس ایوان تب تک مقدس رہتے ہیں جب تک ان میں دلیل کے ساتھ بات کی جائے۔ ایک دوسرے کے نظریات اور جذبات کا احترام کیا جائے۔ ایک دوسرے کے موقف کو سن کر پرکھا جائے۔ ایک دوسرے کے استحقاق کا خیال رکھا جائے۔

اے منتخب نمائندگان خدا را ان ایوانوں کی تقدیس کا خیال کریں۔ انہیں تماشا نہ بنائیں۔ یہاں انتہا پسندی کو فروغ نہ دیں۔ خدا را اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔

میرے ملک کے سیاسی و مذہبی قائدین! خدا کے لئے قوم کی راہنمائی کریں۔ انہیں اپنا نظریہ سمجھائیں مگر انتہا پسندانہ روش نہ اپنائیں۔ کسی کی سوچ آپ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ نظریہ مختلف ہو سکتا ہے۔ فکر مختلف ہو سکتی ہے۔ مگر وہ ہرگز ہرگز آپ سے کم محب وطن نہیں ہو سکتا۔ آپ سے کم محب رسول نہیں ہو سکتا۔ نظریات، سوچ اور فکر میں اختلاف کسی کے واجب القتل، غدار اور ملک دشمن ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی

انتہا پسندی وہ دیمک ہے جو خدا نخواستہ میرے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر سکتی ہے۔ اپنا کردار ادا کیجیے۔ اعتدال کا رستہ اپنائیے۔ ترقی اور خوشحالی کا رستہ اختیار کیجیے۔ ڈائیلاگ کیجئیے۔ میز پہ آئیے۔ موقف پیش کیجئیے دوسرے کا موقف سنئیے۔ ایک دوسرے کا احترام کیجیے۔ میثاق جمہوریت کیجئیے۔ میثاق معیشت پہ آئیے۔ رستے نکالیے۔ قوم کی راہنمائی کیجئے۔

انتہا پسندی کو روک لیجیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے خدارا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments