روس میں بینک کھاتے سے رقم نکلوانا آسان نہیں


میڈیا کی برق رفتار ترقی کے علاوہ جس دوسرے شعبے میں پاکستان روس سے کافی آگے ہے وہ بینکنگ کا شعبہ ہے۔ روس میں بینکنگ کے نظام پر بات کرتے ہوئے میرے ذہن میں سٹیفن لی کاک کا کم از کم پاکستان کی حد تک مشہور زمانہ مزاحیہ مضمون ’میرا مالیاتی سفر حیات۔‘ My Financial Career) ) بار بار گھوم جاتا ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ مضمون پاکستان میں ایف اے ؍ایف ایس سی کی سطح پر ٹیکسٹ بک بورڈ اور نصابی کتب کے اداروں کی طبعی سستی یا اپنی اثر آفرینی کی بدولت نسل در نسل پڑھایا گیا۔

مجھے یہ دو گونہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے زمانہ طالب علمی میں بار بار رٹنے کے فوراً بعد بحیثیت انگریزی کے استاد، اپنے معصوم طلبا کو بار بار رٹانا بھی پڑا۔ میرے لکھے کو با مہربانی خود ستائی سمجھا جائے نہ جملۂ معترضہ سے تعبیر کیا جائے کہ اس کا روسی بینکوں کے نظام اور وہاں پیش آمدہ واقعات سے ایک گہرا تعلق ہے۔

اس مضمون میں بینک میں قدم رکھتے ہی مصنف جن وسوسوں، خدشات اور خطرات سے دوچار ہوتا ہے۔ روسی بینکوں میں داخل ہوتے ہی ان ذہنی و جسمانی کیفیات سے بار بار گزرنا پڑتا ہے۔ بینک اتنے صاف ستھرے، سجے سجائے، روشن اور کھلے کشادہ ہیں کہ ان میں فوراً داخل ہونے کو جی چاہتا ہے مگر ان میں داخل ہوتے ہی پاکستان کے طول و عرض میں مقبول یہ دعا یاد آ جاتی ہے کہ خدا دشمن کو بھی کچہری، ہسپتال اور تھانے سے محفوظ رکھے۔ روس میں ان کی جگہ بینک سے دور رہنے کی دعا کی جانی چاہیے۔ تھانے اور کچہری کا حال معلوم نہیں کہ خدائے رحیم نے ان سے محفوظ رکھا ہے اور ہسپتال بہت جدید اور مناسب سہولیات علاج و معالجہ سے آراستہ ہیں۔ نیز ڈاکٹروں کا رویہ بھی بڑا دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے۔ اور وہ خود کو عام انسانوں سے علیحدہ کوئی خاص مخلوق محسوس نہیں کرتے۔

بینک میں داخل ہوتے ہی پہلے کاؤنٹر پر آپ کو ایک پرچی عنایت کی جاتی ہے جس پر آپ کی باری کا نمبر درج ہوتا ہے۔ اس نمبر کا آپ کے انتظار کی طوالت سے کوئی تعلق نہیں۔ پرچی کے مطابق آپ کا اگلا نمبر بھی ہو سکتا ہے لیکن آمد محبوب کی طرح اس نمبر کے آنے میں گھنٹوں گزر سکتے ہیں۔ شاید ہی دنیا میں کوئی قوم اس صبر و تحمل سے اپنی باری کا انتظار کرتی ہو جیسے روسی قوم اس عمل سے گزرتی ہے۔ بینک کے اندر سارے کاؤنٹروں پر بینک کا عملہ انتہائی مستعدی سے کچھ کرتا نظر آتا ہے لیکن ان کے سامنے کوئی گاہک موجود نہیں ہوتا۔

وہ سارے باہر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر نمبر ہے کہ آگے بڑھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اور اگر بڑھتا بھی ہے تو آپ کا نمبر جو اگلا نمبر تھا، وہ نہیں آتا۔ خدا خدا کر کے جب آپ کا نمبر آتا ہے تو آپ کو ایک لمبے تفتیشی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کا پاسپورٹ طلب کیا جاتا ہے اور اس کا انتہائی عرق ریزی سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اپنی زندگی کی تمام لغزشیں، خطائیں اور غلطیاں آپ کی نظروں کے سامنے خدشات کی شکل میں گھومنے لگتی ہیں، آپ اس خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ نجانے کون سی غلطی یا لغزش بینک والوں کی عقابی نظر میں آ جائے یا پھر آپ کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں اپنی ہی محنت سے کما کر بینک میں رکھی گئی رقم حاصل نہ کر سکیں۔

پاسپورٹ کے تحقیقی و تنقیدی جائزے کے بعد آپ کی شکل مبارک کو بغور دیکھا جاتا ہے اور اس کا پاسپورٹ پر موجود تصویر سے سیر حاصل موازنہ کیا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے انسانی جسم پلتا، بڑھتا، پھیلتا اور پھولتا رہتا ہے اور نقوش رخ پر بھی ابتلائے زمانہ کے اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں جبکہ تصویر پر یہ اثرات بہت دیر بعد ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں اور یہ پلنے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی سرے سے اہلیت ہی نہیں رکھتی۔ مگر یہ بات بینک کے عملے کو سمجھانا کوئی آسان عمل ہرگز نہیں۔

خیر اگر ثقہ گواہان کی گواہی اور دوسرے دستاویزی ثبوتوں کی موجودگی میں یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ تصویر میں واقعی آپ بہ نفس نفیس موجود ہیں، یہ بعینہ آپ کی ہی تصویر ہے اور یہ کوئی اور صاحب قطعاً نہیں ہیں تو پھر یہ تفتیش اپنے اگلے منطقی مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ یعنی آپ سے پاسپورٹ کے تمام مندرجات کا مستند روسی ترجمہ طلب کیا جاتا ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عام طور پر اس روسی ترجمے کا موازنہ پاسپورٹ پر درج عبارت سے نہیں کیا جاتا۔

اس کی وجہ عملے کی فرائض منصبی سے غفلت نہیں بلکہ انگریزی زبان سے ناآشنائی ہے۔ لیکن اسے کوئی مسلمہ اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ملزم یعنی گاہک کی خوش قسمتی پر محمول کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ عملے کے بعض اراکین کم از کم انگریزی حروف تہجی سے واقف ہوتے ہیں اور اگر وہ آپ کے نام نامی اسم گرامی کا صوتی اور لسانی جائزہ بہ زبان روسی و انگریزی لینا شروع کر دیں تو پھر اس دن تو کیا، کئی دنوں تک آپ اپنی رقم نکلوانے سے محروم رہیں گے۔

بدقسمتی سے ہر زبان کی آوازیں دوسری زبان کی آوازوں سے قدرے مختلف ہوتی ہیں بلکہ بعض آوازیں تو دوسری زبان میں سرے سے ہوتی ہی نہیں، ایسی صورت میں صورت حال خاصی گمبھیر (ملزم کے لیے ) ہو جاتی ہے۔ پھر تلفظ کی مصیبت الگ ہے جو صورت حال کو اور بھی پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اگر آپ اس مرحلے سے بھی کامیابی سے گزر جائیں تو۔ ٹھہرئیے، ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ چیزوں کو اتنا آسان بھی نہیں لینا چاہیے۔ آخر یہ روپے پیسے کا معاملہ ہے اور دنیا کے زیادہ تر سماجی، سیاسی، نفسیاتی اور بہت سے دوسرے مسائل جن کے نام ابھی یاد نہیں آ رہے، کا تعلق معیشت سے ہے اور دنیا میں امن و امان اور خوشحالی کا تعلق بھی اسی شعبے سے بہت گہرا ہے اس لیے احتیاط شرط ہے۔

اب آپ کو کاغذات کا ایک پلندا تھما دیا جاتا ہے۔ ان کاغذات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ ایک ہی طرح کی عبارت پر مشتمل کاغذات کی چار عدد نقلیں ہیں جن پر دو دو جگہوں پر فی نقل آپ کے دستخط لازم ہیں۔ خبردار رہیے اور انتہائی احتیاط لازم ہے یہ اس پورے عمل کا سب سے اہم اور خطرناک مرحلہ ہے۔ آپ کے دستخط ہو بہو وہی ہونے چاہئیں جو آپ نے اپنا کھاتہ (اکاؤنٹ) بینک میں کھلواتے وقت ایسے ہی بے شمار کاغذات پر کیے تھے۔

حروف کی نشست و برخاست، کشوں کا باہمی مربوط جھکاؤ، نقطوں کا پھیلاؤ، حروف دستخط کی باہمی قربت و دوری، نقاط کے مقامات اثبات، خوشوں کا ارتباط و اختلال، نام کے اول، آخر اور درمیانی حصوں کی متناسب قرابت یا دوری اور ایسے بہت سے دیگر امور کا مکمل خیال رکھنا اہل حکمت و دانش پر واجب بلکہ فرض ہے وگرنہ نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

اس مرحلے سے بھی بخیر و خوبی گزر جانے پر اس کا ؤنٹر والے جس پر آپ ابھی تک ان مراحل جاں گسل سے عہدہ برا ہو رہے تھے آپ کو ایک پروانۂ راہداری برائے کیش کاؤنٹر عنایت فر ما دیتے ہیں۔ اس پرچی پر بھی ایک نمبر درج ہوتا ہے۔ اب ایک بار پھر آپ نے درجہ بدرجہ بعینہ انہیں مدارج سے گزرنا ہوتا ہے جن کا ذکر ابھی ہوا ہے۔ لیجیے آپ اپنے سفر کے آخری مرحلے میں کامیابی سے داخل ہو چکے ہیں، اب آپ کے پاسپورٹ پر آپ کی تصویر اور پھر آپ کو بغور دیکھا، جانچا اور پرکھا جائے گا۔

چونکہ تمام بینکنگ مکمل طور پر مشینی ہے۔ اس لیے پچھلے کاؤنٹر والے کمپیوٹر سے آپ کے بارے میں تمام تر معلومات، تفصیلات اور آپ کے آئندہ کے خیالات اور ممکنہ اقدامات تک کے بارے میں اس کاؤنٹر پر موجود کمپیوٹر کو پہلے ہی پہنچائی جا چکی ہیں، پھر بھی پوچھنے میں کیا حرج ہے، چنانچہ اس کاؤنٹر پر موجود خاتون بھی پوری محنت سے تسلی کریں گی کہ آپ واقعی آپ ہیں، آپ واقعی اس بینک کے کھاتہ دار ہیں، واقعی آپ مطلوبہ رقم نکلوانے کے بارے میں سنجیدہ ہیں، آپ کی تصویر اور آپ کا پاسپورٹ واقعی آپ کا ہے۔

اور شاید وہ یہ یقین بھی کرنا چاہیں گی کہ آپ یہ رقم نکلوائے بغیر زندہ حالت میں اس بینک سے ہر گز نہیں جائیں گے۔ اس یقین کامل کے حصول پر وہ چار کاغذ جن پر دو دو جگہوں پر آپ کے دستخط لازم ہیں، آپ کے حوالے کر دیں گی (میرے قیام کے چوتھے سال یہ انقلابی تبدیلی بینکنگ کے نظام میں لائی گئی کہ جانکنی کے اس آخری مرحلے میں ان چار کاغذات کی تعداد دو کر دی گئی، یعنی چار کاغذوں کی عبارت کو دو کاغذوں پر کامیابی سے منتقل کر دیا گیا البتہ دستخطوں کی تعداد اتنی ہی رہی۔ آخر احتیاط بھی تو کوئی چیز ہے!

اب آپ ایک بار پھر اپنے حواس خمسہ کو مجتمع کر کے پوری دلجمعی، تندہی اور یکسوئی کے ساتھ دستخط کر کے کاغذات خاتون کیشیر کے حوالے کر دیجیے۔ میں نے ابھی تک کسی بینک میں کوئی مرد کیشیر نہیں دیکھا۔ یوں بھی بینکوں میں زیادہ تر خواتین ہی کام کرتی ہیں۔ بلکہ روس میں زیادہ تر دکانوں، ہوٹلوں، بینکوں، ہسپتالوں، ، چائے خانوں اور ہوائی اڈوں پر خواتین ہی کام کرتی نظر آتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو آبادی میں خواتین کا انتہائی زیادہ تناسب ہے (روس میں یہ تناسب %65خیال کیا جاتا ہے ) جس کی وجہ شاید تاریخی اعتبار سے روس کی عالمی جنگوں میں شمولیت ہے۔

بہت سی جنگیں تو روس پر مسلط کی گئیں جیسے انیسویں صدی میں نپولین اور بیسویں صدی میں ہٹلر کے روس پر حملے ہیں۔ (صرف دوسری عالمی جنگ میں روسیوں کے مطابق دو کروڑ ستر لاکھ روسی جنگ میں مارے گئے ) اور بہت سی جنگیں روسیوں نے خود مول لیں جیسے زاروں کے زمانے کی جنگیں اور جنگ افغانستان وغیرہ۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ روسی خواتین انتہائی محنتی، فرض شناس اور دیانت دار ہیں اور مستعدی و لگن کے ساتھ فرائض منصبی ادا کرتی ہیں۔

اس جملۂ معترضہ کے دوران ہی کیشیر نے آپ کی مطلوبہ رقم گنتی کرنے والی مشین سے گن لی ہو گی اور آپ کا پاسپورٹ بمعہ رقم کے آپ کو واپس کر دیا ہو گا۔ لیجیے آپ جانکنی کے عذاب سے زندہ سلامت نکل آئے اور اپنی حق حلال کی رقم بھی بخیر و خوبی حاصل کر لی۔ آپ کو مبارک کہ آپ نے یہ معرکہ سر کر لیا۔ ورنہ صورت حال ایسی بھی ہو سکتی تھی جو میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ سول سروس اور سفارت خانے میں ہم سفیر سائل عباس کے ساتھ پیش آئی۔

وہ مجھے بحیثیت معاون و مددگار بینک لے گئے تھے کہ کٹھن مقامات میں ان کی ممکنہ معاونت کروں۔ اتفاق سے ہم دونوں روسی زبان سے کچھ زیادہ آشنا نہ تھے۔ مصدقہ کاغذات اور اشاروں کنایوں کی بین الاقوامی زبان کی مدد سے ہم رقم کے حصول کی آخری سیڑھی پر تھے کہ کیشیر خاتون نے کچھ مزید تفتیشی و تحقیقی اقدامات کی تکمیل کو ضروری جانا۔ چنانچہ انہوں نے ہمارے ساتھی کے زندگی بھر کے گزشتہ سفروں کی تفاصیل کی تصدیق چاہی۔ ہمارے دوست اور ساتھی نے جو دفتر خارجہ میں ہونے کی وجہ سے خارجی زبانوں بشمول روسی زبان سے مجھ سے کہیں زیادہ واقف تھے، انہیں مطلع کیا کہ گو زندگی بذات خود ایک سفر ہے لیکن دفتر خارجہ کی ملازمت کی بدولت ان کے سفروں کی داستان خاصی طویل ہے۔ مگر کیشیر کے محکمانہ اصرار پر انہوں نے پاسپورٹ پر لگی ویزوں کی مہروں پر

انگلی رکھ کر تفاصیل بتانے کی ناکام کوشش کی۔ اس مرحلہ پر راقم نے اپنے ہونے کا پتہ دیتے ہوئے اپنے ساتھی کو بڑے مفید مشورے سے نوازا اور ان کا رابطہ ٹیلیفون پر سفارت خانے میں موجود اپنی سیکریٹری سے کرایا۔ جس نے کیشیر کو اس کی اپنی پسندیدہ زبان میں تمام تفاصیل سے آگاہ کیا۔ مگر بات یہاں آ کر اٹک گئی کہ جب موصوف گزشتہ سال مانچسٹر گئے تھے تو ان کے وہاں کے ائرپورٹ سے خروج کی مہر کہاں ہے؟ انہیں لاکھ سمجھایا گیا کہ جائز پاسپورٹ، سفارتی کارڈ کی موجودگی اور بینک کا عرصہ دراز سے کھاتہ دار ہوتے ہوئے ایسے سوالات کا کوئی جواز نہیں مگر وہ اپنے سوال پر مصر رہی۔

مگر ہمارے ساتھی کے اس استفسار کا جواب کیشیر کے پاس نہیں تھا کہ کیا وہ بینک کی ملازم ہیں کہ کسٹم اور امیگریشن کی؟ ساتھ ہی میرے ساتھی نے بذریعہ مترجم سیکریٹری اسے یہ دھمکی بھی لگا دی کہ چونکہ موصوفہ ایک سفارت کار کے استحقاق کو مسلسل اور دانستہ طور پر مجروح کر رہی ہیں اس لیے وہ ان کے طرز عمل کی روسی دفتر خارجہ سے باقاعدہ شکایت کر دیں گے۔ اور گواہ کی صورت میں راقم تو ساتھ موجود تھا ہی۔ چنانچہ یہ دھونس، دھمکی یا بلیک میلنگ کام کر گئی اور ہم بالآخر بینک سے کامیاب و کامران لوٹے۔

روسی بینکوں سے اپنے تعلق خاطر کو حتی المقدور محدود کرنے کی غرض سے راقم کو ایک منفرد خیال سوجھا اور ایک روز بینک میں کریڈٹ کارڈ کے حصول کی درخواست گزار دی۔ اس عمل سے گزرنے سے پہلے اس کے تمام مراحل کے بارے میں وسیع تر مشاورت اور معلومات کی کما حقہ فراہمی کو حتی الوسع یقینی بنایا گیا تھا۔ روز عمل میں اپنے چند مخلص ماہرین کے جلو میں بینک میں داخل ہوا۔ کریڈٹ کارڈ کے حصول کے لیے متعلقہ فارم کی فراہمی کی درخواست پر باکمال مہربانی ہمیں مطلع کیا گیا کہ اس کے لیے ابتداً ایک بڑی رقم اس کے لیے علیحدہ کھاتے میں رکھنی پڑے گی اور پھر ماہوار بنیادوں پر کچھ رقم بطور فیس جمع کرانی ضروری ہوگی اور کریڈٹ کارڈ سے صرف اسی کھاتے سے رقم نکلوائی جا سکے گی۔ ہم نے اس پر اپنی آمادگی کا تحریری اظہار کر دیا۔ چونکہ میں مصمم سیاسی ارادے اور مخلص ماہرین کے ساتھ آیا تھا چنانچہ ہر چیلنج کو قبول کرتے ہوئے بہر صورت بینک سے کریڈٹ کارڈ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

چنانچہ میں کھاتہ کھولنے کے جانگسل عمل سے ایک بار پھر گزرنے پر کمر بستہ ہو گیا۔ اس عمل (جو بہت سے متنوع اعمال کا مجموعہ تھا) سے گزرنے کے بعد حصول کریڈٹ کارڈ کے اختتامی عمل کی شروعات ہوئی اور ایک دن وہ بھی اختتام پذیر ہو گئیں۔ اس کے بعد بے عملی یعنی انتظار کی طویل گھڑیاں شروع ہوئیں اور پھر وہ دن بھی آیا کہ گو ہر مراد میرے حوالے کر دیا گیا۔ مگر

بسا اے آرزو کہ خاک شد

اس کارڈ کے ذریعہ حصول رقم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ رقم اپنے کارڈ والے کھاتے یا اپنے کسی بھی اور کھاتے سے نکلوائیے (یہ عوام کی بہت بڑی سہولت کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ رقم کسی بھی کھاتے سے نکلوا کر کارڈ میں ڈلوا سکتے ہیں ) اب اس رقم کو بذریعہ مشین یا بینک عملہ اپنے کارڈ میں ڈلوائیے۔ یاد رہے کہ یہ عمل بینک کی اسی شاخ جس میں آپ کا اکاؤنٹ کھلا ہے میں کیا جا سکتا ہے۔ (اب کسی کسی بینک کی ایک دو جگہوں پر مشینیں دستیاب ہیں ) ۔ لیجیے اب یہ رقم آپ اپنے کارڈ کو اسی بینک میں موجود مشین میں ڈال کر نکلوا سکتے ہیں۔ میں آج تک حیران ہوں کہ میں نے یہ کریڈٹ کارڈ کیوں بنوایا؟

Facebook Comments HS