نئی نسل اور پرانے مسائل


سال 2022 اپریل کا مہینہ اور رمضان کے با برکت دن، ان ہی دنوں کراچی کی تین کم عمر لڑکیوں کی گھر چھوڑنے کی خبر، تینوں ہی کم عمر، ناسمجھ اور نا تجربہ کار۔ باقی دو کیس دعا زہرہ کے کیس کے شور میں دب گئے کہ دعا کے والدین نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ والدین کی پہلی ویڈیو دیکھی تو ماں کے آنسو دل کو چیر گئے۔ والد کا غمزدہ چہرہ، جھکے کندھے اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ یہ دھچکا ان کی عمر کو وقت سے کئی برس آگے لے گیا ہے۔

دوسری ویڈیو جس میں والدین نے پریس کانفرنس کی اور دعا کی عمر اور اپنی شادی کے دستاویزی ثبوت پیش کیے ۔ یہ کانفرنس اس ویڈیو کے بعد ہوئی جب دعا کا نکاح نامہ منظر عام پر آیا، اور ویڈیو بیان جاری ہوا جس میں اس نے اقرار کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑا ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ دونوں ویڈیوز الگ الگ کہانی سناتی ہیں، ایک والدین کی بے بسی کا نوحہ ہے اور دوسری اولاد کی بے حسی یا کم عقلی کا ثبوت۔

تیسری ویڈیو میں دعا کے والد کا انٹرویو ہے جس میں وہ اینکر کے محتاط سوالوں کا جواب بہت بے بسی سے دے رہے ہیں کہ کیا آپ کو میری حالت سے اندازہ نہیں ہو رہا کہ میں اس وقت کس کرب میں ہوں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں اس پر تشدد کرتا ہوں گا؟ اور دعا کی طرف سے جو کہانی سنائی گئی کہ اس کی شادی زبردستی اس کے دگنی عمر کے کزن سے کی جا رہی تھی، بالکل من گھڑت قرار دیا۔

ان سب لڑکیوں کے کیس میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے شہر، کم عمری، اور ٹیکنالوجی کا ضرورت سے زیادہ استعمال۔ یا پھر یوں کہیں کہ والدین کا ٹیکنالوجی میں بچوں سے پیچھے ہونا۔ ایک دوسری چیز جو میرے خیال میں ہم سب نظر انداز کر رہے ہیں وہ ہے ”وقت“ جو بچوں کے پاس بے تحاشا ہے اور والدین کے پاس ندارد۔ اس وقت کی بدولت والدین اور بچوں میں صحت مند مکالمے کی کمی ہے۔ ایک بچی یا بچہ جو اپنے دن کے وقت کا سات سے آٹھ گھنٹے اپنے آئی پیڈ پر خرچ کرتا ہے وہ والدین سے کس وقت مکالمہ کرتا ہے؟

سال 2017 رمضان کا مہینہ، انتیسواں روزہ تھا، وقت یہی کوئی شام کے پانچ بجے ہوں گے جب ہمیں اندازہ ہوا کہ ہماری دو سالہ بیٹی پچھلے دو گھنٹے سے لا پتہ ہے۔ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے کا حقیقی مطلب کیا ہے اور آسمان سر پہ گرنا کسے کہتے ہیں۔ پیروں تلے زمین کیسے کھسکتی ہے، دل کی دھڑکن ایک دم سے کیسے رفتار پکڑتی ہے، اس دن ہم نے ہم نے جانا کہ آنسو خود بخود نکلیں تو انسان کو احساس تک نہیں ہوتا کہ گالوں سے پھسلتے آنسو دامن میں گرنے کا سفر کتنی دیر میں طے کرتے ہیں۔

نوکری پیشہ خواتین جب گھر پہنچتی ہیں تو ان کے پاس فقط اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ لباس تبدیل کر کے پانی کا ایک گلاس ہی تسلی سے پی لیں۔ اس کے بعد گھر کے بکھیڑوں کو سمیٹتے اپنی تھکن اتارتی ہیں اور اگر بچے چھوٹے ہوں تو مشقت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ پدرسری معاشرے میں اکثر ”کماو مرد“ کی ذمہ داری صرف نوکری کی حد تک ہوتی ہے، گھر آ کر پانی خود ڈال کے پینا بھی پہاڑ توڑنے کے برابر لگتا ہے۔

ہم بھی سکول سے واپس آ کر کچن میں مصروف ہو گئے کہ بچوں کے کھانے کا انتظام کریں اور ساتھ افطار کی تیاری بھی۔ جتنی بھی مصروفیت ہو ہماری نگاہ بچوں سے کبھی نہیں ہٹتی، بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ کمرے میں کھیل رہا تھا اور بیٹی باپ کے ساتھ گیٹ پہ کھڑی اپنے ہمسائے انکل سے بات کر رہی تھی۔ اچھے ہمسائے اللہ کی بڑی رحمت ہوتے ہیں اور ہم ہمیشہ اللہ کی رحمت کے سائے میں رہے ہیں۔ ہم بے فکری سے کچن میں مصروف ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد بائیک کی آواز آئی ہم نے گیٹ پہ جا کے دیکھا، گاڑی گلی میں کھڑی تھی اور بائیک گیراج سے غائب تھی۔ ہم سمجھے کہ بیٹی کو بائیک پہ سیر کرنی ہو گی تو بابا باہر لے گئے ہیں۔

کام کرتے وقت کا اندازہ ہی نا ہوا، بیٹے کو کھانا دیا اور پھر کچن میں، اس سب میں دو گھنٹے کب گزرے پتا ہی نا چلا۔ ہمارے شوہر کے سلام کی آواز آئی تو پوچھا کہ بیٹی کہاں ہے ہے؟ انہوں نے کہا کیا مطلب؟ اور ہمارے منہ سے بھی بے اختیار یہی نکلا کہ کیا مطلب؟ وہ بولے کہ وہ تو گھر پہ تھی اور ہم سمجھے کہ وہ آپ کے ساتھ تھی۔ خیر تسلی تھی کہ وہ ساتھ والی آنٹی کے گھر ہو گی کہ ان کے نواسے کے ساتھ ہماری بیٹی بھی ان کے گھر کا کھلونا تھی۔ ان کے پوتے ہمارے گھر کھیل رہے تھے۔ ماں کا دل بہت جلدی گھبراتا ہے، کچن کو اسی حالت میں چھوڑا اور آنٹی کہ گھر گئے تو پتا چلا آنٹی گھر پہ نہیں ہیں اور ان کا نواسہ اور بیٹی بھی اپنے گاؤں عید کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔

ہمارے دل کی دھڑکن نے رفتار پکڑی، جو ہمیں صاف سنائی دے رہی تھی، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے یخ ہونا شروع ہو گئے۔ آنسو کب بہنا شروع ہوئے پتا ہی نہیں چلا، ہم نے ہسبینڈ سے کہا کہ وہ ساتھ والی گلی میں دیکھیں، اور ہم پاگلوں کی طرح ہر گھر کا دروازہ پیٹ کر اپنی بیٹی کا معلوم کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ دکھ یہ تھا کہ ہمیں ”وقت“ پہ علم ہی نا ہوا کہ بیٹی غائب ہے، دو گھنٹے تو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ دماغ ماوف ہو گیا تو عقل بھی ساتھ چھوڑ گئی، ہم بھول گئے کہ آنٹی کی ایک بہو اوپر والے پورشن میں رہتی ہیں۔

سارے گھروں سے معلوم کر کے خیال آیا تو ان کے گھر گئے، انہوں نے ہمارے آنسو دیکھے تو بہت گھبرا گئیں، ہمارے ہاتھ پکڑے تو انہیں احساس ہوا کہ ہمارا بی۔ پی لو ہے۔ افطاری کا وقت بھی نزدیک تھا، انہوں نے ہمیں بٹھایا اور بتایا کہ ان کی بیٹی اور ہماری بیٹی دادی اماں کے ساتھ مہندی لگوانے گئی ہیں۔ اور یہ بات وہ احمد انکل کو بتا کر گئی تھیں بس وہ بھول گئے۔ اتنی سی بات تھی کہ وہ بھول گئے اور ہماری جان پہ بن آئی۔ ہماری ڈوبتی نبضیں بحال ہوئیں تو ہم نے بیٹی سے فون پہ بات کی اور عہد کیا کہ آج کے بعد ایک پل کے لئے بھی نہیں چوکنا، ہم آج بھی اپنے عہد پہ قائم ہیں۔ ہمارے بارے میں ویسے ہی مشہور ہے کہ ہمارے بچے گلی میں کھیل رہے ہوں تو ہم گیٹ پہ پہرہ دیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک دن ہمارے بیٹے نے ہمارے ساتھ کیا، اس کا ٹیوشن جانے کا موڈ نہیں تھا اور وہ پردے کے پیچھے چھپ گیا، ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑے لیکن نگاہ بیٹے کے پیروں پہ پڑ گئی۔ اور یوں نکلتی سانس بحال ہو گئی۔ ہم نے بیٹھ کر بیٹے سے بات کی اور سمجھایا کہ اگر کوئی کام کرنے کا موڈ نا ہو تو بات کر لیا کریں، لیکن چھپ جانا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اور ہمارے بچے اس دن کے بعد ”ایسی ایسی“ بات کرتے ہیں کہ پوچھیں مت۔ ہمارے کولیگز کا کہنا ہے کہ اگر ہم ہوتے تو ایک تھپڑ لگا کر چپ کرا دیتے۔ ہم مسکرا کے کہتے ہیں اسی لئے تو آپ نہیں ہیں۔ سب بہن بھائیوں کو ہم سے گلہ ہے کہ ہمارے بچے ”بحث“ بہت کرتے ہیں اور ہم سکون سے ہیں کہ ہمارے بچوں کو ”مکالمہ“ کرنا بہت اچھی طرح سے آتا ہے۔

ہم اس معاشرے کے پروردہ ہیں جہاں بولنے کو بے ادبی شمار کیا جاتا ہے۔ بولنا اور خاص طور پر لڑکی کا بولنا، ہمارے حلق میں ہڈی بن کے پھنس جاتا ہے، ایسی ہڈی جو نا نگلتے بنے اور نا اگلتے۔ آپ کسی اور کے حق میں بولتے ہیں تو ”زبان دراز“ اور اپنے لئے بولتے ہیں تو ”بے حیا“ کا تمغہ بلا مقابلہ جیتنے کے حقدار قرار پاتے ہیں۔

ہم نے کبھی صحت مند مکالمے کو فروغ دینا سیکھا ہی نہیں اور اگر کوئی اپنے گھر سے ہی اس روایت کا آغاز کرے تو اسے ”بے وقوف“ یا باغی کا خطاب دے دیا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے گھر میں بچپن میں ”مار“ اور بڑے ہو کر ”مکالمہ“ دونوں چیزیں سیکھیں۔ اور اسی سبب باغی قرار پائے کہ ہمارے نزدیک باغی قرار پانا ”فرار“ ہونے سے اچھا ہے۔ صد شکر کہ ہمارے والدین کے پاس وقت بھی تھا اور جوتا بھی۔ آج کل کی تھکی ماندی مائیں اور بیزار باپ بچوں سے کیا مکالمہ کریں گے؟ اس سوشل میڈیا نے جہاں بچوں کو آزادی دی ہے وہاں والدین کو بھی کم خراب نہیں کیا۔ جو وقت ضروری کاموں سے بچتا ہے ہے وہ ٹویٹر، فیس بک، واٹس ایپ کی نظر ہوتا ہے۔ اس سب میں بچے کب نظر انداز ہو جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔ خبر ہوتی ہے تو تب جب پانی سر پر سے گزر جاتا ہے۔

یہ مسائل آج کے دور کے پیدا کردہ نہیں ہیں نا ہی ان کی وجہ فقط ٹیکنالوجی ہے۔ مسائل وہی پرانے ہیں کہ محبت تو ہمیشہ سے اندھی ہوتی ہے اور چاہے جانے کی چاہ کا تعلق کسی بھی عمر سے نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئے دن اخبار میں کئی بچوں کے والدین کی آشنا کے ساتھ فرار کی خبریں دکھائی نا دیتیں۔ عشق کا بھوت سوار ہو تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ عمر چودہ ہے یا چالیس۔ ٹیکنالوجی نہیں تھی تو تب بھی یہ سب تھا، کمی کہاں ہے تربیت میں یا تعلیم میں، یہ ہمیں تلاش کرنا ہے۔

اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا وقت نکالیں، ان کو صحت مند اور جسمانی سر گرمیوں میں مصروف رکھیں۔ چھٹی کے دن ان کی پسند کا ڈرامہ یا فلم دیکھیں ان کے ساتھ بیٹھ کر۔ رات کو سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر ان سے پورے دن کی روداد سنیں۔ اگر ممکن ہو تو دن بھر کیے گئے اچھے اور برے کام کی تفصیل پوچھیں تاکہ اندازہ ہو کہ آپ کے بچوں میں اچھائی اور برائی کا تصور کیا ہے؟ ان کو اچھے اور برے میں فرق بتائیں۔ اور ان کی اچھائی کی کھل کر تعریف کریں۔ دن رات اپنی محبت کا اظہار کریں اور بتائیں کہ وہ آپ کے لئے کتنے ”قیمتی“ ہیں۔ آپ کا دیا گیا آج کا وقت آپ کو آنے والے برے وقت سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ ہم سب کی اولاد کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

Facebook Comments HS