لاپتہ افراد کا معاملہ: ’اگر وزیر اعظم با اختیار نہیں تو کون بااختیار ہے؟‘


ماضی میں وزرائے اعظم اور وفاقی حکومت کے دیگر عہدیدار بلوچستان سے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرانے کی یقین دہانی تو کرواتے رہے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے اعلانیہ طور پر یہ نہیں کہا کہ وہ اس مسئلے کو بااختیار لوگوں کے ساتھ اٹھائیں گے۔

سابق وزرائے اعظم کے برعکس موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ مختصر دورۂ کوئٹہ کے موقعے پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کو بااختیار لوگوں کے ساتھ اٹھائیں گے اور خلوص دل سے اس کو حل کرانے کی کوشش کریں گے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے نہ صرف کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی سے متعلق ادارے کے اعلٰی حکام کو کہا کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں بلکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر وفاقی سطح پر بھی متعلقہ حکام سے بات کریں گے۔

وزیر اعظم کے ان ریمارکس پر بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بعض عہدیداروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر وزیر اعظم بااختیار نہیں ہیں تو پھر کون بااختیار ہے؟

اسی طرح بعض تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے سچ بات کہی ہے اس لیے لاپتہ افراد کے لواحقین کو بہت زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے تاہم بعض کی یہ رائے ہے کہ شاید وزیر اعظم کی زبان سے غیر ارادی طور پر یہ الفاظ نکلے ہوں گے ورنہ حکومت میں رہتے ہوئے کوئی یہ بات نہیں کرتا کہ وہ بے اختیار ہے۔

https://twitter.com/QadeerMama/status/1518002562741510151

لاپتہ افراد کی تنظیم کا وزیر اعظم کے خطاب پر کیا رد عمل؟

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز(وی بی ایم پی ) طویل عرصے سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

تنظیم کے زیر اہتمام لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے گزشتہ سال کے اوائل میں اسلام آباد میں بھی احتجاج کیا تھا اور انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر اسلام آباد میں احتجاج کو ختم کیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ریمارکس پر نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ہم تو عرصہ دراز سے کہہ رہے تھے لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے اور ہم ثبوت لے کر عدالتوں میں بھی گئے۔

انھوں نے وزیر اعظم کی بات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لحاظ سے مان رہے ہیں کہ واقعی ملک میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں۔ ’وزیر اعظم کے کہنے کا مقصد ہے کہ وہ طاقتور اداروں سے بات کریں گے اور اس مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کریں گے۔‘

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم نے یہ درست کہا کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا تو جتنے بھی ترقیاتی کام ہوں گے وہ بے سود ہوں گے۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وزیراعظم نے سینیچر کے روز دورہ کوئٹہ کے موقع پر کہا کہ وہ بلوچستان کے لاپتا افراد کا مسئلہ بااختیارحلقوں کے ساتھ اٹھائیں گے۔

’سوال یہ ہے کہ وہ بااختیار حلقے کون ہیں جو کہ وزیر اعظم سے زیادہ بااختیار ہیں۔ ہر ایک جانتا ہے کہ وہ فوج اور باجوہ ہیں۔‘

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1518239461578006528

سمی دین بلوچ طویل عرصے سے اپنے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدودجہد کر رہی ہیں۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’شہباز شریف کی طرح عمران خان اور دیگر وزرا اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ان کی اولین ترجیح ہے لیکن ہمیں ابھی تک نتائج کا انتظار ہے۔

وزیر اعظم کے بیان پر تجزیہ کاروں کی رائے

سینئر تجزیہ کار اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار کی یہ رائے ہے کہ وزیر اعظم نے ارادتاً یہ بات نہیں کہی ہو گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم کی زبان پھسل گئی ہو۔ شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہوں گے کہ میں متعلقہ اداروں سے بات کروں گا جس کی بجائے غیر ارادی طور پر انھوں نے یہ کہا کہ وہ بااختیار لوگوں سے بات کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں ہوتے ہوئے سیاستدان بالخصوص اس اہم عہدے پر لوگ کبھی یہ نہیں کہتے کہ وہ بااختیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بے اختیار ہوں بھی تو حکومت میں ہوتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بے اختیار ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا موجودہ حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مشکل ہے۔ ’تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ جس طرح پانچ سو ساڑھے پانچ سو لوگ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رہا کروائے اسی طرح شاید اتنے یا اس سے کچھ کم یا زیادہ یہ بھی رہا کروائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اتنے لوگ مزید اٹھائے بھی جائیں۔‘

تاہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اور تجزیہ کار انور ساجدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا کوئی اختیار سویلین حکومتوں کے پاس نہیں ہے۔

لاپتا افراد

BBC Sport

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مخصوص حیثیت کا حامل علاقہ ہے۔ اس کی یہ حیثیت بہت عرصے سے ہے اور یہ ایک حقیقیت ہے۔ چونکہ یہ ایک حساس سیکورٹی زون ہے اس لیے جو مقتدر ادارے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسے سویلین حکومت کو حوالے کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا ہے۔‘

ان کی رائے کے مطابق ’بلوچستان میں جو نام نہاد منتخب حکومتیں ہیں۔ انھیں صرف فنڈ استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے اس کے علاوہ ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس لیے وزیر اعظم شہبازشریف نے سچ کہا ہے اور یہ بتا دیا ہے کہ وہ مقتدر نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو بھی ان سے زیادہ توقع رکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انھیں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنا چاہیے۔

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کیا کہنا ہے؟

کوئٹہ میں وزیراعظم کے دورے کے موقع پر جو اجلاس ہوئے ان میں سے بعض میں سردار اختر مینگل بھی شریک تھے۔ ایک ایسے اجلاس میں جہاں سردار اخترمینگل کے علاوہ وفاقی وزرا بھی تھے وہاں فوج کے 12کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور دیگر سویلین اور فوجی حکام بھی موجود تھے۔

اس سوال پر کہ کیا ایک ایسے وزیر اعظم لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جو یہ کہہ رہا ہو کہ وہ اس سلسلے میں بااختیار لوگوں سے بات کریں گے تو سردار اخترمینگل کا کہنا تھا کہ جن قوتوں نے لوگوں کو لاپتہ کیا ہے انھوں نے پہلے والے وزرائے اعظم سے پوچھا تھا اور نہ موجودہ وزیراعظم سے پوچھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود بھی کوئٹہ میں اس اجلاس میں شریک تھا جس میں وزیر اعظم نے نہ صرف وہاں موجود سیکورٹی کے متعلقہ حکام کو کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کیا جائے بلکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس مسئلے کو اوپر بھی اٹھائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ اعتراف ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے کہ جب تک بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک بلوچستان سے احساس محرومی کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24072 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments