پاکستانیوں کا پرفیکٹ لیڈر عمران خان مگر کیسے؟


اگر آپ بیرون ملک رہتے ہیں تو آپ کو کئی ملک کے افراد سے ملنے کا موقع ملا ہو گا۔ آپ مماثلتیں تلاش کرتے ہیں تو مختلف ممالک کے افراد میں ایسے رویوں کا مشاہدہ کیا ہو گا جو ان کا خاصا معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے جرمن وقت کے پابند اور بیئر کے شوقین، برطانوی آرام پسند اور ٹیکنالوجی سے قربت رکھنے والے۔ انڈین مسالے دار خوراک کے شوقین تجارت اور کمپیوٹر کی فیلڈ میں نمایاں وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح پاکستانیوں کی بھی خصوصی خوبیاں اور خامیاں ہیں جو کم از کم نوے فیصد پاکستانیوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ انہی صفات کا بھرپور مظاہرہ کرنے والا لیڈر ہی نوے فیصد پاکستانیوں کے دل کی آواز، جذبات کا اظہار، خیالات کی عکاسی کر سکتا ہے۔ یہ خوبی دور حاضر کے کسی بھی لیڈر سے زیادہ، عمران خان میں پائی جاتی ہے۔ ماضی میں یہی خوبیاں جناح صاحب، بھٹو صاحب اور ضیاء الحق صاحب میں بکثرت پائی جاتی تھیں۔

اولین خوبی یہ کہ پاکستانی ہر صورت میں اہداف کا حصول چاہتے ہیں اور راہ میں حائل قانون، پابندی، اصول کو ٹھوکر مر کر پھینک دیتے ہیں۔ پوری توجہ مقصد پر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون اور اصول کا معاشرے میں وجود نہیں ملتا۔ عمران خان صاحب نے جب آئین، قانون، عدالتی فیصلے کو ٹھوکر ماری تو پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی ہوئی۔ قوم کی نظر میں ان کا قد مزید بڑھ گیا۔ ماضی کی ایک ویڈیو میں انہوں نے کارکن کو کہنی ماری، ایک کو دھکا دے کر کنٹینر سے گرا دیا، کسی کو دکھ نہیں ہوا، کسی کا دل مٹھی میں نہیں آیا، قوم نے ان حرکات کو ہیرو کا حق سمجھ کر داد دی۔

پاکستانی خود کو دنیا کے دیگر انسانوں سے بر تر سمجھتے ہیں۔ رنگوں، شکلوں، جسامت کا مذاق اڑانا، اختلاف رائے پر نفرت پر اظہار کرنا، زبان و ہاتھ سے شدت پسندی کا ایسا اظہار کرنا کہ بشیر بدر کا شعر یاد آ جائے، خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے۔ کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے۔ یہی خوبی عمران خان صاحب میں ہے۔ ان کے رویوں کا مشاہدہ کریں تو انہیں اپنے علاوہ ہر کوئی بد تر، گھٹیا، نالائق نظر آتا ہے۔ ان کی نظر میں جمہوری نظام کی کوئی حیثیت نہیں، اسی لئے وہ قومی اسمبلی نہیں جاتے تھے۔

نظام مملکت کے نظام و اداروں سے مل کر کام کرنے کی بجائے حکم کی تعمیل کے خواہشمند تھے۔ جمہوری نظام میں ایک بیلنس ہوتا ہے، جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کا تقاضا کرتا ہے۔ عمران خان اس سے انکاری ہیں، فرد واحد کی مکمل حکمرانی کے خواہاں ہیں، وہی رویہ جو ہر پاکستانی چاہتا ہے یعنی اسی ایک کا مکمل اختیار، باقی سب تعمیل بجا لانے والے غلام۔ عمران خان کا انفرادی رویہ قوم کی خواہشات و نظریات کا ترجمان ہے اس لئے پسند کیا جاتا ہے۔

جہاں باقی دنیا میں تلاش و تحقیق کی روایت ہے، دلیل و گفتگو سے قبول یا انکار ہوتا ہے۔ وہاں پاکستانیوں کے پاس سے مطالعہ اور تحقیق کا شوق ختم ہو چکا ہے۔ کتاب پڑھنے والے، ٹھنڈے دل سوچنے اور دلیل دینے والی نسل پہلے ہی کم پید تھی، اب ختم ہو چکی۔ بیشتر افراد اپنے من پسند صاحبان کی بات کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیتے ہیں۔ عمران خان نے سالوں پینتیس پنچر کی سٹوری سنائی، قوم نے یقین کیا۔ عمران خان نے سٹوری کو سیاسی بیان قرار دیا، قوم نے قبول کیا۔

عمران خان نے تمام سیاست دانوں کو چور قرار دے کر لوٹی رقم لوٹانے اور سزا دلوانے کا وعدہ کیا، قوم نے قبول کیا۔ عمران خان کسی کو سزا نا دے سکے، کوئی رقم کا لوٹا سکے، قوم نے قبول کیا۔ عمران خان نے خود کو نیک کہا، قوم نے قبول کیا، عمران خان سرکاری تحفے بیج کر پیسے کھا گئے، قوم نے قبول کیا۔ چونکہ قوم تحقیق نہیں کرتی، تلاش نہیں کرتی، بس قبول کر لیتی ہے اس لئے بہترین لیڈر کا داستان گو ہونا اس کی خوبی ہے جو عمران خان میں بھرپور پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں معاشرتی احترام کے لئے مذہب کا دکھاوا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر افراد مذہبی نظر آنے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔ عمران خان نے بھی قوم کے مذہبی جذبات کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے لئے مذہبی دکھاوا کیا۔ عوام مذہبی دکھاوے سے واقف تھے لیکن خود بھی ایسے ہی تھے اس لئے انہیں عمران خان کا دکھاوا پسند آیا۔ اقتدار سے جاتے ہیں عمران خان دوبارہ سیکولر نظر آنے لگا، مذہبی بیانات کی جگہ نوجوان لڑکیوں اور لڑکیوں کے جلسوں، موسیقی نے لے لی، قوم نے خود بھی ایسی ہی ہے لہذا قوم کو پسند آیا۔

عمران خان پر کوئی بھی اعتراض کر لیں، بد زبان کہیں، جھوٹا کہیں، معاشی کرپشن ثابت کر لیں، وہ اس قوم کے ہیرو ہیں اور ہیرو رہیں گے۔ ان کے ہیرو ہونے کی وجہ ان کی خوبیاں نہیں، خامیاں ہیں جو نوے فیصد معاشرے سے مشترک ہیں۔

Facebook Comments HS