”اپنا اگاؤ۔ اپنا کھاؤ“ : سندھ میں کلہوڑوں اور مھدویوں کا نعرہ
سیاسی طور پر مغلیہ سلطنت کی بنیادیں ہل گئی تھیں اور بادشاہ کی طاقت ختم ہو گئی تھی۔ دوسری جگہوں کی طرح مغل حکومت کے لیے سندھ میں امن و امان برقرار رکھنا بھی مشکل تھا کہ سندھ میں ایک مقامی کلہوڑہ قبیلہ ایک سیاسی طاقت کے طور پر ابھرا اور بالآخر سندھ کے تخت پر چڑھ بیٹھا۔
کلہوڑے مھدوی تھے، سید میراں محمد مہدی جونپوری (وفات 1505ع) کے پیروکار تھے۔ مھدویوں نے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ: ”اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اس حد تک طول دے گا کہ میری اولاد میں سے ایک آدمی آئے گا جس کا نام میرا نام ہے اور جس کا لقب میرا لقب ہے۔ ظاہر ہو جائے گا۔ وہ زمین کو عدل اور امن سے اس طرح بھر دے گا جب وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی“ ۔
چنانچہ جب بھی عالم اسلام کو آفات کا سامنا ہوا اور مسلمانوں کو اپنی بے بسی کا احساس ہوا اور اسلامی معاشرہ فساد اور انتشار کا شکار ہوا وہاں ایک شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایسے دعویداروں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ایسے ہی دعویداروں میں سے ایک سید میراں محمد مہدی جونپوری تھے۔ انہوں نے 15 ویں صدی میں ”مھدوی تحریک“ شروع کی جس کا مقصد نا انصافی اور ظلم کے خاتمے اور سماجی انصاف اور مساوات پر مبنی ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی تمام تحریکوں نے بادشاہوں کے جمود اور اختیار کو چیلنج کیا۔ انہیں بے رحمی سے کچل دیا گیا۔ مھدوی تحریک کو بھی پورے ہندوستان میں بے دردی سے کچل دیا گیا۔
کلہوڑوں نے مہدی جونپوری کے پیروکار ہونے کے ناتے جمود اور بادشاہت کے الٰہی تصور کو چیلنج کیا جس کے نتیجے میں بادشاہی نظام نے ان پر زبردست حملہ کیا۔ ان کی تحریک روحانی تھی لیکن حالات نے انہیں سیاست میں لا کھڑا کیا۔ مغل سامراج کی سماجی نا انصافی اور ظلم کو دیکھ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے لیے لڑے۔ مھدوی کی حیثیت سے وہ اسلامی سوشلزم پر یقین رکھتے تھے اور زمینوں پر مالکی کے خلاف تھے۔ ان کا نعرہ تھا ”اگاؤ اور کھاؤ“ ۔
جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے اور انہیں روزی روٹی فراہم کی جانی تھی اور کلہوڑا لیڈروں نے اپنے غریب پیروکاروں کا پیٹ پالنے کے لیے حکومتی امداد لینے کی بجائے سندھ کے بڑے زمینداروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے اپنے بے زمین پیروکاروں کو ان کی زمینوں پر بسایا۔ اس کی بہترین مثال آدم شاہ کلہوڑو تھی۔ وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے سندھ میں کلہوڑہ حکمران خاندان کی بنیاد رکھی۔
وہ چانڈکا (اب لاڑکانہ) کی تحصیل کے گاؤں ہٹری میں آباد ہوئے اور ابڑو قبیلے کے سربراہ سردار کھبڑ ابڑو کے تعاون سے اس چھوٹے سے گاؤں سے اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ ان کے پیروکاروں میں شامل ہونے والے وہ پہلے اہم شخص تھے۔ یہ چھوٹا سا گاؤں مھدویوں کے لیے علم کا مرکز بن گیا۔ 1591 ء میں جب عبدالرحیم خان خانان نے ملتان کے گورنر کا چارج سنبھالا اور سندھ کے ترخان حکمران مرزا جانی بیگ کو سزا دینے کے لیے سندھ کی طرف سفر کو چلا۔
ٹھٹھہ جاتے ہوئے وہ میاں آدم شاہ کلہوڑو سے ملے۔ ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سردار کھبڑ ابڑو نے عبدالرحیم خان خانان سے درخواست کی کہ وہ آدم شاہ کلہوڑو اور ان کے پیروکاروں کی دیکھ بھال کے لیے کچھ زمین میاں آدم شاہ کو دے دیں۔ عبدالرحیم خان نے میاں آدم شاہ کلہوڑو کو چانڈکہ جاگیر کی مالکی عطا کی؛ جس نے انہیں طاقتور بنا دیا۔ بڑی تعداد میں پیروکاروں اور مرید ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے ایک دیگر وسیع و عریض زمین پر قبضہ کر لیا، انہوں نے زبردستی دیگر زمینوں پر بھی قبضہ کیا اور پھر مقامی جاگیرداروں کی زمینوں پربھی قبضہ کرنا شروع کر دیا۔
آدم شاہ کلہوڑو، میران محمد جونپوری کے پیروکار تھے جنہوں نے ”اپنا اگاؤ۔ اپنا کھاؤ“ کی تبلیغ کی۔ ہر ایک اپنی ضرورت کے مطابق زمین کا مالک تھا اور اس پر ہل چلا کر خوراک اگاتا تھا، اس لیے یہ نعرہ لگایا گیا ”اپنا اگاؤ۔ اپنا کھاؤ“ ۔ انہوں نے ایک آبادی قائم کی اور اپنے پیروکاروں کی ایک کالونی بنائی، جسے ”دائرہ“ کہا جاتا تھا۔ یہ شہر سے باہر تھی، ایک عارضی چھت، چاروں طرف باڑ لگی ہوئی، مھدویوں کی یہ آبادیاں شہری مراکز سے دور تھیں تاکہ اہل ایمان دنیاوی خواہشات سے دور رہیں۔ لوگ متوجہ ہوئے اور بڑی تعداد میں میاں آدم کلہڑو کی طرف آنے لگے اور پیروکاروں کی ایک بہت بڑی جماعت نہ صرف پڑوسی جاگیرداروں کے لیے بلکہ ان کے زمینداری نظام کے لیے خطرہ بن گئی۔ مقامی زمینداروں نے ملتان کے حاکم سے شکایت کی اور ان کی شکایت پر حکمران نے میاں آدم کلہوڑو کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔
جب میاں نصیر کلہوڑو قائد بنے تو انہوں نے وفادار قبائل اور مقامی سرداروں کی زمینیں بھی اپنے قبضے میں لے لیں جنہوں نے مغلوں کو ٹیکس ادا کیا تھا۔ میاں نصیر کلہوڑو نے موجودہ لاڑکانہ ضلع؛ میھڑ اور خیرپور ناتھن شاہ تحصیلوں پر قبضہ کیا۔ مقامی زمیندار بکھر (اب سکھر) کے گورنر کے پاس گئے، شکایت کی کہ میاں نصیر کلہوڑو لوگوں کے لیے پریشانی و مشکلات کر رہے ہیں۔ یہ جان کر میاں نصیر کلہوڑو وہاں سے شہداد کوٹ کے قریب ایک ریتلے صحرا میں چلے گئے۔
میاں نصیر گوالیار کی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور شکارپور کے امیر محمد بہادر خان داؤد پوٹو کی مدد سے اپنے آبائی وطن واپس آ گئے۔ میاں نصیر کلہوڑو نے 1657 سے 1692 تک ”میانوال تحریک“ کی سربراہی کی۔ میاں نصیر کلہوڑو کے بعد میاں دین محمد کلہوڑو نے تحریک کی بھاگ دوڑ سنبھالی، انہوں نے میانوال تحریک کی کامیابی سے قیادت کی، میاں دین محمد کلہوڑو نے بہت سے علاقے اپنی حکومت میں لائے۔ میاں دین محمد کلہوڑ کے بعد میاں یار محمد کلہوڑ نے میانوال تحریک کی قیادت کی۔
کلہوڑوں نے سماجی تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کی اور انہوں نے دائرہ کی شکل کی آبادیوں میں ”اپنا اگاؤ۔ اپنا کھاؤ“ کے ماڈل قائم کیے۔ لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو وہ خود اقتداری نظام بن گئے اور نظام کی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو خود ہی کچل ڈالا۔
سندھ میں مغلوں اور کہلوڑوں کے جابرانہ دور میں جھوک شریف کے ایک تارک الدنیا اور وحدت الوجودی صوفی مرشد شاہ عنایت شہید تھے، جو زمین و جائیداد رکھنے اور دولت جمع کرنے کے خلاف تھے اور اسے تمام معاشرتی برائیوں اور انسانی مصائب کی جڑ سمجھتے تھے۔ تارک الدنیاں فقیر ہونے کے ناتے، صوفی شاہ عنایت نے اپنے خاندان کی ذاتی زمین بے زمین فقیروں میں بغیر کسی معاوضے اور پیداوار میں حصہ کے مفت میں تقسیم کردی۔ ان کے ابا و اجداد بہی تارک صوفی تھے جو شام کے وقت میں مٹکوں کا پانی بھی گرا دیتے تھے ”نیا دن۔ نیا رزق“ ۔ تھوڑے ہی عرصے میں، وہ ایک تارک صوفی کے طور پر مقبول ہو گئے، ان کا نعرہ ”یا اللہ“ تھا۔ فقیروں کی تعداد دن بدن دوگنی ہوتی جا رہی تھی۔ کلہوڑا حکمران اور ان کے حامی صوفیوں کے خلاف ہو گئے اور انہیں سیاسی نظام اور سماجی انتشار کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ کلہوڑوں نے دہلی کے حکمران فرخ سیر کی مدد سے میرانپور (اب جھوک) میں صوفی خانقاہ پر حملہ کر کے شاہ عنایت سمیت ہزاروں صوفیوں کو شہید کر دیا۔ شہادت کے بعد نواب اعظم خان نے ٹھٹہ اور پسماندہ علاقوں کے اندر اعلان طبل کروایا، جو کوئی بھی صوفی شاہ عنایت کا وحدت الوجود نعرہ ”یا اللہ“ لگائے گا، اس کو فوری قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ شاہ عنایت سے منسلک نعرہ ”جو کھیڑے، سو کھائے“ کبھی نہی تھا، کیونکہ وہ تارک صوفی تھے۔
عجیب واقعہ یہ ہے کہ کلہوڑا خاندان اقتدار میں آنے سے پہلے، محمد مہدی جونپوری کے پیروکار تھے، غریب کسانوں کی فلاح و بہبود کے علمبردار تھے اور دائروں کی صورت میں آبادیاں قائم کیں، جہاں ان کے بے زمین ہاری اور مریدوں کے پاس زرعی زمین تھی اور ان کا نعرہ تھا ”اپنا اگاؤ۔ اپنا کھاؤ“ ۔ لیکن جب انہیں اقتدار ملا تو وہ خود نظام بن گئے اور صوفی شاہ عنایت شہید پر حملہ آور ہو کر اپنے میانوال اور مھدوی تحریک کے مقاصد اور نعرے سے انحراف کر لیا۔


