کراچی میں پی ٹی وی ملازم کے بھائی کی جبری گمشدگی: ’انھوں نے سو روپیا بھی دیا کہ آٹو کرلینا‘

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


کراچی
جمعرات کی صبح ولید بلوچ سحری کے بعد سوئے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ دن ان کے خاندان پر بھاری گزرے گا۔

صبح چھ بجے ولید بلوچ کو، جو کراچی میں پاکستان ہاوسنگ سوسائٹی قائد آباد ملیر کے رہائشی اور پی ٹی وی میں پروڈیوسر ہیں، ان کے بھائی نے جگا کر بتایا کہ کچھ لوگ ان کے گھر کی تلاشی لینا چاہ رہے ہیں۔

ولید بلوچ کا تعلق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر تربت سے ہے۔

’صبح چھ بجے کا وقت تھا۔ بھائی نے جگا کر کہا کہ کچھ لوگ پڑوسی کے گھر کی تلاشی لے رہے ہیں۔ ہمارے گھر کی بھی تلاشی لینا چاہتے ہیں۔ آپ اٹھ کر شناکٹی کارڈ نکالیں اور اپنا تعارف کروائیں۔‘

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ولید بلوچ اور ان کے بھائی کو پولیس اور سول کپڑوں میں اہلکار اٹھا کر لے گئے۔ ولید بلوچ کو کچھ دیر بعد چھوڑ دیا گیا لیکن ان کے بھائی کے بارے میں ان کو کچھ نہیں بتایا گیا اور وہ اب تک لاپتہ ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کی صبح ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پیش آیا ہے جس سے متعلقہ تھانے کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ لطیف تھانے کے ایس ایچ او ممتاز مروت کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ’گمشدگی کا وائرلیس پیغام بھی چلایا ہے۔‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس واقعے میں پولیس موبائل موجود تھی تو انھوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ لاعلم ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ چھاپہ کراچی یونیورسٹی میں دھماکے کے سلسلے میں مارا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔

’چہرے ڈھکے ہوئے تھے، صرف آنکھیں اور ہونٹ نظر آرہے تھے‘

پولیس

ولید بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تفصیلات بتائیں۔

’میں کمرے سے نکلا تو دیکھا باہر لوگ کھڑے ہیں۔ ایک نے مجھے کہا کہ آپ کا شناختی کارڈ کدھر ہے؟ میں نے کمرے سے لاکر دیا، اس کے بعد موبائل فون کا پوچھا۔ میں نے وہ بھی حوالے کر دیا۔

انھوں نے اس کا لاک کھولنے کے لیے کہا۔ ان کے ساتھ ایک بندہ تھا جس کے ہاتھ میں کوئی ڈیوائس تھی۔ انھوں نے کہا کہ نمبر بتائیں۔ جب نمبر بتایا تو اس بندے نے ڈیوائیس والے سے پوچھا کہ کیا یہی نمبر ہے۔ اس کے بعد میں نے ان کو پی ٹی وی کا ملازمت کا کارڈ دکھایا تو انھوں نے غصہ کیا اور کہا کہ اس کو چھوڑیں، بس شناختی کارڈ ہی دکھائیں۔‘

ولید بلوچ نے بتایا کہ ’ایک اہلکار نے مجھے سائیڈ پر لے جا کر پوچھا کہ یہاں کب سے مقیم ہو اور پی ٹی وی میں کب سے ملازم ہو۔ اس قسم کے سوالات کیے انھوں نے، ایک نام لیا، پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو نہیں جانتا۔ جو دو بھائی موجود تھے، ان کے بھی شناختی کارڈ اور موبائل فون لے لیے۔‘

ولید بلوچ کے مطابق ’گھر کی خواتین کو سمجھانے کے لیے ایک بھائی اوپر رکا جبکہ میں اور چھوٹا بھائی سعید نیچے اتر گئے۔ اس کو انھوں نے ایک گاڑی میں بٹھا دیا اور مجھے دوسری گاڑی میں بٹھایا، جو پولیس کی تھی۔‘

جیسے ہی گاڑی چلی تو ولید بلوچ کے چہرے پر کپڑا ڈال دیا گیا، جو ان کے مطابق ’سول ڈریس میں ملبوس اہلکار نے کیا جنہوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہنی ہوئیں تھیں اور ان پر پولیس کا لفظ تحریر تھا۔‘

’ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ صرف آنکھیں اور ہونٹ نظر آرہے تھے۔ جو افسران تھے ان میں سے ایک دو نے سرجیکل ماسک پہن رکھا تھا جبکہ دو بغیر ماسک کے تھے۔ انھوں نے گھر کی تلاشی لی، پھر گاڑیاں چلیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈیرہ غازی خان: غازی یونیورسٹی نے آٹھ بلوچ طلبا کو یونیورسٹی سے کیوں نکالا؟

شاری بلوچ کے اہلخانہ کو اب بھی لگتا ہے ’جیسے یہ کوئی بُرا خواب ہے‘

ڈیرہ غازی خان: غازی یونیورسٹی نے آٹھ بلوچ طلبا کو یونیورسٹی سے کیوں نکالا؟

’انھوں نے سو روپیہ بھی تھما دیا کہ آٹو کر لینا‘

ولید بلوچ بتاتے ہیں کہ ان کو محسوس ہوا ’جیسے ملیر ندی کا پل کراس کر رہے ہیں۔ بعد میں ایک اور گاڑی میں بٹھا دیا۔ ساتھ میں سیاہ شیشوں والی دو بڑی گاڑیاں بھی تھیں جن میں ان کے افسران سوار تھے۔ گاڑیاں ایک جگہ رکیں، شاید کوئی گلی تھی، کسی گھر پر چھاپے اور دروازوں پر لاتیں مارنے کی آوازیں آئیں۔‘

’ساتھ میں عورتوں کی بھی آوازیں آنے لگیں۔ اس کے بعد قریب جو مسجد تھی اس میں سے بھی لوگ نکل رہے تھے۔‘

’ہم سڑک پر آ گئے۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد ایک بندہ آیا جس نے پوچھا کہ ٹی وی والے کیا آپ ہو۔ میں نے کہا کہ ہاں میں ہوں۔ اس نے سامان کا پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے پاس ہے۔ پھر گاڑی آگے چلی جس کے بعد دوبارہ رکی۔‘

’یہ سندھ پولیس کی گرے رنگ کی دو موبائلیں تھیں۔ ایک بندہ آیا جس نے اہلکاروں کو کہا کہ اس کو اتارو۔ اس کے بعد اس نے کہا یہ لو اپنا شناختی کارڈ اور موبائل فون میرے حوالے کیا۔ میں نے پوچھا کہ میرا بھائی کدھر ہے تو اس نے کہا کہ آپ گھر چلے جاؤ، ہم نے آپ کو چھوڑ دیا ہے۔‘

’ساتھ میں انھوں نے ایک سو روپیہ بھی تھما دیا کہ آٹو کر لینا۔ یہ ڈرگ روڈ کا علاقہ تھا۔ میں نے آٹو لیا اور گھر پہنچ گیا۔ میں نے پوچھا کہ بھائی آیا ہے تو انھوں نے کہا کہ نہیں۔‘

’بھائی نے دبئی جانا تھا‘

ان کے مطابق پانچ سال قبل ان کا بھائی سعید تعلیم حاصل کرنے کے لیے روس گیا تھا اور گزشتہ سال ستمبر میں ہی پاکستان واپس آیا تھا۔

’عید کے بعد اس کو ملازمت کی تلاش میں دبئی جانا تھا، جس کے ٹکٹ کے لیے ٹریول ایجنٹ سے رابطے میں بھی تھا۔‘

ولید بلوچ کہتے ہیں کہ ان کا اور ان کے بھائی کا کسی سیاسی تنظیم یا شخصیت سے تعلق نہیں رہا۔ ’اگر سعید کسی سیاسی سرگرمی میں ہوتا تو وہ وہاں سیاسی پناہ بھی لے سکتا تھا۔ اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تو حال ہی میں نیا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوایا ہے۔‘

ولید بلوچ نے شاہ لطیف تھانے میں درخواست جمع کرانے کے ساتھ چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ، آئی جی سندھ پولیس اور ڈی جی رینجرز کو بھی درخواست بھیجی ہے۔

کراچی سے بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے جن میں زیادہ تر طالب علم ہیں۔ ان کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں بھی آئینی درخواستیں دائر ہیں جہاں ماضی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے گمشدگی کے واقعات سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض بلوچ طالب علم پہلے سے ہی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24046 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments