مسجد نبوی: ایسی ضد جو آفاق کو نگل گئی
مسجد نبوی میں یہ سب ہوا؟ آسمان بھی ہم پر ملامت کر رہا ہو گا جب یہ سب ہوا ہو گا۔ فرشتے حیران ہیں اور آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ کیا یہ وہی نہیں جس کے بارے میں ہم نے کہا تھا کہ یہ زمین میں جا کر فساد پھیلائے گا، مگر وہ فساد ایسی مقدس ہستی کے گھر جا کر پھیلائے گا؟ ان ظالموں نے تو اس کے گھر کو نہ چھوڑا جو رحمت اللعالمین بن کر آئے تھے۔
انسانی معاشروں میں یہ عام ادب ہے، انسانیت کا تقاضا ہے، کہ جب آپ اپنے کسی پیارے کی آخری آرام گاہ پر جاتے ہیں تو اپنا ہونا بھول جاتے ہیں بلکہ اس کی یاد آپ کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ یہ کیا ہوا کہ آپ کائنات کی سب سے محترم ہستی کی بارگاہ میں گئے اور وہ سب کیا جو کسی عام گلی محلے میں کرنا غلط ہے۔ اگر یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہوا تو تف ہے اس پر جس نے اس کی اجازت دی اور اس منصوبے کو گھڑا۔ کیا کسی کو ایک پل کے لئے بھی خیال نہ آیا کہ یہ عمل وہ کس جگہ کرنے جا رہے ہیں؟ اور اگر یہ فی البدیع امڈنے والا غصہ تھا جس کا کہ ایک خاص جماعت کے لوگ دن رات پرچار کرتے ر ہے ہیں تو ان کے لیڈر کو شرم سے مر جانا چاہیے یہ دیکھ کر کہ اس کی لگائی ہوئی آگ کن کن مقدس مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
اے آقائے دو جہاں، ہمیں معاف کرنا، ہم اس قابل نہ رہے کہ تیرے امتی کہلا سکیں۔ ہمارے حرص اور طاقت کے لالچ نے ہمیں ایسا اندھا کر دیا کہ ہم آپ کی دی ہوئی ساری تعلیمات بھول گئے۔ ہم صبح شام آپ کے اسوہ پر بات کرتے نہیں تھکتے مگر سچ یہ ہے کہ ہم سے زیادہ بد قسمت کون ہو گا جو آپ کے نام کو لوگوں کے جذبات کو اپنے دشمنوں کے خلاف اکسانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسلام کے علمبردار، اسلاموفوبیا کے چیمپین، تم نے تو اسلام کو ایسے نقصان پہنچایا جیسا کوئی گستاخ نہ پہنچا سکا۔
کاش میری آنکھیں نہ ہوتیں اور میں یہ منظر نہ دیکھ سکتا، کاش میرے کان نہ ہوتے کہ ایسی بات سن سکتا۔ پستی کی ایک انتہائی گھناوٴنی اور مکروہ چہرہ سطح ہے یہ جہاں ہم گر چکے ہیں۔ میری صلاحیت شعور شل ہو چلی کہ کن الفاظ میں مذمت کروں اس کی، کس سے بین کروں، کہاں سے وہ مرہم لاوٴں جو اس درد کو کم کرے۔ لرز جاتی یہ زمین یا پھٹ جاتا یہ آسمان اگر کسی غیر مسلم نے یہ سب کیا ہوتا۔ اے انسانو! اے مسلمانو! یہ تم نہ کیا کیا؟
یا نبی مکرم ﷺ ، آپ نے تو اپنی اسی امت کی شفاعت کے لئے رات رات بھر گڑ گڑا کر دعائیں کی تھیں، ہم اس قابل کہاں ہیں کہ آپ ﷺ ہمارے حق میں دعا کرتے۔ ہم سے تو وہ جانور اچھے جو ایسے کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے۔ ایسے انسان کی نفسیات پر کیسے لکھوں جسے اس معاملے میں بھی اپنی کامیابی نظر آ رہی ہو اور جو کہہ رہا ہو کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے۔ ایسے شخص پر کیا تبصرہ کروں جس کے نزدیک اپنی ذات ہی اول و آخر تھی۔ کئی حکمران آئے اور چلے گئے، مگر کوئی بھی آج تک ایسی گستاخی کا مرتکب نہ ہوا۔ کئی اور آئیں گے اور کئی قوموں کی تاریخی کتابوں میں یہ واقعہ لکھا جائے گا۔ مائیں اپنے بچوں سے کہیں گی کہ ایسا کبھی نہ کرنا جیسا اس قوم نے کیا۔ یہ ہے وہ پاکستان، وہ نوجوان جو تم بنانا چاہتے تھے؟ یہ ہے وہ ریاست مدینہ جہاں شہر مدینہ کا تقدس پامال کرنا ایک سیاسی چال ٹھہری؟
کرنے والو، تم نے یہ کیا کر دیا کہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی وہ قوم کون تھی جس نے ایسی پاک جگہ کی تقدس پر اپنی ذاتی چپقلشوں کو مقدم رکھا۔ وہ پیکر نور جس کے ہاں ہر خاص و عام کو معافی کی وعید تھی، وہ کمال انسانیت جس کی سکھائی معاشرت و نفسیات انسان کو صرف اور صرف ادب، اخلاق، بردباری، تحمل، حسن سلوک کا مجسمہ ہے، تم نے تو ان کی ہر تعلیم کو مٹی میں ملا دیا۔ عمران خان توبہ کرو اور ڈرو اس دن سے جب کسی اور جرم میں نہ سہی مگر اس غلاظت کو ابھارنے کی پاداش میں تم پکڑ لئے جاوٴ گے۔
اگر ابھی بھی ایک دل ہے تمہارے پاس تو جاوٴ اس روضے پر اور معافی مانگو وگرنہ تمہارا غرور، تمہاری ہٹ دھرمی نہ صرف تمہیں بلکہ اس قوم کو کھا جائے گی جو تمہارے پیچھے لگ گئی ہے۔ میں استدعا کرتا ہوں اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے کہ خدارا اب باز آ جائیں۔ کچھ ہستیاں، کچھ مقام، کچھ لوگ، کچھ شہر، مجھ سے یا آپ سے یا آپ کے لیڈر کے ہونے سے بالاتر ہیں، خدارا کسی کو تو بخش دیں، خدارا اب تو توبہ کر لیں۔ یہ کیا غضب ہوا کہ ریاست، سیاست اور ایک انسان کی ضد کہ بس اسے ہی اقتدار میں رکھیں اتنی بڑی ہو گئی کہ آفاق کو ہی نگل گئی۔


