’صدر پاکستان پہلے سو رہے تھے، اس عدالت نے انھیں جگایا‘: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
لاہور ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلہ ’کل صبح دس بجے سنایا جائے گا۔‘
اس سے قبل آج لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم میں ہدایات صدر پاکستان کے لیے تھیں اور وزیر اعظم کی معاونت کی ضرورت نہیں تھی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ’تحمل کے ساتھ ہی کیس صدر پاکستان کو بھیجا تھا۔ جو صدر نے ہائیکورٹ کے آرڈر کا حشر کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ آپ تحمل کی بات کرتے ہیں، پچھلے 25 دن سے آئین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟‘
ریمارکس میں مزید کہا گیا کہ ’صدر کو احساس نہیں ہوسکا کہ صوبہ کا کیا کرنا ہے۔‘
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ’کوئی قانون بتا دیں کہ جس کے تحت صوبہ بغیر چیف ایگزیکٹو (وزیر اعلیٰ) کے رہ سکتا ہے۔‘
چیف جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ ’صوبے میں حکومت اور کابینہ نہیں ہے تو صدر پاکستان نے کیا اقدامات کیے۔ مجھے بتائیں صدر پاکستان نے آج تک کیا کیا ہے۔ کیا اقدامات کیے۔‘
’چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے صدر پاکستان کو آرڈر بھیجا لیکن انھیں پرواہ ہی نہیں۔ عدالت نے صدر کو ریاست کے سربراہ کے طور پر پورا موقع دیا۔ آپ لوگوں کی آنکھ پندرہ دن بعد کھلے گی یا پہلے بھی کھل سکتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’صدر پاکستان پہلے سو رہے تھے اس عدالت نے انھیں جگایا ہے۔ صدر پاکستان کہتے ہیں ابھی ان کے پاس پندرہ دن ہیں، وہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے۔‘
’گورنر سے یکم اپریل سے چیف منسٹر کا استعفی منظور کر رکھا ہے۔‘

