کیا تحریک عدم اعتماد نے تحریک انصاف کو پراعتماد کیا ہے؟
پاکستان کی سیاسی صورتحال دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا محال ہے کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا حکومت پہ وار تھا یا خود پہ؟ بحر حال کس کی گیند تھی کس نے پھینکی، کس کے حکم پر پھینکی اور کون ہوا حقیقی معنی میں مستفید یہ تو وقت بتائے گا پر فی الحال محو گردش تارے، بلکہ سارے کے سارے ستارے ہی سابقہ وزیر اعظم عمران خان کے سنگ نظر آرہے ہیں۔
ایک کال پر لاکھوں کا ہجوم، عوام کا سو موٹو، اور سرعام اداروں کی کریڈبیلٹی پر شک۔ یہ کیا ہوا؟ پاکستانی عوام کب سے اتنی باشعور بن گئی؟ اور ہاں یہ لوگ تو سوال بھی نہیں کرتے کہ ”اسے کیوں نکالا“ ؟ پھر کیا انہیں معلوم ہے کہ اسے کیوں نکالا؟ بہت سارے سوالات کے گچھے اور سیاسی کشمکش میں یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے۔
ایک جمہوری ملک، جہاں ایک مخصوص سیاسی پارٹی نے صدیوں سے ایک ہی منجن بیچا ہے کہ
”طاقت کا سر چشمہ عوام ہے“ اس نے کیسے یہ کر دیا کہ اتنے سارے سرچشموں کو لگے ہاتھ گنوا دیا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ پبلک لاعلم ہے اور بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہے پر پھر بھی اس کا سڑکوں پہ نکلنا اور ایک قوم بن جانا، ان کا محاذ پر ڈٹ جانا اپوزیشن کے لیے لمحہ فکریہ تو ہے اور یہ کہنا ناجائز نہیں ہو گا کہ عوام نے اس عدم اعتماد کی گنگا کو الٹا جاتی امرا تک بہا دیا ہے۔ اس الجھی ہوئی کہانی میں بھلے یہ معلوم نہ ہو کہ کس کی گیند تھی اور کس نے کس کے حکم پر پھینکی البتہ یہ ضرور واضح ہو گیا ہے کہ اپوزیشن نے جلدی جلدی ساری گیم ختم کرنے کے چکر میں کیپٹن کو مین آف دی میچ بنایا اور خود کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس بات سے اتفاق ہے کہ "کرسی ہے ان کی کوئی جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے” لیکن اترنے بھی تو دیا جاتا نا! یہ جو سازش عرف مداخلت کے تحت اتارا گیا ہے یہ ایسے ہے جیسے اتار کر پھر بٹھانے کا موقع فراہم کرنا۔
بلاول بھٹو کو انکار ناپسند ہے۔ ”ایبسولوٹلی ناٹ“ اگر عمران خان بولے تو ایک دم نواز شریف کے کارکن شیخ رشید کا بینظیر بھٹو کو ”پیلی ٹیکسی“ کہنے والا دور بھلا کر اپوزیشن گروپ بنا دیا جاتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر چاہ کر بھی سیاست نہیں کی جا سکتی پر شاید یہاں اقتدار حاوی ہو گیا ہے یا پھر زرداری بھاری! خیر وہی ”ایبسولوٹلی ناٹ“ اگر ناظم جوکھیو بولے تو اپنے ”لا میکرز“ کے خونی ہاتھ دھلوا کر آف تک نہیں کی جاتی۔ ناظم کے لیے ان کا نظام کیوں کام نہیں کرتا؟ عدم اعتماد میں اتنا مگن ہو گئے کہ آپ نے بی بی کے جیالے اور ایک طاقت کے سر چشمے کو گنوا دیا مگر کسی کو کوئی فرق نہیں پرتا آپ تو سلیکٹڈ وزیراعظم کو ہٹانے کے بعد خود لندن گئے تھے تاکہ مذاکرات کر کے خود ”سلیکٹڈ“ وزیر خارجہ بنا جا سکے۔
مورخ سے قلم چھین لو، کیونکہ مورخ ضرور لکھے گا کہ اس ملک میں آدھی رات کو عدالت صرف ایک بیل پر فرار مجرم کو وزیر اعظم بنانے کے لیے کھولی گئی اور عدالت میں پیشی والا دن ملتوی کر دیا جاتا ہے کیونکہ مجرم وزیر اعظم کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور یہ اسی ملک کی عدالتیں ہیں جہاں عام آدمی کو عمر قید کی سزا پوری کرنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ پر کوئی جرم نہیں اور جہاں کتنے بے گناہ پھانسی گھاٹ کے منتظر ہیں۔ اس اندھیر نگری کے خلاف بولنے والے اقرار کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، کہ ”ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے، ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے“ تو پھر آپ چاہے انہیں ”یہودی سازش“ کہیں یا یہ کہ اس پر بات کرنے والے ”آزاد صحافی“ نہیں۔ ایک نجی چینل کو ایک ماہ سے بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو کوریج نہ دیں بھلا کیا راز چھپانا چاہتے ہو؟ کیا عدم اعتماد کامیاب کروا کر کوئی غلطی ہو گئی ہے؟ ایک چینل خریدا گیا ہے اور میاں صاحب کو پسند کی خبریں دکھائی جا رہی ہیں تو بس پھر بے خوف جیو، میاں صاحب کی طبعیت ناساز نہیں ہوگی۔
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے،
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
غلامی کو برکت سمجھنے لگے،
اسیروں کو ایسی رہائی نہ دے
اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلی باری عدم اعتماد لانے والوں کی آتی ہے یا سہنے والوں کی۔ جس طرح چلاکی سے نون لیگ کے گلے میں ڈھول ڈال کر ڈالروں کی ریل پیل کی گئی اس سے کھیل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آج کل تو سیاست کو مذہب کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے اور سعودی تک چرچے ہیں۔ یہ کھیل جلدی ختم کرنا ہو گا ورنہ یہ پاکستان کے لیے ایک لمبی غم کی شام بن چکا ہے جو معاشی بدحالی میں سری لنکا سے کسی صورت مختلف نہیں کیونکہ ہر طرح سے بس جھنڈے تبدیل ہوتے ہیں حالات وہی رہتے ہیں۔ اگلا الیکشن اہم ہو گا جو یقیناً اس گند کے سب راز افشاں کر دے گا کہ اقتدار کے لیے عوام سے دشمنی مہنگا سودا ہے یا سستا؟


