حساسیت اور شعور کی مثال” تمثیل حفصہ“


ابتدا میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس مضمون کا انداز بھی عام مضامین کے اسالیب سے مختلف ہے۔ اس مضمون میں فن مصوری کے شعبے سے منسلک ایک اہم اور حاذق شخصیت کا ذکر موجود ہے۔ ایک مضمون میں مصور کی پیدائش، تعلیمی قابلیت اور کاوشوں کو موضوع بنایا جاتا ہے مگر ہم اس مصور کی تخلیقی کاوشوں اور اضطرار پر ژرف نگاہ سے تعلیل پر غور کریں گے۔

تمثیل حفصہ فن مصوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے فن پارے گوگل، فیس بک اور مختلف آرٹ گیلریز میں زینت کے مظہر ہیں۔ تمثیل حفصہ کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ سرکاری ملازمت سے وابستہ ہیں۔ ان کی ملازمت ان کے شوق کے مطابق ان کے شعبے میں ہے اور ان کی انتھک محنت ان کو آج اس مقام پر لے آئی کہ وہ کم عمری میں انیسویں گریڈ کی افسر ہیں۔

تمثیل حفصہ کے فن پاروں پر اگر تعمق سے تعلیل کا سہارا لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے ان کے فن پارے وجودیت کی درس گاہ ہیں۔ اس مصور کے فن پارے اپنے مداحوں کو مختلف سیاق فراہم کرتے ہیں مع فن پارے وجودیت کے اسباق کو اپنا موضوع خاص بناتے نظر آتے ہیں۔ تمثیل حفصہ جہاں ایک خاموش طبعیت اور پرسکون مزاج کی حامل ہیں وہیں ان کا مشاہدہ غیر معمولی طور پر دل و دماغ کی نشو و نما میں مصروف نظر آتا ہے۔ وجودیت اور زندگی پر بحث ان کے فن پاروں میں براہ راست یا مع تصریحات خوب صورت انداز میں نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ رئیل ازم اور ایبسٹریکشن پر مبنی پینٹنگز ایک تحریک کی پاسداری کر رہی ہوں جس کی نمائندہ تمثیل حفصہ ہیں۔ تمثیل حفصہ کے لیے یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ وہ شاعری کی زبان میں مصوری اور مجسمہ سازی کرتی ہیں، اسی طرح وہ مصوری اور ایبسریکٹ آرٹ کی زبان میں شاعری کرتی بھی کرتی نظر آتی ہیں۔

تمثیل حفصہ رنگوں کو کینوس اور کاغذ پر منظوم کرتی ہیں۔ ان کے رنگ کینوس اور کاغذ پر پھیلتے ہی ایک نظم کی مانند لوگوں کی سماعت و بصارت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ رنگوں کی تکنیک اور فن پارے کا موضوع ان کی پینٹنگز کو مداحوں کی نظر میں ایک مقام دلا دیتا ہے۔ تمثیل حفصہ کے فن پارے پاکستان کے مختلف شہروں میں آرٹ لورز کے گھروں کی دیواروں کو عزت بخشتے نظر آتے ہیں۔ تمثیل حفصہ مختلف سبجیکٹس کو اپنے فن پاروں میں موضوع گفتگو بناتی نظر آتی ہیں۔ ادبی حلقے اور آرٹ لورز تمثیل حفصہ کے فن پاروں پر استدلال کرتے ہوئے ان کو جدید دور میں وجودیت کا علمبردار بتاتے ہیں۔

اگر اس مصور کی پینٹنگز پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا کہ ایک فن پارے کو بناتے ہوئے وہ کس قدر استغراق اور استشہاد کو ملحوظ رکھتی ہوں گی۔ آج جہاں ڈیجیٹل ورلڈ نے مصوری کو نیا رخ دیا ہے وہیں تمثیل حفصہ مصوری کی روایات کا پاس رکھتے ہوئے جدید دور میں اس شعبے کی سپاہی ہیں۔

الغرض ان کا اس شعبے سے تعلق غیر معمولی مصوروں کی فہرست میں آتا ہے۔ تمثیل حفصہ سرکاری سطح پر خود کو مصوری کے شعبے میں مسند افتاء منوا چکی ہیں۔ ان کے فن پارے تکنیک، پیغام، رنگوں کا استعمال، روایت، جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک پورا نظام اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کی پینٹنگز میں سے صرف ایک پینٹنگ کو دیکھنا جہاں مبصر کو حیران کرتا ہے وہیں متعدد فن پاروں سے دل جوئی اختیار کرنے سے ان کے فن پارے ایک مخفی دنیا کی مانند پیش رفت کرتے معلوم ہوتے ہیں جس کی افتاد انسان کے لاشعور کے محروسہ ہے۔ ایک مصور جب آج کے دور جدید میں اس شعبے سے منسلک ہوتا ہے تو اس کے پاس روایات تو ہوتی ہیں مگر اسلوب اور تکنیک نہیں۔ تمثیل حفصہ خاص کر تکنیک، پیغام، روایات اور جدت کو اپنا موضوع بناتی ہیں جس کی وجہ سے ان کو بہترین استاذ کا درجہ بھی ملنا کوئی دشوار نہیں۔

تمثیل حفصہ کی مصوری کا پیغام لامعنویت سے حقیقت کا سفر معلوم ہوتا ہے۔ وہ لاشعوری طور پر اپنے موضوع کو اپنا مشغلہ بنائے مستقل اشتعال میں نظر آتی ہیں۔ ان کی شخصیت میں شتابی کا ایک عنصر ان کا تخلیقی اضطرار ہے جس کو وہ وقت کی قلت کا شکار پاتی ہیں۔ یونیورسٹی میں ان کی خدمات اور انیسویں گریڈ کے افسر ہونے کی وجہ ان کا جذبہ اور شعار ہے جس نے بہ آسانی ان کے راستے کی رکاوٹوں کو مسئلہ نہیں بننے دیا۔

سرکاری سطح پر تمثیل حفصہ جیسے مصور کو ذمہ داریاں سونپنا چاہیے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر فائن آرٹس میں پاکستان کو بے حد درجہ دلاتے ہوئے بناتے آنے والی نسلوں کو مواقع فراہم کریں۔ تمثیل حفصہ کے فن پارے قدیم ویسٹرن آرٹسٹس کی ہلکی پھلکی جھلک دیتے ہیں مگر ان کا زاویہ ان کے فن پاروں میں مشرقیت کو بھرپور کر دیتا ہے۔

پاکستان میں آج بھی مصوری کے شعبے کو مغربی آرٹ سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں کمی نظر آتی ہے۔ تمثیل حفصہ جیسے مصوروں کی بدولت بین الا اقوامی سطح پر پاکستان میں موجود موجود مصوروں کی سنوائی ممکن ہوتی ہے۔ تمثیل حفصہ کا تعلق چونکہ سرکاری ملازمت سے ہے تو وہ اور بھرپور انداز میں بہ چشم سر فائن آرٹس کے شعبے کی پذیرائی ممکن بنا سکتی ہیں۔ ان کے اپنے فن پارے جستہ جستہ بین الاقوامی سطح پر مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ تمثیل حفصہ کی بتدریج ترقی اور ان کا تخلیقی سفر اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنے جذبے اور شوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اگر ان کے فن پارے دیکھے جائیں تو آرٹ کریٹک ان پر گھنٹوں تاویلات و توجیہات کے ذریعے ان میں موجود اقدام کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

تمثیل حفصہ کا تعلق مصوری میں ادب برائے ادب سے ہے لیکن ان کا خاصا فلسفے کو اپنے فن پاروں میں جگہ فراہم کرنا ہے۔ آج تکنیکی دور میں جہاں فلسفے کو اتنی اہمیت حامل نہیں وہیں تمثیل حفصہ نے فلسفے کو اپنی پینٹنگز اور تخلیقی کاوشوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام کیا۔ آئیڈیل ازم، ریشنل ازم، ایکسسٹینشلزم ان کے فن پاروں میں موجود ہے اور ایک فلسفی بہ آسانی تمثیل حفصہ کے فن پاروں میں متحرک فلسفے پر گفتنی کا پابند ہو سکتا ہے۔

آج کے دور میں پاکستان میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مصور اور اس شعبے سے تعلق رکھنے والے استاد بین الاقوامی سطح پر ایسا ربط پیدا کریں کہ نسل نو کے اس شعبے میں آتے ہوئے خوفزدگی اور اشتباہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تمثیل حفصہ اسی منشور کی نمائندگی کرتے ہوئے آٹھ پہر اپنے آپ کو معاشرے کے لیے ودیعت کرچکی ہیں۔ ان کی محنت، ان کا جذبہ پاکستان اور پاکستان سے باہر شایع ہونے والے جریدوں میں بھی نمایاں طور پر آشکارا ہے۔

الغرض اور الامر یہ کہنا درست ہو گا کہ تمثیل حفصہ نہ ایک اچھی مصور ہیں بلکہ فلسفے، ادب اور فائن آرٹس کی مختلف شاخوں سے متعلقہ ہیں۔ ایک مکمل آرٹسٹ تمثیل حفصہ اگر اس رفتار سے کام کرتی چلی گئیں اور اپنے فن پاروں میں موضوعات کا اضافہ کرتی رہیں تو ان کا نام تاریخ میں سفر کرتا نظر آئے گا۔ ان کے نام کے سفر سے نہ فائن آرٹس کے شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ پاکستان میں فائن آرٹس اور مصوری کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعارف کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

Facebook Comments HS