نوجوانوں کے لیے نیا نصاب اور نئے خواب
نوٹ: یہ مضمون فروری 23، 2022 کو کتاب کی رونمائی کے موقع پر زوم میٹنگ میں پڑھا گیا۔
دوستو!
ہمارے مشرقی معاشرے میں نجانے کتنی نسلوں اور کتنی صدیوں سے نوجوانوں اور بزرگوں کے درمیان ایک صحتمند مکالمے میں رفتہ رفتہ کمی ہوتی جا رہی ہے۔ میرا ایک شعر ہے
؎ اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا
ایک صحتمند مکالمے کے فقدان سے بہت سے بچے ذہنی ’جذباتی‘ سماجی اور تخلیقی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے
؎ ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں
کہاں سے آئے گا آزاد نوجواں کوئی
نفسیات کی زبان میں ہم اس عمل کو کنڈیشننگ کا نام دیتے ہیں جو کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔ اس کی چند مثالیں
SOCIAL، RELIGIOUS AND CULTURAL CONDITIONING
ہیں۔ ایسی کنڈیشننگ بچوں کے ذہنوں کو محدود کر دیتی ہے۔ ان کے تخلیقی پر کاٹ دیتی ہے۔ وہ فکری بونے بن جاتے ہیں۔ اس کنڈیشننگ کا نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اس معاشرے کی متعین حد سے آگے جانا چاہتے ہیں آگے سوچنا چاہتے ہیں تو وہ احساس گناہ ’احساس ندامت اور احساس خجالت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
’لوگ کیا کہیں گے؟‘
یہ ایک ایسا تکلیف دہ سوال ہے جو ایک خوف بن کر ان کے اعصاب پر سوار ہو جاتا ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا۔
اس خوف اور اس ڈر کی وجہ سے ہمارے نوجوان اپنا پورا سچ زبان پر نہیں لا سکتے اور اس کا برملا اظہار نہیں کر سکتے۔ وہ جتنا سچ بیان کرتے ہیں اس سے زیادہ سچ اپنے لاشعور میں دھکیل دیتے ہیں اس سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ سگمنڈ فرائڈ اس نفسیاتی عمل کو ریپریشن کا نام دیتے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ جب انسان اپنے سچے جذبات اور احساسات کو لاشعور میں دفن کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ مختلف نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔
ان فطری جذبات میں محبت کے جذبات بھی شامل ہیں اور نفرت کے جذبات بھی۔ چاہت کے جذبات بھی شامل ہیں اور جارحیت کے جذبات بھی۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا ایک دوسرے کو پسند کرنا ایک فطری عمل ہے لیکن جب محبت اور چاہت کے اس فطری جذبے کو گناہ و ثواب کے جھگڑوں میں الجھا دیا جاتا ہے اور خاندان کے بزرگ اور سماج کے مولوی فتوے لگانے لگتے ہیں تو محبت میں جارحیت در آتی ہے اور نوجوان ایک دوسرے کی تحقیر و تذلیل شروع کر دیتے ہیں۔ نوجوان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور محبوب بننے کی بجائے اجنبیوں سے شادیاں کر لیتے ہیں اور آقا اور کنیز کے رشتے استوار کر لیتے ہیں۔ میری نگاہ میں محبوب کا دوست ہونا بہت ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہی شادیاں خوشحال اور صحتمند ہوتی ہیں جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کے دوست اور محبوب ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شوہر مجازی خدا بننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ بیوی کی خدمت میں اپنی عزت سمجھتے ہیں۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ پدر سری نظام میں ایسے محبت کرنے والے شوہروں کا ’زن مرید‘ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔
ہمارے روایتی بزرگ ماں باپ عاقل و بالغ جوان بیٹے اور بیٹیوں سے بھی بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں اور ان کی رائے کا احترام نہیں کرتے۔ وہ نوجوانوں کے اختلاف رائے کو بے ادبی اور گستاخی تصور کرتے ہیں اور ان سے ناراض رہتے ہیں۔ خفا ہو جاتے ہیں اور ہفتوں مہینوں سالوں بات نہیں کرتے۔ میری نگاہ میں ہمیں اپنے بچوں کا احترام ہی نہیں ان پر اعتماد بھی کرنا چاہیے اور انہیں موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ بدھا فرمایا کرتے تھے کہ انسان کا اپنا تجربہ اس کا سب سے بڑا استاد ہے۔
ہمارے بچے جوان ہو جائیں تو ہمیں ان سے دوستوں کا سا سلوک کرنا چاہیے اور ان سے ان کے مسائل کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کرنا چاہیے۔ میں نے اپنے بھانجے اور بھانجیوں سے دوستانہ مکالمے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں نے ان کے اور اگلی نسلوں کے بارے میں لکھا تھا
؎ نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے
ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے
روایتوں کے کھلونوں سے دل نہ بہلے گا
بغاوتوں سے منور شباب چاہیں گے
حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا
ہمارے عہد کاوہ احتساب چاہیں گے
ہمارے بزرگوں کے سامنے دو راستے ہیں
پہلا راستہ یہ ہے کہ ہم پوری کوشش کریں کہ ہمارے بچوں کے ذہن کشادہ ہوں اور وہ اپنی زندگی کے فیصلے دانشمندی سے کریں۔ ایک فلاسفر نے کہا تھا
HUMAN MINDS ARE LIKE PARACHUTES. THEY WORK ONLY WHEN THEY ARE OPEN
دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم ان کے سروں پر روایتوں کی لوہے کی ٹوپیاں پہنا دیں اور وہ علمی ’ادبی‘ سماجی ’تخلیقی اور نظریاتی طور پر دولے شاہ کے چوہے بن جائیں اور جب ہم انہیں مغرب کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجیں تو ان کے ریفیرنس لیٹر میں لکھیں
HE/SHE IS THE MOST OBEDIENT STUDENT
یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ مغرب کی یونیورسٹیاں ایسے طالب علموں کو قبول نہیں کرتیں کیونکہ انہیں دولے شاہ کے چوہے نہیں چاہئییں وہ ایسے طالب علم چاہتے ہیں جو منطقی اور معروضی سوچ رکھتے ہوں۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ مغرب تنقیدی سوچ چاہتا ہے اور مشرق اندھی تقلید کو سراہتا ہے۔
ہماری یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہمارے مذہبی اور سیاسی لیڈر صبح و شام اور دن رات داد و تحسین چاہتے ہیں۔ وہ تنقید پسند نہیں کرتے۔ ہمارے لیڈر CULT LEADERS بن جاتے ہیں اور ہمارے نوجوان ان کے پرستار۔ ہمارے ہاں شخصیت پرستی اپنی معراج پر ہے۔ مغرب دلیل مانگتا ہے اور ہم اندھی محبت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ جو قوم خود احتسابی نہیں کر سکتی وہ رفتہ رفتہ رو بہ زوال ہو جاتی ہے۔
نوجوان قومیں مستقبل کی طرف دیکھتی ہیں
اور
بوڑھی قومیں ماضی پرست بن جاتی ہیں جو کہنہ سالی کی نشانی ہے۔
میری نگاہ میں اکیسویں صدی میں انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے
ایک راستہ رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب کی بنیاد پر تعصب ’غصے اور نفرت کا راستہ ہے یہ راستہ ہمیں جنگ و جدل کی طرف لے جاتا ہے۔ اس راستے پر چلنے والوں پر عذاب آتا ہے۔ عبدالقوی ضیا کا شعر ہے
؎ خاندانوں پہ عذاب آئے گا
نفرتیں خون میں بونا کیسا
اس راستے پر چلتے چلتے ہم اتنی دور جا سکتے ہیں کہ ہم خانہ جنگی یا ایٹمی ہتھیاروں سے اجتماعی خود کشی بھی کر سکتے ہیں
دوسرا راستہ امن اور آشتی کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چل کر ہم کرہ ارض پر پر امن معاشرے قائم کر سکتے ہیں۔
پرامن معاشرے قائم کرنے کے لیے ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو انسان دوستی سکھانی ہوگی اور انہیں بتانا ہو گا کہ ہم سب سات ارب انسان ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور اس خاندان کا نام انسانیت ہے۔
اگر ہم نے انسان دوستی کے فلسفے کو اپنایا اور اپنے بچوں کو اپنے خاندان اور قبیلے سے بلند ہو کر سوچنا سکھایا تو وہ اپنے مسالک ’مذاہب اور ممالک سے اوپر اٹھ کر پوری انسانیت کے مستقبل کے بارے میں سوچ سکیں گے اور انسانی ارتقا میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔
انسان دوستی کے فلسفے کو اپنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ نوجوانوں اور بزرگوں میں ایک صحتمند مکالمہ ہو۔ آج کے سیمینار کی کتاب ایسے مکالمے کے آغاز کے لیے میرا اور مقدس مجید کا ایک عاجزانہ قدم ہے۔
میں آخر میں
مقدس مجید کا بطور تخلیقی ہم سفر
نصیر احمد ناصر کا بطور پبلشر
ظہور ندیم کا بطور موڈریٹر
فیمیلی آف دی ہارٹ کا بطور سپورٹر
اور سیمینار کے سب مقررین اور حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے تئیس اپریل کی شام کو ایک یادگار شام بنا دیا۔ اب میں اجازت چاہتا ہوں۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ شب بخیر۔



