ایلون مسک ٹوئٹر کو کس طرح تبدیل کر سکتے ہیں؟

مائیکل ریس، لورا جونز، بیتھ ٹمنز - بزنس رپورٹرز، بی بی سی نیوز


مسک
عام دنوں میں بھی ٹوئٹر مباحثوں کے لیے موضوعات سے بھرا ہوا ہوتا ہے لیکن گذشتہ کچھ روز سے جس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے وہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹوئٹر کا مستقبل کیا ہو گا۔

ایلون مسک شیئر ہولڈرز کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالر میں خرید سکیں گے۔ تاہم اس سے پہلے اس بارے میں لاکھوں ٹوئٹر صارفین اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

تاحال کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس ارب پتی کاروباری شخصیت نے ٹوئٹر کے حوالے سے کیا منصوبے بنا رکھے ہیں، اور اس بارے میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو پارگ اگروال بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

تاہم دنیا کے امیر ترین شخص نے اس بارے میں کچھ اشارے ضرور دیے ہیں۔ آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ٹوئٹر میں وہ کون سی ایسی تبدیلیاں ہیں جو ہم مستقبل میں دیکھ سکتے ہیں۔

مواد سے متعلق قواعد نرم ہو سکتے ہیں

ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر پر مواد سے متعلق رائج پالیسیوں کے بارے میں کھل کر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ وہ ٹوئٹر کے مواد سے متعلق قواعد میں ترمیم کر سکتے ہیں اور معطل کیے جانے والے اکاؤنٹس کی واپسی بھی ہو سکتی ہے، جیسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ۔

جب ٹوئٹر بورڈ نے ایلون مسک کی پیشکش منظور کی تو انھوں نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آزادی اظہارِ رائے ایک فعال جمہوریت کی ‘بنیاد’ ہے، اور ٹوئٹر ‘ڈیجیٹل چوراہا ہے جہاں انسانیت کے مستقبل کے لیے اہم معاملات پر بحث ہوتی ہے۔’

مسک

اس سے قبل ایلون مسک اپنا تعارف 'اظہارِ آزادی رائے کے علمبردار' کے طور پر کرواتے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ان کا تاثر یا خیال ہے کیا، یہ واضح نہیں ہے۔

انھوں نے ماضی میں ایسے افراد کو بھی بلاک کیا ہے جنھوں نے انھیں یا ان کی کمپنیوں کے بارے میں تنقید کی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے اسوسی ایٹ پروفیسر جیفری ہاورڈ کا کہنا ہے کہ ‘اگر ایلون مسک ٹوئٹر پر مواد کا جائزہ لینے والے قواعد کو نرم کرتے ہیں تو یقیناً انھیں ‘ایک سخت جھٹکا’ ضرور لگے گا۔’

ہاورڈ نے خبردار کیا کہ ٹوئٹر کو جرائم پیشہ افراد، بوٹس اور بدنیتی پر مبنی مقاصد کے لیے ‘باآسانی استعمال’ کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے ‘نفرت اور تشدد’ پر اکسانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میرے خیال میں ایلون مسک مواد کا جائزہ لینے کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے آشنا نہیں ہیں۔ تاہم انھیں جلد سمجھ آ جائے گی کہ اس بارے میں ’لیسے فیئر‘ کا اصول (یعنی عدم مداخلت) کام نہیں کر سکتی۔’

برطانوی حکومت اور یورپی کمیشن دونوں نے ہی مسک کو یاد دہانی کروائی ہے کہ انھیں ٹوئٹر صارفین کے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔

مسک کے ٹوئٹر خریدنے کی خبر نے امریکہ میں سیاسی آرا کو تقسیم کر دیا ہے۔ دائیں بازو کے سیاسی نظریات رکھنے والے افراد جنھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر منصفانہ انداز میں پیش آتے ہیں، نے اس خبر پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

تاہم بائیں بازو کے سیاسی نظریات رکھنے والے افراد اس حوالے سے تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے اسے ‘جمہوریت کے لیے خطرناک’ قرار دیا ہے۔

پبلک ریلیشنز ویب سائٹ نیوز پیج کے شریک بانی اور میڈیا امور کے ماہر پیٹر وڈلکا کا کہنا ہے کہ مسک ٹوئٹر کی ‘ساکھ بحال کرنے میں’ تو مدد کر سکتے ہیں، تاہم ‘موجودہ معاشرتی و ثقافتی ماحول میں ہم آنے والے مہینوں میں مزید تنازعات کی توقع کر سکتے ہیں۔’

مسک

اشتہاروں کا خاتمہ

اپریل کے آغاز میں مسک ٹوئٹر کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر بن گئے تھے۔ انھوں نے اس کے بعد چند ٹویٹس کیں جنھیں بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا، ان میں مسک کی جانب سے ٹوئٹر پریمیئم سبسکرپشن سروس ٹوئٹر بلیو سے اشتہارات ہٹانے کی بات کی ہے۔

مسک نے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘کارپوریشنز کو ٹوئٹر کی پالیسی میں ردوبدل کرنے کی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے، اگر ٹوئٹر ان کے اشتہاروں کے پیسوں پر منحصر رہے گا۔’

تاہم ان کی جانب سے جہاں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ٹوئٹر کی پالیسی پر کارپوریشنز کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے، وہیں یہ بھی اہم ہے کہ ٹوئٹر کی آمدن کا 90 فیصد حصہ اشتہاروں سے آتا ہے۔

گذشتہ برس کے آخری تین مہینوں کے نتائج کو دیکھا جائے تو ٹوئٹر کے مطابق اس کی آمدنی ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر رہی، جبکہ اس میں سے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر اشتہاروں کی مد میں تھی۔ یہ گذشتہ برس کے مقابلہ میں اس عرصے کے دوران 22 فیصد کا اضافہ ہے۔

ایلون مسک نے اس حوالے سے ٹوئٹر بلیو میں تبدیلیاں کرنے کے لیے تجاویز دی ہیں، جن کے ذریعے آمدن کے مختلف طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹوئٹر کے اخراجات بھی کم کرنا چاہتے ہیں۔

ٹوئٹر بلیو ایک ایسی سروس ہے جو امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں صارفین کے لیے موجود ہے اور اس سے صارفین کو ‘ٹویٹ کی تصحیح کرنے والا’ بٹن اور دیگر اضافی فیچرز میسر ہوتے ہیں۔

تاہم گلوبل ڈیٹا کے لیے کام کرنے والی تجزیہ نگار ریچل فوسٹر جونز کہتی ہیں کہ ایلون مسک کو اپنے ’آزاد بحث اور اشتہارات کے خاتمے کے خوابوں کو ٹوئٹر کے بنیادی بزنس ماڈل کی تلخ حقیقتوں کے حساب سے دیکھنا ہو گا۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘مسک کو ٹوئٹر کے سبسکرپشن ماڈل ٹوئٹر بلیو پر بھی سنجیدگی سے نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ چاہتے ہیں کہ وہ اشتہارات ختم کر دیں۔’

مسک

یہ بھی پڑھیے

ایلون مسک کو ٹوئٹر خریدنے کا اتنا شوق کیوں تھا؟

دنیا کے امیر ترین شخص کی کامیابی کے چھ راز

ایلون مسک: ’ٹیسلا کی کاروں پر چین کی جاسوسی ثابت ہو جائے تو کمپنی بند کردوں گا‘

جعلی صارفین کا خاتمہ

مسک کی جانب سے ‘بوٹس کو شکست’ دینے کے بارے میں بات کی گئی ہے، اور یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو ٹوئٹر صارفین میں بے حد مقبول ہو گا۔

ٹوئٹر کو آٹومیٹڈ اور جعلی اکاؤنٹس سے مسئلہ رہا ہے کیونکہ ایسے اکاونٹس کو جعلی خبروں کی بے جا اشاعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سائبر سکیورٹی کمپنی ایکسٹرا ہاپ میں سینیئر سیلز اینجینیئر جیمی مولز کا کہنا ہے کہ ویسے تو ٹوئٹر بوٹس کا خاتمہ کرنا ایک بہت بڑا کام تصور کیا جاتا ہے لیکن اگر مسک اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ‘ٹوئٹر کی جانب سے استعمال کیے گئے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے جعلی ای میلز، پوسٹس اور دیگر بدنیتی پر مبنی مداخلتوں کا خاتمہ کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔’

تاہم لندن سکول آف اکنامکس میں نیو میڈیا اور انٹرنیٹ کے شعبے کے پروفیسر رابن مانسیل کہتے ہیں کہ صارفین کی تصدیق کرنے میں ‘غلطیاں تو ہوں گی’ چاہے وہ ایلگورتھمز کے ذریعے کیا جائے یا انسان خود کریں۔

پروفیسر مینسیل کہتے ہیں کہ ‘جو شخص بھی اس حوالے سے یقینی طور پر کچھ کہتا ہے تو وہ بات بڑھا چڑھا کر بتانے والا یا مفروضوں کی بنیاد پر سوچ رکھنے والا ہے۔’

‘جب مسک اس بزنس کو سمجھیں گے تو انھیں معلوم ہو گا کہ ایسی کمپنیاں جنھیں بین الاقوامی طور پر کام کرنا ہوتا ہے انھیں مزید پابندیوں اور گورننس سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’

ٹویٹ

ٹویٹس کو شائع کرنے کے بعد ایڈٹ کرنے کا آپشن

ٹوئٹر کے لیے بولی لگانے سے پہلے مسک نے اپنے فالوئرز سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ٹوئٹر پر ایڈٹ کا بٹن چاہتے ہیں۔

اس کے باعث ٹوئٹر کو بھی اس بات کی تصدیق کرنی پڑی تھی کہ وہ پہلے ہی ایسے ایک فیچر پر کام کر رہے ہیں جو صارفین کو اپنی ٹویٹس پوسٹ کرنے کے بعد ایڈٹ کرنے کا آپشن دیتے ہیں۔

صارفین نے ایک عرصے ٹوئٹر پر ایک ایڈٹ بٹن کی درخواست کی ہے، تاہم اس بارے میں خدشات موجود ہیں کہ اس پر عمل کیسے کرنا ہے۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے صارفین کو اپنی ٹویٹ میں غلطیاں ٹھیک کرنے میں مدد ملے گی، اور وہ اس دوران جوابات، لائیکس اور ریٹویٹس سے بھی محروم نہیں ہوں گے۔

https://twitter.com/elonmusk/status/1511143607385874434?s=20&t=ysw69ZPqJTSalDQsoGh1ig

تاہم اگر اسے صحیح انداز میں متعارف نہیں کروایا جاتا تو اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کے عہدیدار جے سلیوان نے ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایڈٹ کے بٹن کو وقت کی قید میں لانا ضروری ہو گا، اور یہ بھی دکھانا کہ کیا ایڈٹ کیا گیا ہے ورنہ ایسا فیچر عوامی بات چیت کے ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24056 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments