کوا چلا گوروں کی چال
ہم جب نئے نئے یورپ وارد ہوئے تو اپنی عادت اور طبیعت کے ہاتھوں بہت مجبور تھے اور پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہنگری کے مقامی گوروں کا ابھی تک پاکستانیوں، بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں وغیرہ سے اتنا پالا نہیں پڑا لہذا یہ ہماری مکاریوں کا آسان شکار بھی ہیں۔ جب کبھی سستی کی وجہ سے کلاس میں دیر سے گئے یا پھر اسائنمنٹ جمع کروانے کی تاریخ گزر گئی تو آسانی سے کوئی بھی بھونڈا سا بہانہ گھڑا اور ہماری بخشش ہو گئی۔ ایک دوست تو اپنے مرحوم دادا کو ہمیشہ بیمار رکھتا تھا اور پروفیسر کی آنکھوں میں دھول جھونکتا تھا کہ وہ اپنے دادا جان کی بیماری سے نفسیاتی طور پہ متاثر ہوتا ہے لہٰذا اسے ہمیشہ یونیورسٹی میں ڈھیل ملتی رہی ہے۔ اکثر اوقات کلاس میں پروفیسر اس سے پوچھ لیا کرتے تھے کہ اب تمہارے دادا جان کیسے ہیں؟
خیر اب آہستہ آہستہ جیسے جیسے گورے ہم لوگوں سے ملتے جا رہے ہیں انہیں اندازہ ہوتا جا رہا ہے کہ کوئی انسان جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور یہ کہ کس طرح انسان وہ بالکل نہیں کہہ سکتا جسے وہ کہنا چاہتا ہے اور وہ، وہ کہتا ہے جسے وہ نہیں کہنا چاہتا۔ اب ہم مشرقی اقدار کے حامل لوگ اپنی جگہ مجبور ہیں کہ ہمیں شروع ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح جھوٹ بول کر، دھوکہ دے کر، اپنے سطحی رشتوں کو برقرار رکھنا ہے۔ اس میں ہمارا قصور نہیں ہے، ہماری تربیت ہی یوں ہوئی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب ہم تگ و دو کر کے خود کو ان بھونڈی اقدار سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔ ایک طرف تو اس کے لیے بہت سی توانائی درکار ہے اور دوسری طرف بہت سا وقت اور بہت سا مشاہدہ۔
اس بات کو اب ایک سال ہو چکا لیکن چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ چند قریبی دوستوں کے ساتھ کسی دوسرے شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے انہیں قائل کیا کہ ہم ایک پورا دن وہاں ایک واٹر پارک میں گزاریں گے لیکن پھر واقعات ایسے ہوئے کہ میری طبیعت بہت اداس ہو گئی اور میں فوراً گھر جانے کا سوچنے لگا لیکن پھر ہماری مشرقی روایات کہ دوستوں کی خوشی اور بھرم قائم رکھنے کے لیے ہم آخر کار واٹر پارک تشریف لے گئے۔ اب وہاں ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ میرا بے چینی اور گھبراہٹ سے برا حال ہونے لگا اور میں بس کی طرح گھر جانا چاہتا تھا۔
میں ان دونوں دوستوں کے پاس گیا، انہیں ساری بات بتائی اور ان سے کہا کہ عزیزو! تم لوگ یہاں بیٹھو، مزے کرو ٹھنڈے پانی سے نہاؤ لیکن میں گھر جانا چاہتا ہوں اور ابھی اسی وقت جانا چاہتا ہوں۔ تم لوگ اگر میرے ساتھ آؤ تو بسم اللہ ورنہ یہاں بھی رہو تو یقین مانو مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ میں معذرت خواہ ہوں کہ میں یوں درمیان میں آپ کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اب سادہ سی بات تھی، میں نے ضد نہیں کی کہ وہ لوگ بھی میرے ساتھ چلیں یا کوئی اور شرط۔ سادگی سے صرف یہ پوچھا تھا کہ میں جا رہا ہوں، تم نے آنا ہو تو بتاؤ؟
آپ یقین کریں کہ ان دونوں کی حالت پہ مجھے اپنی بری حالت کے باوجود ترس آ رہا تھا۔ وہ دونوں گویا قوت گویائی سے محروم کر دیے گئے تھے۔ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں، آنکھوں سے اشارے کر رہے ہیں کہ کیا کریں؟ ظاہری بات ہے ان کا دل گھر جانے کا نہیں تھا لیکن مشرقی روایات کے قیدی ایک بندہ کسمپرسی کی حالت میں سامنے کھڑا سادہ سا سوال پوچھ رہا ہے اور تم اس کا جواب نہیں دے پا رہے؟ خیر میں نے ان کی مشکل آسان کی اور اکیلا نکل لیا کہ ہم سب ہی ان رکھ رکھاؤ کی اقدار کے سامنے بے بس ہیں۔
اب یورپ میں رہتے ہوئے اچھا خاصا وقت ہو چکا۔ میری زندگی کا تو ایک فلسفہ ہی یہ ہے کہ بھئی اپنے نظریات، انداز اور رویوں کو ہمیشہ سوالات کا سامنا کرواتے رہو اور پھر اگر مناسب جوابات نہ مل رہے ہوں تو پھر ان نظریات کی صداقت پہ غور کرو اور پھر معاملہ آگے بڑھاؤ اور انہیں تبدیل کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرو۔ ان نظریات اور انداز و رویوں کی تبدیلی کا عمل کسی نہ کسی مشکل میں ہر انسان کی شخصیت میں رونما ہو رہا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی یہ شعوری ہوتا ہے اور کبھی لاشعوری۔ کبھی ہمیں اس کا علم ہوتا ہے اور کبھی ہم مکمل لاعلمی سے اس عمل کا حصہ بنے ہوتے ہیں۔
بات پھر وہی ہے کہ شعوری اور لاشعوری کوششوں کا ایک تناسب ہونا بہت ضروری ہے۔ اور پھر اس بات کا علم ہونا بھی ضروری ہے کہ آپ کی شخصیت اس ارتقائی عمل سے گزرتی ہوئی فی الحال ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس مرحلے میں ہے کہ جب کہا جاتا ہے ”کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا“ ۔ اور پھر وہ بات کہ جس کے لیے یہ مضمون لکھا جا رہا ہے وہ یہی ہے کہ ہمارے بہت سے دوست بغیر مشاہدے اور سوچ بچار کے، شعوری یا لاشعوری طور پہ گوروں کی چال چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجہ وہی کہ نہ ادھر کے رہتے ہیں اور نہ ادھر کے۔ یقیناً مکمل تبدیلی مغربی معاشرے میں رہنے کے لیے ناگزیر ہے اور پھر ہمیں اپنی کچھ بھدی اقدار و عادات سے جان بھی چھڑوانا ہے لیکن بھائیو! کم از کم اس بات کا اقرار تو کرو یا کم از کم یہ بات مانو تو سہی کہ تم شعوری یا لاشعوری طور پہ ان اقدار سے جان چھڑوا رہے ہو۔ اور پھر وہی بات کہ
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
تو اس دوران کہ جب تم نیم مشرقی اور نیم مغربی ہو، زیادہ اچھلنے کی کوشش نہ کرو۔ ان تبدیلی کے مرحلوں میں وہ نظریات جو تمہارے ذہنوں میں نہایت ناپختہ ہیں، ان کو لے کر اتراؤ مت۔ معاملے کو دیکھو، اسے سمجھو کہ اگر گورا یوں کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے؟ اس کے اردگرد کا ماحول کیا ہے اور سیاق و سباق کیا ہے۔ پھر جب تمہیں اس خاص نظریے اور رویے کی مکمل سمجھ آ جائے تو پھر اسے اپناؤ گے تو بالکل گورے لگو گے لیکن اس سب کے لیے بہت سی توانائی کی ضرورت ہے۔
ہم سب پاکستانی عام طور پہ اور کچھ پیارے دوست خاص طور پہ اس ٹوٹ پھوٹ کے ارتقائی عمل کا بڑا شکار بنے ہوئے ہیں۔ وہ کچھ بھی کریں ان کے دماغ میں شعوری و لاشعوری طور پہ گورے کا تصور موجود ہوتا ہے۔ کچھ نے تو بلاواسطہ اپنے کسی بھونڈے رویے کی وضاحت میں ”گوروں کے رویوں“ کا حوالہ تک دیا ہے جبکہ میں نفسیات کے طالبعلم کی حیثیت سے یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ بالکل ان رویوں کے سیاق و سباق سے واقف نہیں۔
مثال کے طور پہ ابھی چند دن گزرے کہ میرا ایک دوست مجھ سے بحث کر رہا تھا کہ بحث، مکالمے سے افضل ہے۔ ہماری چونکہ بہت گہری دوستی ہے اور ہم اکثر اوقات کسی نہ کسی موضوع پہ گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں لہٰذا مجھے فوراً سے پہلے بات سمجھ میں آ گئی کہ اب اس کے دماغ میں یہ چل رہا ہے (پھر سے، یہ سب لاشعوری عمل ہے ) کہ چونکہ گورے اپنی رائے لازمی دیتے ہیں اور پھر اپنی رائے پر ڈٹے رہتے ہیں (پھر سے غیر مکمل اور سطحی مشاہدہ) لہٰذا اب اسے اس بات پر ڈٹے رہنا ہے کہ بحث مکالمے سے بہتر ہے یا یہ کہ بحث مکالمے کا متبادل ہو سکتی ہے۔ میرا دماغ بھی تھوڑا خبطی ہے۔ میں یوں طویل گفتگو کا عادی ہوں لہٰذا اس سے کسی حد تک یہ اگلوا ہی لیا کہ گورے یوں کرتے ہیں۔
نہیں بھائی نہیں! گورے یوں نہیں کرتے۔ آپ کا مشاہدہ ناقص ہے۔ ہماری یونیورسٹی کے اساتذہ تک ہمیں اکثر کہہ دیتے ہیں کہ وہ اس موضوع کے متعلق زیادہ نہیں جانتے اور پھر یہ کہ وہ تب ہی اپنی بات پر ڈٹ کھڑے ہوتے ہیں کہ جب ان کو اس کی صداقت پہ مکمل یقین ہو۔ ایک اور دلچسپ واقع ذہن میں آ رہا ہے لیکن پھر مضمون طوالت کا شکار ہو جائے گا لہٰذا اس کو پھر کسی مضمون کی زینت بنائیں گے۔
ہاں ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ گورے جب ہماری اقدار بتانے کی کوشش کرتے ہیں تب ان کی چال بھی اسی طرح متاثر ہوتی ہے جیسے ہماری چال ان کی نقالی کرتے ہوئے خراب ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ کم از کم اب یونیورسٹی کے طلبہ کا ہم مشرقیوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے لہٰذا وہ ہماری چالوں اور مکاریوں سے خوب واقف ہو کر پہلی بار میں تو کوئی بہانہ مانتے ہی نہیں ہیں اور یہ توقع رکھنے لگے ہیں کہ بندہ جھوٹ بولنے پہ قادر ہے۔ اب انہیں یقین دلوانے کے لیے دو دفعہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے کیونکہ ابھی انہیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ دو دفعہ بھی جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔


