سندھ کے صوفیا: تصوف، ہم آہنگی، اور روشن خیالی

وادی سندھ، قدیم تہذیب اور منفرد ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ان میں سے، تصوف کے صوفیانہ سلسلے اور اولیاء کرام کی قابل احترام شخصیات نے خطے کے مذہبی اور ثقافتی منظرنامے کو نمایاں طور پر تشکیل دیا ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے تصوف اور صوفیاؑ کرام کے درمیان تعامل نے ایک منفرد روحانی منظرکشی کو فروغ دیا ہے، جس کی خصوصیت رواداری، ہم آہنگی، پیار اور محبت ہے، جس نے برصغیر کے سماجی اور مذہبی تانے بانے پر انمٹ

Read more

شيراز کے صوفی روزبھان بقلی کے کشف الاسرار

صوفی روزبھان بقلی 1128 ع میں فاسا شہر میں دیلامائٹ نسل کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے، جو آج ایران کے صوبے فارس کا شہر ہے۔ صوفی روزبھان بقلی ایک پنساری کے طور پر کام کرتے تھے۔ اگرچہ صوفی روزبھان بقلی نے بتایا ہے کہ انہیں تین، سات اور پندرہ سال کی عمر میں عشق الٰہی کے اسرار ملنے شروع ہو گئے تھے۔ آپ نے کشف قلوب اسراروں کی نقاب کشائی میں ان خوابوں کو وجدانی کیفیت کے طور پر

Read more

آیا میلا قلندر لعل، چلو سیہون چلیے

حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر سہوانی (c۔ 1177۔ 1274 ) ، سلطان الا اولیاء، مرشد کامل، صوفی، فلسفی، عالم، قلندر، اور نامور شاعر۔ کا سالانہ میلا سیہون شریف سندھ میں منایا جاتا ہے، اس سال بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ آئے ہوئے ہیں۔ میلے کی مناسبت سے حضرت لعل شہباز کی زندگی کا احوال۔ آپ سید ابراہیم کبیر الدین بن سید شمس الدین کے گھر 573 ہجری / 1177 یا 538 ہجری / 1144 عیسوی میں افغانستان

Read more

سہاگنی دہاگنی: سندھ میں سہاگن اور دوہاگن کے مقبرے

نارا کینال سکھر پر روہڑی اور اروڑ کے درمیان دو مقبرے ہیں، جو سہاگن اور دوہاگن کے نام سے مشہور ہیں۔ سہاگن کا مطلب ہے وہ عورت جس کا شوہر زندہ ہو، جب کہ دوہاگن کا مطلب ہے بیوہ یا جس کی شادی شدہ زندگی خوشگوار نہ ہو۔ یہ مقبرے 13 ویں صدی کے صوفی بزرگوں کی قبریں ہیں جن کے نام صوفی کمال الدین اور صوفی قتال الدین ہے، جو اس وقت کے درویشوں میں شمار ہوتے تھے، وہ

Read more

مارگوریٹ پوریٹ: فرانس کی صوفی خاتون جنہیں زندہ جلا کر مارا گیا

ایک فرانسیسی بولنے والی صوفی عورت، اپنی مشہور کتاب ”دی مرر آف سمپل سولز“ کی مصنف، ایسی کتاب جو عیسائی تصوف کے عشق الٰہی سے متعلق ہے۔ وہ اس وقت کے مذہبی علماء آرتھوڈوکس کا شکار تھیں، جنہوں نے ایک طویل مقدمے کی سماعت کے بعد اپنی کتاب کی اشاعت کو مارکیٹ سے ہٹانے اور اپنے خیالات سے انکار کرنے سے انکار کرتے ہوئے توہین مذہب کا الزام عائد کیا۔ الزام میں وقت کے مذہبی ملاؤں نے کفر کا فتوا

Read more

حلب کے صوفی درویش سید علی نسیمی جنہیں کھال اتار کر مارا گیا

آپ کا پورا نام سید علی عماد الدین نسیمی آذربائیجانی ( 1369۔ 1417 ) ہے۔ آپ 14 ویں صدی کے آذربائیجانی حروفی سلسلے کے درویش اور صوفی شاعر تھے۔ زیادہ تر اپنے قلمی نام نسیمی سے جانے جاتے ہیں، آپ نے آذربائیجانی، فارسی اور بعض اوقات عربی میں شاعری کی ہے، آذربائیجانی میں ایک دیوان، فارسی میں ایک دیوان کے علاوہ ترکی اور عربی میں متعدد نظمیں لکھیں ہیں۔ آپ اس وقت کے سب سے بڑے صوفیانہ شاعروں میں سے

Read more

صوفی قادر بخش : عبدالقادر بے دل

قادر بخش ”بیدل“ ( 1815۔ 1873 عیسوی) ، روہڑی سکھر میں پیدا ہوئے، محمد محسن پاٹولی (ریشم بنے والے ) کے بیٹے، جو کہ فقیر قادر بخش عرف عبد القادر ”بیدل“ کے نام سے مشہور ہیں، ایک بہت بڑے صوفی بزرگ، درویش، صوفی شاعر اور فلسفی رہے۔ انہوں نے تخلص بے دل (یعنی بغیر دل کے ) رکھا، ان کا کہنا تھا کے میرا دل میرا محبوب لے کر چلا گیا : فارسی کا شعر ہے (دل بردو نہا شد) ۔

Read more

”اپنا اگاؤ۔ اپنا کھاؤ“ : سندھ میں کلہوڑوں اور مھدویوں کا نعرہ

سیاسی طور پر مغلیہ سلطنت کی بنیادیں ہل گئی تھیں اور بادشاہ کی طاقت ختم ہو گئی تھی۔ دوسری جگہوں کی طرح مغل حکومت کے لیے سندھ میں امن و امان برقرار رکھنا بھی مشکل تھا کہ سندھ میں ایک مقامی کلہوڑہ قبیلہ ایک سیاسی طاقت کے طور پر ابھرا اور بالآخر سندھ کے تخت پر چڑھ بیٹھا۔ کلہوڑے مھدوی تھے، سید میراں محمد مہدی جونپوری (وفات 1505ع) کے پیروکار تھے۔ مھدویوں نے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا

Read more

سندھ کا دريا "مبارک”۔

سندھ کی تاریخ کا ایک ایسا کردار، جو اپنی موت تک وطن کی آزادی کے لیے لڑتا رہا۔ دریا خان (وفات 1521 ) ، ان کا نام قبولیو تھا، ان کے جد امجد میر فتح خان لاشاری تھے۔ میر گوہرام لاشاری نے جام نظام الدین (سما خاندان کا بادشاہ) کے ساتھ تعلقات استوار کیے اور قبولیو سمیت اپنے قبیلے کے کئی نوجوانوں کو ملازمت کے لیے بھیجا۔ وہ دیوان لکھدیر کا غلام تھا، جو جام نظام الدین کا وزیر تھا۔

Read more

"سچل سارا س

حضرت صوفی عبد الوہاب المعروف ’سچل سرمست‘ ( 1739۔ 1827 ) ، سلطان الا اولیاء، مرشد کامل، صوفی، تذکرہ نگار، فلسفی، عالم، اور نامور شاعر۔ جناب صلاح الدین بن محمد حافظ عرف میاں صاحب ڈنو کے فرزند، درازہ شریف خیرپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن میں ہی اپنے والد کو کھو دیا اور ان کی پرورش ان کے دادا حضرت صوفی محمد حافظ عرف صاحب ڈنو نے کی، پھر اس کے چچا حضرت صوفی عبدالحق، جو بعد میں ان

Read more