چھوٹے قد لمبے سائے
سکولوں کے اساتذہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک جگہ احتجاج کر رہے ہیں۔ بعض نے اپنی قمیضیں اتار دی ہیں، بعض پیٹ پر ہاتھ مار مار کر ہائے ہائے کر رہے ہیں اور بعض اسی قسم کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے اپنے حق مانگ رہے ہیں۔
یہ وہ پیشہ ہے جسے پیغمبرانہ پیشہ کہا جاتا ہے اور یہ وہ اساتذہ ہیں جو آئندہ نسلوں کی تعلیم اور کردار سازی کے ذمہ دار ہیں۔
ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، کوئی حادثہ میں شدید زخمی ہے، کوئی ضعیف شخص آخری دموں پر سانس لے رہا ہے، کوئی درد سے بے چین ہے، کسی بچے کو چوٹ لگی ہے، کسی کے ہاں اولاد متوقع ہے، مگر ہسپتال میں تمام ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں اور اپنے حقوق کے حصول تک وہ ان مریضوں کا معائنہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ طب بھی ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے اور خدمت خلق کا بہترین ذریعہ بھی۔
تھانے میں ایک غریب آدمی حوالات میں بند ہے۔ اس کا جرم یہ ہے کہ اس کے ایک رشتہ دار کا نام چوری کے جرم میں ایف آئی آر میں درج ہے مگر وہ فرار ہو چکا ہے۔ نتیجةً یہ بے چارہ اس وجہ سے حوالات میں ہے کہ جب تک وہ عزیز پکڑا نہ جائے یہ ضمانت کے طور پر اندر ہی رہے گا۔
ایک بڑا با اثر آدمی قتل کے جرم میں نامزد ہے تھانے میں اسے نہ صرف کرسی پیش کی جاتی ہے بلکہ چائے، پانی سے تواضع بھی ہوتی ہے۔
جہاں عبادت گاہوں میں دو فرقوں کے درمیان تکفیر بازی کا مقابلہ چل رہا ہو اور واجب القتل کے فتوے جاری کیے جا رہے ہوں لوگوں کے نکاح توڑے جا رہے ہوں اور جنازے پڑھائے جانے سے روکا جا رہا ہو، جنت میں داخلے یا جہنم رسید ہونے کے بیان جاری کیے جا رہے ہوں، جہاں اعلیٰ درجہ کے ہوٹلوں میں افطاری کے محترم موقع پر آئے ہوئے لوگوں کے درمیان جو بہت تعلیم یافتہ اور مہذب شمار کیے جاتے ہیں۔ پلیٹیں چل رہی ہوں اور ایک دوسرے کو گالیاں دی جا رہی ہوں اور زد و کوب کیا جا رہا ہو۔
جہاں مبینہ طور پر ایک چودہ سالہ معصوم بچی کی گمشدگی کے لیے مساجد میں اعلان کی درخواست دی جائے تو یہ جواب ملے کہ یہ بچی جس فرقہ سے تعلق رکھتی ہے ان کے اعلان ہم اس مسجد سے نہیں کرتے۔
جہاں اعلیٰ ایوانوں میں ممبران پر خرید و فروخت کے الزام لگ رہے ہوں، وفاداریاں بیچی اور خریدی جا رہی ہو، ایک دوسرے کو لوٹے دکھائے جا رہے ہوں اور تھپڑوں اور مکوں کی بارش کی جا رہی ہو، بددعائیں دی جا رہی ہوں اور گالیاں نکالی جا رہی ہوں۔
جہاں ایک شریف النفس جوڑا جس کی تمام زندگی مجبور اور بے کس افراد کی خدمت میں گزری ہے۔ جس نے دن رات کسی ذات پات، مذہب اور قوم کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کی خدمت کی ہے کو کافر قرار دیا جا رہا ہو اور ان کے بارہ میں عجیب و غریب تبصرے کیے جا رہے ہوں۔
ملک کو پولیو سے پاک کرنے اور اگلی نسل کو اس خطرناک بیماری سے بچانے کے لئے حکومت کی مقرر کردہ ٹیم کے ممبران کو محض اس بناء پر قتل کیا جا رہا ہو کہ وہ ان کے گھر آئے کیوں ہیں؟ پولیو قطرات کو ایک بین الاقوامی سازش قرار دے کر اس نہایت مفید کام میں روکیں پیدا کی جا رہی ہوں، جہاں خودکش حملہ آور عبادت گاہوں میں خدا کو یاد کرنے کے لیے آنے والے معصوم لوگوں کو بم دھماکوں سے قتل کر رہے ہوں، جہاں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو سکولوں میں گولیوں سے بھونا جا رہا ہو۔
جہاں مشہور سیاستدان اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے کبھی مذہب کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر، علاقائی حوالوں سے، برادری کے نام پر، غرض قوم کو تقسیم کرنے اور آپس میں نفرت پیدا کرنے کی ہر جلسے اور ہر تقریر میں دن رات کوشش کر رہے ہوں تو ایسے میں مجھے ہمارے عزیز دوست جمیل الرحمان جلیل کی یہ نظم یاد آجاتی ہے۔
چھوٹے قد اور لمبے سائے


