ہیپی شہزادہ، ننھی پری اور ظالم کوتوال


پیارے بچو! نئے زمانے میں ایک شہر سے ایک ننھی پری کا گزر ہوا۔ وہ گرمیاں شروع ہونے پر اپریل کے مہینے میں شیخوپورہ کے موضع گھنگ سے کوہ قاف جا رہی تھی کہ رات پڑنے پر ایک جھیل کے کنارے پر رکنے پر مجبور ہو گئی۔ اس نے دیکھا کہ جھیل کنارے پہاڑ کے اوپر ایک ہینڈسم شہزادے کا سنہرا مجسمہ نصب ہے۔ اس نے سوچا کہ بس یہ بہترین جگہ ہے، میں اس شہزادے کے قدموں کے بیچ پڑ رہوں گی اور یوں اس سنہرے بیڈروم میں ہوا سے بچ کر سکون سے سو جاؤں گی۔

وہ شہزادے کے قدموں کے درمیان سوئی ہی تھی کہ ٹپ سے اس کے سر پر پانی کا ایک قطرہ گرا۔ پری نے ہڑبڑا کر اوپر دیکھا۔ آسمان صاف تھا اور دور دور تک بادلوں کا نشان تک نہیں تھا۔ ”شاید میری غلط فہمی ہو گی“ ، یہ سوچ کر اس نے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ ٹپ۔ اچانک ایک اور قطرہ اس کے سر پر گرا۔ اس نے اب اوپر دیکھا تو اس کی نظریں ہینڈسم شہزادے کی آنکھوں پر جم گئیں۔ وہ رو رہا تھا۔

پری نے پوچھا ”تم کون ہوں؟“
”میں ہینڈسم شہزادہ ہوں جسے انگریز ہیپی پرنس بھی کہتے ہیں۔ میں نے ایک طویل عرصہ انگلستان میں گزارا ہے“ ۔ مجسمے نے جواب دیا۔

”تم ہیپی پرنس ہو تو پھر تم کیوں رو رو کر مجھے بھگو رہے ہو؟ کیا یہ خوشی کے آنسو ہیں جو ایک پری کو یوں پاس موجود پا کر تمہاری آنکھوں میں آ گئے ہیں؟“ پری نے جھنجھلا کر پوچھا۔

”جب میرے سینے میں ایک انسانی دل تھا، اور میں اپنے محل میں رہتا تھا تو مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ غم کیا ہوتا ہے۔ میں دن کو کھیلتا تھا اور شام کو پارٹی کرتا تھا۔ سب مجھے ہیپی پرنس کہتے تھے اور میں تھا بھی بہت ہیپی۔ جب میرا دور گزر گیا تو شہر والوں نے میرا بت بنا لیا کیونکہ میں بہت پاپولر تھا۔ پھر اس بلندی سے میں نے شہر والوں کا حال دیکھا تو میرے سینے میں موجود جست کا بنا ہوا دل بھی رو پڑا۔“

”کیا مطلب؟ کیا تم خالص سونا نہیں ہو اور دنیا والے غلط فہمی میں مبتلا ہیں؟ کیا تم ملاوٹ شدہ مٹیریل ہو؟“ پری نے حیران ہو کر پوچھا۔

ہینڈسم شہزادے نے اس کا سوال نظرانداز کیا اور کہنے لگا ”تم دیکھ رہی ہو کہ میری کلائی پر ایک جڑاؤ گھڑی بندھی ہے۔ میری آنکھوں میں جواہرات جڑے ہیں۔ میرے بدن پر سونے کی پتیوں سے بنا لباس موجود ہے۔ لیکن میں غریبوں کی مدد کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ میرا مجسمہ بنانے والے میرے پاؤں یہاں ٹھوک گئے ہیں۔ پیاری پری، کیا تم دیکھ رہی ہو کہ دور نیچے ایک گھر میں ایک غریب عورت کپڑوں پر کڑھائی کر رہی ہے۔ وہ ایک شہزادی کے لیے لباس بنا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بستر پر اس کا ننھا بیٹا پڑا بخار سے پھنک رہا ہے اور مالٹا کھانے کی فرمائش کر رہا ہے۔ اس کی ماں کے پاس اسے ایک نوالہ دینے کے پیسے بھی نہیں مالٹا کہاں سے دے۔ وہ بے بسی سے رو رہی ہے۔ ننھی پری، کیا تم میری کلائی سے گھڑی اتار کر اسے دے سکتی ہو تاکہ اسے بیچ کر وہ کچھ کھانے کو لے آئے اور بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے؟“

پری مان گئی۔ وہ گھڑی لے کر چلی گئی اور پھر اس نے شہزادے کو بتایا کہ اب وہ عورت بہت خوشحال ہے۔

اگلی صبح پری پھر کوہ قاف کی طرف اڑنے کو تیار ہوئی اور ہینڈسم شہزادے سے اجازت کی طالب ہوئی۔

”ننھی پری، بس ایک رات اور رک جاؤ۔ نیچے چوک میں ایک ننھی بچی ماچس بیچ رہی ہے۔ اس کا تھیلا نالے میں گر گیا ہے اور ماچسیں خراب ہو گئی ہیں۔ اب وہ خالی ہاتھ گھر گئی تو اس کا باپ اسے بہت پیٹے گا۔ ایسا کرو میری ایک آنکھ سے ہیرا نکال کر اسے دے آؤ“ ۔ ہینڈسم شہزادے نے کہا۔

پری ہول گئی۔ کہنے لگی ”ہینڈسم شہزادے، تمہاری آنکھ سے ہیرا نکال لیا تو تمہاری بینائی جاتی رہے گی۔“
شہزادہ بے نیازی سے مسکرایا اور بولا ”دوسری آنکھ ہے نا۔ تم ہیرا اس لڑکی کو دے آؤ“ ۔
پری ہیرا لے کر اڑی اور واپس آئی تو اس نے ہینڈسم شہزادے کو بتایا کہ اس نے لڑکی کو ہیرا دے دیا ہے، اس کی زندگی سنور گئی ہے۔ شہزادہ کانا ہو گیا۔

اگلی صبح پری نے پھر کوہ قاف جانے کی اجازت طلب کی۔ شہزادے نے کہا ”ایک طالب علم اپنے بہت پرانے لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہا ہے۔ وہ ملک تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن 25 برس کا ہونے کے باوجود کوئی کام دھندا نہیں کرتا۔ تم اسے میری دوسری آنکھ میں لگا ہیرا دے آؤ تاکہ وہ نیا لیپ ٹاپ لائے اور ملک تبدیل کرے“ ۔

پری نے ہراساں ہو کر کہا ”لیکن شہزادے، تم پہلے ہی کانے ہو، اس طرح تو بالکل ہی اندھے ہو جاؤ گے“ ۔
ہینڈسم شہزادہ مسکرایا اور بولا ”تو کیا فرق پڑتا ہے۔ تم میری آنکھیں بن جانا۔ میں تمہاری نظروں سے دنیا دیکھوں گا“ ۔

پری نے ہیرا لیا اور چلی گئی۔ واپس آ کر اس نے بتایا کہ اس نے نوجوان کو ہیرا دے دیا ہے جس نے فوراً بازار جا کر نیا لیپ ٹاپ اور بگ میک لیا اور قوم کی تقدیر بدلنے میں مشغول ہو گیا ہے۔

اگلی صبح پری نے پھر جانے کی اجازت طلب کی تو ہینڈسم شہزادے نے اسے کہا ”ایک مرتبہ شہر کے اوپر چکر لگاؤ۔ کوئی ضرورت مند دکھائی دے تو میرے پاس موجود سونے کی پتی اسے دے آنا۔“

پری نے یوں ہی کیا۔ ایک ایک کر کے وہ سونے کی پتیاں غریبوں میں بانٹنے کے لیے لے جاتی رہی۔ اب اندھے شہزادے پر اسے رحم آتا تھا تو وہ کوہ قاف جانے سے رک گئی۔ چند دن بعد شہزادے کے پاس موجود تمام سونا ختم ہو گیا۔ اب مئی کا مہینہ آنے والا تھا اور گرمی بہت بڑھ گئی تھی۔

ایک دن ہینڈسم شہزادے نے کہا ”پیاری پری۔ اب میرے پاس لوگوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ میرے پاس جو بھی تھا وہ ختم ہو گیا۔ اب گرمی بھی بہت بڑھ رہی ہے۔ تم اب چاہے تو کوہ قاف چلی جاؤ۔ اسی میں بہتری ہے“ ۔

پری نے ایک نظر لٹے پٹے سے شہزادے پر ڈالی اور پھر سے اڑ گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ پری اب کوہ قاف میں رہتی ہے۔ شہزادے کی گھڑی، ہیرے، اور اس کے بدن پر موجود تمام سونے کی پتیاں اس نے غریبوں کو بانٹنے کی بجائے کہیں انویسٹ کر دیے تھے لیکن شہزادے کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

چند دن بعد اس پہاڑ سے شہر کے کوتوال کا گزر ہوا جو بہت ظالم مشہور تھا۔ اس نے سونے میں ملفوف ہینڈسم شہزادے کی بجائے ایک لٹے پٹے سے شخص کا مجسمہ دیکھا جس کی بے نور آنکھوں سے آنسو رواں ہیں تو وہ حیران ہوا کہ ساری دولت کہاں گئی۔ پھر سی سی ٹی وی فوٹیج میں ننھی پری سب کچھ لے جاتی دکھائی دی تو اس نے پری کا وارنٹ نکال دیا اور اہلکار دوڑا دیے۔

کہتے ہیں کہ اب ظالم کوتوال، پری کی تلاش میں ہے۔ ہیپی پرنس اسے یقین دلا رہا ہے کہ پری نے چوری نہیں کی، اس کا کوئی قصور نہیں۔ لیکن ظالم کوتوال ہیپی پرنس کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے سرکاری مال خانے میں جمع کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

آسکر وائلڈ کی دی ہیپی پرنس سے ماخوذ ایک دیسی کہانی۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar